کندن لال سہگل

معروف گلوکار اور اداکارکندن لال سہگل آج ہی کے دن پیدا ہوئے تھے، مگران کے مقامِ پیدائش کے بارے میںمؤرخین کو اختلاف ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جموں میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد تحصیلدار تھے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جلندھر میں پیدا ہوئے۔بہر حال ان کی جائے پیدائش کوئی بھی ہو ، مگر وہ اپنی گائیکی اور اداکاری سے ہندستانی فلموں میں اپنی چھاپ چھوڑ گئے ہیں ۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے موسیقی و گائیکی کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی، ایک غیر معروف سے صوفی بزرگ سلیمان یوسف کے آستانے پر حاضری دیا کرتے تھے اور بھجن یا عارفانہ کلام سناتے۔ یہ بزرگ خود بھی صوفیانہ کلام پڑھا کرتے تھے، اس لیے عین ممکن ہے کہ انہیں موسیقی میں کچھ درک رہا ہو اور انہوں نے سہگل کی اس سلسلے میں کچھ ابتدائی تربیت کی ہو۔
سہگل کا گھرانہ مذہبی تھا ، ان تعلق کسی موسیقی کے گھرانے سے نہیں پایا جاتا ، ہاں مگر ان کی والدہ بھجن وغیرہ کیا کرتی تھیں ، اس وقت سہگل اس میں بھی حصہ لیتے اور شوق سے بھجن گایا کرتے تھے ۔یہ طے ہے کہ موسیقی اور گائیکی ان کی رگ رگ میں رچی ہوئی تھی، مگر ان کے لیے حصول معاش کا ذریعہ نہیں تھی۔اس دور میں موسیقی صرف جاگیرداروں اور رجواڑوں کے درباروں تک محدود تھی۔
کہتے ہیں وہ ایک بار استاد فیاض علی خان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیںاپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا ’تم اتنا جانتے ہو کہ میں تمہیں اور کیا سکھا سکتا ہوں‘ یہ بھی مشہور ہے کہ ان کے کسی گیت سے استاد عبد الکریم خان اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں انعام کے طور پر سو روپے کا منی آرڈر بھیج دیا۔
ابتدائی دور میں انہوں نے کلکتہ(کول کاتا)میں  ٹائپ رائٹر بنانے والی کمپنی میں ۸۰؍روپے ماہانہ پر بطور سیلز مین ملازمت کی۔ کلکتہ ہی میں کسی طرح نیو تھئیٹر کے بانی بی۔ این۔ سرکار سے ان کی ملاقات ہوگئی اور بی این سرکار نے سہگل کو ۲۰۰؍ روپے ماہانہ بطور گلوکار ملازمت کی پیش کش کی ، جسے سہگل نے قبول کر لیا۔
نیو تھئیٹر میں اس زمانے میں رائے چند بورل، تامیر برن اور پنکج ملک موسیقار تھے، جن میں بورل سب سے سینئیر تھے اور انہوں نے سہگل کے فن میں نکھار اور پختگی پیدا کرنے میں یقیناً بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہوگا، اس لیے کہ نیو تھئیٹر کی فلموں نے سہگل کو ہندستان میں مشہور کر دیا اور ان موسیقاروں کی بنائی ہوئی دھنوں پر ہی انہوں نے وہ نغمے گائے جنہوں نے انہیں امر کر دیا۔ مثلاً دیو داس کا یہ نغمہ ’دکھ کے دن اب بیتت ناہی ‘ یا ’بالم آئے بسو میرے من میں‘ یا فلم اسٹریٹ سنگر کا یہ گیت ’بابل مورا نہیئر چھوٹت جائے‘ وغیرہ وغیرہ۔
۱۹۳۳؍ میں نیو تھئیٹر نے تین فلمیں ریلیز کیں جن میں’ پورن بھگت‘،’ راج رانی‘ ’ میرا‘ او اور’ یہودی کی لڑکی‘ شامل ہیں۔ یہ فلمیں کامیاب رہیں ،لیکن ان کی کامیابی سے زیادہ سہگل کو شہرت ملی اور بحیثیت اداکار اور گلوکار ان کی پہچان بن گئی۔
۱۹۳۴؍میں نیو تھئیٹر نے مزید تین فلمیں ریلیز کیں جن میں چندی داس نے سہگل کواہم مقام دیا ۔ اسی کے فورا بعد ۱۹۳۵؍ میں دیوداس ریلیز ہوئی ، جس سے انہیں بہت زیادہ کامیابی اور شہرت حاصل ہوئی ۔
دیوداس ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو ایک اعلا ذات کے بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور ساری خوبیوں کا مالک ہونے کے باوجود محض اس بنیاد پرنالائق قرار جاتا ہے کہ اسے ایک نچلی ذات کی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے۔
دیو داس صرف بنگال کے نوجوان کی کہانی نہیں تھی بلکہ پورے ہندستان کے پڑھے لکھے نوجوان کی کہانی تھی اور جب بروا نے بنگالی میں یہ فلم بنائی تو یہ ناول سے بھی زیادہ مقبول ہوئی اس لیے کہ ناول تو صرف پڑھے لکھے لوگ ہی پڑھ سکتے تھے اور فلم دیکھنے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں تھا ،فلم ان پڑھ لوگوںنے بھی دیکھی۔
سہگل نیو تھئیٹر کی کئی کامیاب فلموں میں کام کرنے کے بعد ممبئی کے رنجیت اسٹودیو سے وابستہ ہو گئے اور انہوں نے بھگت سورداس اور تانسین میں کام کیا جو ہر اعتبار سے بہت کامیاب فلمیں تصور کی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید سات فلموں میں کا م کیا ان میں فلم شاہجہاں کا نام قابل ذکرہے۔
سہگل کی آخری فلم ’پروانہ ‘ تھی ، جو ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی تھی ۔ جنوری ۱۹۴۷؍میں سہگل کا انتقال ہو گیا۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com