کس طرح وہاٹس ایپ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں

کس طرح وہاٹس ایپ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں

وہاٹس ایپ ایک جدید ایپ ہے جسے انٹر نیٹ کے ذریعے استمال کیا جاتا ہے ، اس سے یہ آسانی ہو گئی ہے کہ دور دراز پردیس میں رہنے والوں سے بہ آسانی پیغام رسانی ، زبانی گفتگو (آڈیو کالنگ ) رو برو گفتگو( ویڈیو کالنگ) کی جا سکتی ہے ۔ بہت سے فائدے ہیں اس کے ، مگر اسی کے ساتھ بہت سے نقصانات بھی ہیں ۔ آئیے ہم جائزہ لیں کہ اس کے فائدے زیادہ ہیں یا نقصان؟
اگرچہ ابھی اس کے فائدے یا نقصانات کے تعلق سی کوئی تحقیقی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے ، مگر ذاتی تجربے اور رشتہ دار و احباب سے اس تعلق سے کی گئی گفتگو کے نتیجے میں جو نتائج سامنے آئے ہیں ، اس کے مطابق یہ مضمون ضبط تحریر میں آیا ہے ۔ قارئین کی خدمت میں بطور خاص ۔
موبائل فون اب عام ہو چکا ہے ، اسمارٹ فون ، اینڈرائڈ اور آئی فون استعما ل کرنے والے بہت سے ایپ ڈاون لوڈ کر کے اس سے کچھ زیادہ ہی فیض یاب ہوتے ہیں ۔ فون ایجاد ہوا تھا ، گفتگو کرنے ، مگر اب یہ گھڑی ، ٹارچ، ویڈیو گیم ۔ ویڈیو کالنگ، کے علاوہ ٹی وی بھی ہے ، یہی نہیں  گوگل اور یو ٹیوب کے ذریعے دنیا جہاں کی معلوما ت اور ریکارڈ حاصل کر سکتے ہیں ۔ اسے کہتے ہیں دنیا مٹھی میں ، واقعی موبائل کی شکل میں دنیا سمٹ کر مٹھی میں آ گئی ہے ۔
بات شروع کی تھی ہم نے وہاٹس ایپ کی ، وہاٹس ایپ نے لوگوں کے ذہن کو اپنا عادی بنا دیا ہے ، کچھ لوگ ایسے ہو گئے ہیں کہ صبح جاگتے ہی وہاٹس ایپ چیک کرتے ہیں اور پھر اسی میں اس طرح مصروف ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ لوگ نشے کی طرح اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور اپنا قیمتی سرمایہ وقت گنوا رہے ہیں ۔
کچھ لوگوں کو عادت ہو تی ہے کہ ہر مسیج ، آڈیو یا ویڈیو کو اپنے تمام دوستوں کو فارورڈ کرتے ہیں ، اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہر شخص ان کے جیسا فری نہیں بیٹھا ہے ، یا پھر اس طرح ویڈیو فارورڈ کرنے سے کسی کا موبائل ہینگ ہو سکتا ہے اور اس صورت میں اس کی ضروری کال رک سکتی ہے ۔
کچھ لوگ وہاٹس ایپ گروپ بناتے ہیں اور بغیر اجازت اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو گروپ میں شامل کر لیتے ہیں ، اس طرح گروپ میں شامل ڈھائی سو افراد اگر دن میں دس دس مسیج بھی بھیجیں ، تو ڈھائی ہزار مسیج ہو جاتے ہیں ، اب آپ اپنے موبائل کو ہینگ ہونے سے بچاتے رہیے ۔
کچھ لوگ گروپ میں ایسی بحث چھیڑ دیتے ہیں کہ حساس طبیعت کا انسان جواب دیے بغیر نہیں رہ سکتا اور کبھی کبھی یہ بحث آپسی اختلاف یا ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے ۔
اکثر تعلیم یافتہ مہذب اور مصروف افراد ، جنہیں وقت کی قدر ہوتی ہے ، اپنے وہاٹس ایپ میں الرٹ ٹون نہیں رکھتے ، کیونکہ جب بھی وہاٹس ایپ پر کوئی مسیج ، ویڈیو آئے گا ، تو بیل بجنے سے تجسس پیدا ہوگا اور اسے فوراً دیکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔ جب کسی مسیج یا ویڈیو پر نظر پڑتی ہے ، تو عام طور سے لوگ اس پر اپنا تبصرہ درج کرتے ہیں یا فارورڈ کرتے ہیں ، دونوں صورتوں میں افراد اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاٹس ایپ الرٹ ٹون نہیں رکھنا چاہیے ۔ جسے کوئی اہم پیغام دینا ہوگا ، ضرور فون کر لے گا۔
مہذب اور مصروف ترین افراد کسی بھی وہاٹس ایپ گروپ میں ممبر بننا پسند نہیں کرتے ۔اگر کوئی انہیں بغیر اجازت گروپ میں شامل کر لے ، تو وہ خود کو گروپ سے علاحدہ کر لیتے ہیں ۔
وہاٹس کا گروپ بنانے سے بہتر ہوتا ہے ، براڈ کاسٹ لسٹ بنانا ، اس طرح بہت ہی اہم یا خاص اطلاع براڈ کاسٹ گروپ پر براڈ کاسٹ کی جا سکتی ہے ، جسے چاہے وہ اسے فارورڈ کرے یا نہ کرے ، تبصرہ (کمنٹ) بھی کرے ، تو پورے گروپ کو اس کا علم نہیں ہوگا ، صرف گروپ بنانے والے ہی کو اس کا علم ہوگا۔
اکثر بلا تصدیق و تحقیق خبریں وہاٹس ایپ پر پھیلائی جاتی ہیں ، کسی کی بھی تصویر نشر کی جاتی ہے ، گزشتہ دنوں وہاٹس ایپ پر کسی کی تصویر اور پیغام نشر کرنے کی وجہ سے لوگوں کی بھیڑ نے ایک شخص کو ’’ بچہ چور ‘‘ ہونے کے شبہ میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ، ہندستان کی مختلف ریاستوں میں ایسے ہی کئی حادثات وہاٹس ایپ پرپھلائے گئے غلاط پیغامات کی وجہ سے ہو چکے ہیں ۔
اکثر کچھ ایسے مسیج بھی لوگ بھیجتے ہیں کہ اگر اس مسیج کو فارورڈ کروگے تو فائدہ ہوگا اور نہیں فارورڈ کروگے تو چوبیس گھنٹے میں بڑا نقصان ہوگا ۔
اکثر حکومت کی نا اہلی اور خامیوں پر بھی لوگ وہاٹس ایپ پر تحریک چلاتے دکھائی دیتے ہیں ، ’’ اس مسیج کو اتناپھیلاؤ کہ حکومت تک پہنچ جائے ۔‘‘ –
وہاٹس ایپ سے بہت سارے سنجیدہ لوگوں کا بھی بہت وقت برباد ہو رہا ہے ، ان کی سوچنے اور کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے،اگر یہ سوچ ہے کہ واقعی مختلف گروپس میں رہنے کی وجہ سے اپنےوقت کا ٹھیک استعمال نہیں کر پا رہے تو انتظار نہ کریں کہ کوئی آکر آپ کو مشورہ دے گا اور آپ اس کے بعد خود کو گروپ سے خارج کر دیں گے ، فوراً خود کو گروپ سے خارج کر لیجیے ۔
دوسرے سوشل میڈیا زیادہ بہتر متبادل ہیں،یہاں ہم خیال لوگوں کا ایک ای میل گروپ بنا کر بھی بات چیت کی جاسکتی ہے،جو زیادہ بہتر ہو سکتا ہے اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کیا جا سکتا ہے ۔ وقت ملنے پر وہ ای میل پڑ ھ کر تفصیلی جواب لکھا جا سکتا ہے۔ – اہم تعلیمی اور سماجی ادارے ویب سائٹ پر فورم بناتے ہیں کہ مختلف موضوعات پر مختلف شعبوں کے ماہرین کی رائے بھی آجائے اور وہ مستقبل میں دوبارہ لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو ۔
بہت سارے مختلف مزاج اور مختلف شوق رکھنے والوں کو زبردستی اپنی مرضی سے ایک گروپ میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی دڑ بے میں مختلف نسل کے لڑاکا مرغوں کو جمع کر لینا۔ نتیجہ یہی ہوگاکہ وہ لڑے بغیر اور ایک دوسرے کو زخمی کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ گروپ کے کتنے ہی اچھے اور سخت اصول و ضوابط کیوں نہ ہوں ، اکثر یہ صورت حال ہوتی ہے ۔
جب سے وہاٹس ایپ وجود میں آیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں میں غصہ اور چڑچڑا پن زیادہ پایا جانے لگا ہے۔بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی فرد کو کسی ایسے گروپ میں رہنے کو اور بات چیت کرنے پر مجبور کیا جائے جہاں لوگ نہ اسکو سمجھ سکتے ہیں اور نہ وہ لوگوں کو سمجھا کر اپنی ذہنی سطح پر لا سکتا ہو ، تو غصہ تو آنا ہی ہے … ہمیشہ ہم خیال، ہم مزاج لوگوں کے ساتھ ہی اطمینان حاصل ہو سکتا ہے ۔
وہاٹس ایپ کے اس چنگل سے آزاد ہونے کے چند طریقے درج ذیل ہیں ۔
اول اور سب سے اہم ہاٹس ایپ ہی کو اپنے موبائل سے خار کر دیجیے ۔
دوسرے یہ کہ وہاٹس لازمی ضرورت ہے تو نوٹیفکیشن کو معطل کر دیں، کسی بھی موبائل ایپ کے نوٹیفیکشن کو بند کیا جا سکتا ہے۔کسی نئے پیغام پر فوری وہاٹس ایپ کھول کر پڑھنے کی عادت ختم کریں، یہ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ ارجنٹ ہرگز نہیں ہو گا کیونکہ اگر بہت اہم بات ہو تو ، فون آ سکتا ہے ، – ایسا کرنے سے عادت ہو جائے گی وہاٹس ایپ پر کنٹرول کرنے کی ،وہاٹس ایپ انسان پہ حاوی ہونے کے لیے نہیں ہے، انسان اسے اپنے قابو میں رکھے اور اس پر حاوی رہے ۔
موبائل ، انٹر نیٹ اور وقت کا صحیح اور مثبت استعمال کر کے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ یہ انسان کے لیے مفید نہیں ، نہ کہ غلاط استعمال سے تمام انسانیت کے لیے اذیت کا سامان بنا دیا جائے ۔ وہاٹس ایپ ایک ایپ ہے اسے کم استعمال کر کے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کیجیے ۔ یہ نہیں کہ صبح اٹھتے ہی ایک ہزار لوگوں کو ’’ گڈ مارننگ ‘‘ اور رات ہوتے ہیں ’’گڈ نائٹ‘‘۔
اگر یہ تحریر آپ کو پسند آئے ، تو ہمارے فیس بک پیج پر ضرور لائک اور شیئر کیجیے ، اس سے اوروں تک یہ معلومات پہنچانے میں آسانی ہوگی ۔

شیریں  دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com