ہفتے کے بازار سے شاپنگ مال تک , ہم اپنا نقصان کس طرح کرتے ہیں

ہفتے کے بازار سے شاپنگ مال تک
ہم اپنا نقصان کس طرح کرتے ہیں

 

ایک وقت تھا ، جب گاؤں ، دیہاتوں میں اور چھوٹے شہروں میں ہفتے کا بازار لگتا تھا ، دور دراز سے تاجر اپنا سامان لے کر وہاں پہنچتے تھے ۔ کسان اپنے کھیتوں کا اناج ، سبزی ترکاری اور مختلف قسم کے پھل ان ہی بازاروں میں لے آتے تھے ۔ ہفتے کا بازار کسی گاؤں ، دیہات یا شہر میں کسی کھلی جگہ پر لگایا جاتا تھا ۔ ان بازاروں میں اناج ، سبزی ترکاری ، پھل اور کھانے پینے کے سامان کے علاوہ زندگی کی ضروریات کی ہر چیز مل جایا کرتی تھی ، خواہ وہ برتن ، کپڑے ہوں یا سوئی ہی کیوں نہ ہو۔صبح ہی سے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہونے لگتی تھی اور شام ہوتے ہوتے لوگ خریداری کرکے اپنے گھروں کو لوٹتےتھے تاجر اور کسان اپنا مال فروخت کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے ۔ زندگی خوش حال تھی ، کسان خودکشی نہیں کر رہےتھے اور لوگ بے روزگار نہیں تھے ۔
جب دھیرے دھیرے گاؤں میں شہر داخل ہونے لگے ، یعنی گاؤں کی ترقی ہونے لگی ، آبادی بڑھنے لگی ، تو شہروں کی طرح گاؤں میں بھی دوکانیں کھلنے لگیں اور لوگوں کو اپنی ضروریات کے سامان روزانہ اپنے علاقے ہی میں ملنے لگے ۔ معاملہ یہاں تک ٹھیک ہی نہیں بہتر رہا کہ اس طرح لوگ چھوٹی چھوٹی پرچون کی دوکانیں کھول کر اپنی روزی کا ذریعہ پیدا کر رہے تھے ۔ کسانوں سے مال اٹھانے والے ہول سیلر کچھ منافع رکھ کے ڈسٹری بیوٹر کو مال سپلائی کرتے اور ڈسٹری بیوٹرکچھ منافع رکھ کر دوکانداروں کو اس کے بعد دوکاندار کچھ منافع کے ساتھ اپنے علاقے کے لوگوں کو مال فروخت کیا کرتے ۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ مال منتقل کرنے کے لیے بڑے ٹرک سے چھوٹے چھوٹے ٹیمپو اور بیل گاڑی اور ہاتھ گاڑی والے بھی اپنی روزی جٹا رہے تھے ۔ اس طرح روزگار سے وابستہ رہنے کا ایک تسلسل برقرار تھا ۔
کہتے ہیں ، جس کے پاس دولت ہوتی ہے ، وہ اسی دولت سے مزید دولت بٹورتا ہے ۔ یا پھر یہ بھی صحیح ہوگا کہ سرمایہ دار طبقہ محنت کشوں کا استحصال کرتا ہے ۔ دیکھیے کس طرح محنت کشوں کا حق مارا جا رہا ہے ، جس میں ہم لوگ یعنی عام آدمی بھی عام آدمی کا یا محنت کشوں کا ساتھ دینے کے بجائے سرمایہ داروں کا ساتھ دے رہے ہیں ، اسے کہتے ہیں بھرے ہوئے کو بھرنا اور جانے انجانے میں ہم سب وہی کرتے جا رہے ہیں ۔
شاپنگ مال یا سپر مارکیٹ میں ، میں جو سامان آتا ہے ، وہ راہ راست ان لوگوں سے اٹھایا جاتا ہے ، جو اس کی پیداوار کرتے ہیں ، یعنی کسانوں سے ، گوالوں سے اور فیکٹریوں سے ، وہاں سے وہ براہ راست اس سے بھی کم قیمت میں مال اٹھاتے ہیں ، جس قیمت میں ہول سیلر لیا کرتے تھے اور پھر وہ سب سیدھا شاپنگ مال میں پہنچ جاتا ہے ، اس طرح ہول سیلر ، ڈسٹری بیوٹر ، چھوٹے دوکاندار اور ان کے درمیان چلنے والا ٹرانسپورٹ کا نظام ، سب کے کاروبار پر برا اثر پڑ جاتا ہے ۔ اس طرح کئی لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ شاپنگ مال میں اکثر ہمیں  دو روپے ، پانچ روپے یا دس روپے کا پر کشش آفر دیا جاتا ہے ، اس سے ہمارا کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوتا ، مگر شاپنگ مال میں جانے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جاتی ہے ۔ شاپنگ مال یا سپر مارکٹ میں جا کر ہم اپنا نقصان کس طرح کرتے ہیں دیکھیے ۔
جیسے ہی ہم شاپنگ مال میں داخل ہوتے ہیں ، بالکل داخلے کے سامنے ایسی اشیا فروخت کے لیے ریک میں سجائی ہوتی ہیں ، جو ہمارے لیے غیر ضروری ہوتی ہیں ، مگر چونکہ ان کی قیمتوں میں کچھ کمی کر کے ٹیگ لگائے جاتے ہیں یا دو پر ایک فری دینے کی پیش کش کی جاتی ہے ۔ اس صورت میں ہم ٹرالی میں ایسی اشیا بھرتے جاتے ہیں ، جو ہمارے لیے غیر ضروری ہوتی ہیں ، انسانی زندگی کی روز مرہ ضروریات کی اشیا کو شاپنگ مال کے گیٹ سے کافی دور رکھا جاتا ہے ، تاکہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے ٹرالی غیر ضروری سامان سے بھر جائے ۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب ہم اشیا کو ریک میں دیکھتے ہیں ، اس وقت اس کے ساتھ ڈسکاؤنٹ پر نظر پڑتی ہے ، مگر جب ہم بلنگ کاؤنٹر پر جاتے ہیں ، تو وہاں چیک نہیں کرتے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں بل بن رہا ہے یا ، رٹیل پرائز میں ۔ یہاں بھی دھاندلی کی جاتی ہے اور پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ یہ آفر کل تک ہے تھا ابھی نہیں ہے ۔
اکثر لوگ شاپنگ مال میں پرائز ٹیگ کے مطابق رقم ادا کر دیتے ہیں ، مگر جب یہی سامان باہر سبزی بازار میں یا چھوٹی دوکانوں پر بک رہے ہوں ، تو کہتے ہیں ، اس میں اور کم کرو ۔
چھوٹی دوکانوں اور ٹھیلوں پر اپنا مال بیچنے والوں سے سامان اس لیے بھی خریدنا چاہیے کہ وہ محنت کش لوگ ہیں اور اور ان سے سامان خریدکر ہم انہیں بر سر روزگار رہنے میں مدد کر رہے ہیں ، اگر لوگ ان سے مال خریدنا بند کر دیں ، تو وہ تو بے روزگار کو جائیں گے ۔
اب ضرورت کی ہر چیز آن لائن مل رہی ہے ، الیکٹرانک سامان ہوں ، کپڑے ، گھڑیاں ، کاسمٹک ، زیور ہویا اناج اور سبزی ، دودھ ہو یا دودھ سے بنی اشیا ، یہاں تک کہ سبزی ترکاری بھی آن لائن بک رہی ہے یہی نہیں گوبر کے اوپلے بھی آن لائن مل رہے ہیں ۔ آن لائن خریدنے سے پہلے ان لوگوں کا خیال کیجیے ، جو آف لائن محنت کر رہے ہیں ، یعنی محنت کشوں کا خیال کیجیے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com