اردو میں بچوں کا ادب 

اردو میں بچوں کا ادب 
بچوں کا ادب کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے اس پر ایک طویل بحث ہو سکتی ہے ۔مشترکہ خاندان ہماری تہذیب کا حصہ رہےہیں ۔ خاندانی روایت ، اخلاقی قدریں ، لوک کہانیاں ، لوک گیت یہ سب ہمارا تہذیبی سرمایہ ہے۔ قصے کہانیاں سنانے کی روایت بھی نانی ، دادی کی گود سے شروع ہوتی ہے اور پھر قصہ گوئی گود سے چوپال تک پہنچتی ہے ۔ بچوں کی تربیت اور پرورش میں دادی اور نانی کی کہانیاں اہم رول ادا کیا کرتی تھیں ۔ جب ہم تاریخ پڑھتے ہیں ، تو یہ ضرور علم میں آتا ہے کہ کسی بھی بادشاہ یا سردار کی نانی ، دادی یا والدہ اسے اپنے اجداد کے بہادری کے قصے سنایاکرتی تھی، یا پھر بہادر بادشاہوں کے قصے اور واقعات سنا کر ان میں اچھے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کیا کرتی تھیں ۔ بچوں کو جانوروں اور پرندوں کی کہانیاں بھی سنائی جاتی ہیں،بچے اس میں اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ وہ چرند پرند کی زبان نہیں جانتے ، مگر کہانیوں سے وہ ان کو اپنے درمیان بولتا ہوا محسوس کرتے ہیں ۔ اس طرح جو بھی درس بچوں کو دیا جائے وہ اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے ہیں ۔
بچے کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی بہتر تعلیم و تربیت ہی قوم کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ مگر آج بچوں کی تہذیب یا ادب پر توجہ دینے کے لیے وقت ہی نہیں ہے باپ حصول معاش میں کولہوکے بیل کی طرح جتا ہوا ہے۔ مائیں ٹی وی پر دو سو چار سو قسطوں کے ساس بہو کے ڈرامے اور فلمیں دیکھنے میں مشغول ہیں۔ استاد بھاری بھرکم نصاب پورا کروانے کی دوڑ میں شامل ہیں اور بچے تی وی چینل ، انٹرنیٹ اور موبائل میں ایسے کھوئے ہوئے ہیں کہ ادب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ٹی وی کا دور آتے ہی ، بچوں کی زبان پر کہانیوں کی کتابوں کے قصوں کے بجائے ، کارٹونی کہانیوں کے تذکرے آنے لگے ، جن میں ’ ٹام اینڈ جیری ‘‘ ’’ پوپائے‘‘ ’’ نوڈی‘‘ ’’ تھامس ‘‘ ’’ شن چین ‘‘ ’’ ڈوری مون ‘‘ ’’ اوگی اینڈ دی کاکروچیس‘‘ ’’ بین ٹین ‘‘ ’’ ہتھوڑی ‘‘اور ’’ چھوٹا بھیم‘‘ کے علاوہ بچوں کی فلموں کو سب سے زیادہ شہرت ملی ۔’’ سپر مین ‘‘ ’’ اسپائڈر مین ‘‘ ’’ بیٹ مین ‘‘ اور عالمی شہرت یافتہ فلم ہے ’’ ہیری پورٹر ‘‘ ۔ یہاں جتنی فلموں اور کارٹون فلموں کا تذکرہ کیا گیا ہے ، یہ سب انگریزی ہیں ، جس کا ہندی یا ہندستانی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انگریزی میں بچوں کے لیے بہت کچھ لکھا گیا ہے ، مگر اردو میں بچوں کا ادب تخلیق نہیں ہو رہا ہے یا اس مقام تک نہیں پہنچ پایا کہ ان پر فلمیں یا کارٹونی فلمیں بنائی گئی ہوں ۔
بچپن میں ہم نے بھی ایک روپے والی کہانیوں کی کتابیں پڑھیں ، جو یا تو جانوروں پرندوں یا راجہ رانی کی ہوا کرتی تھیں ۔ اس کے بعد بچوں کا رسالہ’’ کھلونا ‘‘ ، ’’ نور ‘‘ ’’ امنگ ‘‘اور ’’ ہلال‘‘ ہمارے مطالعہ میں شامل رہا ۔ ساتھ ہی روزنامہ ہندستان کا صفحہ ’’ کھلتی کلیاں ‘‘ ۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ’’ کھلونا ‘‘ میں سراج انور اور ابرار محسن کی کہانیاں پابندی سے شائع ہوا کرتی تھیں۔ ایسے اور بھی کئی بچوں کے مصنفین رہے ہوں گے ، مگر ہمیں ٹھیک یاد نہیں ہے۔نور ، امنگ ،ہلال اور پیام تعلیم جیسے پرچے بھی ہم پڑھتے آئے ہیں ، اسی کے ساتھ گزشتہ ۲۰؍ سال سے بچوں کا رسالہ ماہنامہ’’ گل بوٹے‘‘ بھی ممبئی سے جاری ہے،مگر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بچوں کے رسالوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے ۔ عام طور سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ بچوں کے لیے لکھنا کوئی بڑی بات نہیں ، مگر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بچوں ہی کے لیے لکھنا بہت اہم ہے اور مشکل بھی ۔بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ، ان کی ذہنی سطح تک آ کر بات کرنا اتنا آسان نہیں ہے ، ایسے تمام مصنفین کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے ، جو بچوں کا ادب تخلیق کر رہے ہیں ، خواہ وہ نثر کی شکل میں ہو یا نظم ان کی اشاعت ہوتی رہے ۔ بچوں کی نصابی کتابوں میں جس قدر ضرورت ہے ، اس سے کہیں زیادہ ان کی تفریح و تربیت کے لیے بھی ایسی تخلیقات کی ضرورت ہے ۔ آج اس میدان میں بہت سے قلم کار اپنے جوہر دکھا رہے ہیں، مگر ان کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں ہو رہی ہے ۔
بچوں کا ادب تخلیق کرنا یوں بھی آسان کام نہیں ہے اور بچوں کے لیے کوئی رسالہ جاری کرنا یا اسے جاری رکھنا اور بھی مشکل کام ہے ۔ کیونکہ جب بھی ایسے رسالوں کے لیے مصنفین سے کچھ لکھنے کی درخواست کی جاتی ہے ، تو وہ اسے اپنے شایان شان نہیں سمجھتے اور اکثر حوصلہ شکن جواب دیتے ہیں ۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ مصنفین انکار کر دیتے ہیں ، یا مصروفیت کا بہانہ کر دیتے ہیں یا وعدہ کر کے ٹال جاتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو خدا نخواستہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ کیا اب ہم بچوں کے مصنف بن کے رہ جائیں گے ؟ یہ سوچ بھی غلط ہے کیونکہ جس وقت ابرار محسن اور سراج انور کی کہانیاں بچوں کے رسالے ’’ کھلونا ‘‘ میں شائع ہو رہی تھیں ، اس دورانابرار محسن اور سراج انور کے افسانے مشہور رسالہ بیسویں صدی میں بھی شائع ہوا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال ، اسماعیل میرٹھی احمد ندیم قاسمی کا بھی نام لیا جا سکتاہے ، جنہوں نے بچوں کا ادب تخلیق کیا ہے ۔
بانو سرتاج نثر نگار خواتین میں اہم نام ہے۔ مختلف موضوعات پر کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اردو کے علاوہ وہ ہندی ، مراٹھی اور انگریزی میں بھی لکھتی ہیں۔ محتلف زبانوں کے ادب پاروں کے تراجم بھی انہوں نے کیے ہیں۔ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے اور بچوں کا ادب بھی تخلیق کیا ہے۔ ان کی کہانیاں ٹی وی میں بھی دکھائی جاتی ہیںاور ریڈیو سے بھی نشر ہوتی ہیں۔ ان کی تصنیفات میں’’ دائروں کے قیدی‘‘ (افسانے) ’’ اس کے لیے‘‘ (افسانے) ’’ ایک بیمار سو انار‘‘ (ڈرامے) ’’ مجھے شکایت ہے ‘‘(ڈرامے) ’’ نٹ کھٹ بندر‘‘ (بچوں کی نظمیں) ’’ سچ کا بول بالا‘‘ (بچوں کے ڈرامے)’’ جنگل میں منگل ‘‘(ناول) شامل ہیں ہیں۔
ڈاکٹر صادقہ نواب سحر ناول و افسانہ نگار، شاعرہ، ڈرامہ نگار ہیں ۔ تنقیدی مضامین بھی لکھتی ہیں اور ساتھ ساتھ بچوں کا ادب بھی تخلیق کر رہی ہیں ۔ ’’انگاروں کے پھول ‘‘شعری مجموعہ’’پھول سے پیارے جگنو ‘‘( بچوں کی نظموں کا مجموعہ)ناول ’’ کہانی کوئی سنائو متاشا‘‘’’مکھوٹوں کے درمیان‘‘ (اردو کا طبعزاد ڈرامائی مجموعہ)’’ خلش بے نام سی‘‘ (افسانوں کا مجموعہ) ۔
وکیل نجیب بچوں کے لیے مسلسل لکھ رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ لکھتے لکھتے ان کی ۲۷؍تابیں منظر پر آ گئیں ۔ ان کی کتابوں میں بچوں کی کہانیوں کا مجوعہ، افسانوں کا مجموعہ ، ناولٹ اور بچوں کے لیے کئی ناول شامل ہیں ۔ وکیل نجیب کا تعلق ناگپور سے ہے۔ ایم اے بی ایڈ کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے ۔ وکیل نجیب نے بچوں کے لیے ہر موضوع پر کہانیاں لکھی ہیں ۔ جن بھوت کی کہانیاں ، شہزادے کی کہانی، حالات حاضرہ پر کہانیاں ، افسانے ، ناول اور ڈرامے لکھے ہیں ۔ ان کا ناول ’’ کمپیوٹان ‘‘ بھی کافی اہمیت رکھتا ہے ، یہ ایک سائنس فکشن ہے ۔ ان کی کہانیاں بچوں کے مختلف رسائل میں شائع ہوری رہی ہیں اور ناول بھی قسطوں میں شائع ہوتے رہے ۔ وکیل نجیب کی کہانیاں یا ناول پڑھتے ہوئے قاری خود کو بچہ محسوس کرنے لگتا ہے ، یہ ان کے زبان اور اسلوب کی خوبی ہے ۔ آسان زبان ، رواں دواں جملوں کی سبک رفتاری ناول کو کہیں بھی سست نہیں ہونے دیتی اور قاری کی دلچسپی برقرارہتی ہے ۔
وکیل نجیب کا ناول ’’ غمگسار ‘‘ بھی ایک مختلف تکنیک میں لکھا ہوا ناول ہے ۔ وکیل نجیب اس ناول کے ذریعے بہادری ، ایمانداری ، انسانی ہمدردی کا درس دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ، تو ساتھ ہی اس ناول کے ذریعے سیرت نبی ؐ کا اعادہ بھی کیا جا رہا ہے ۔ اکثر بچے سیرت کی کتابیں نہیں پڑھ پاتے ہیں ، مگر اس ناول میں شامل ایسی معلومات بچوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں ۔ ناول آج کے حالات پر لکھا گیا ہے ، جس میں ہندو مسلم اتحاد کی مثال پیش کی گئی ہے اور ان لوگوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، جو ایسے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس ناول کے ذریعے وکیل نجیب نے بہت سی ایسی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ، جسے ہم روز دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اور نظر انداز کر جاتے ہیں ۔ بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے اچھی کتابوں کی بے حد ضررت ہے ،مگر اب ماحول ایساہو گیا ہے کہ نصابی کتابوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے اک ذرا گردن سیدھی کرتے ہیں ، تو ٹی وی کی جانب دیکھتے ہیں اور ریموٹ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، مگر وکیل نجیب کی تحریر کا چسکا اگر بچوں کو لگ جائے ، تو شاید وہ ٹی وی پر پیش کیے جانے والے خرافات کی جانب کبھی متوجہ نہ ہوں ۔ کارٹون فلموں میں ’’ پوپائے ‘‘ اور ’’ شن چین ‘‘ تو بچے نہ ہی دیکھیں تو بہتر ہے ۔
ممبئی سے شائع ہونے والا ماہنامہ ’’ گل بوٹے‘‘ فی الحال اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، ملک بھر سے ایسے ہی کئی رسالے شائع ہو رہے ہوں گے، مگر بچوں کے ان رسالوں کی بھی کس حد تک پذیرائی ہو رہی ہے ، یہ با ت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، کیونکہ اب اسے پڑھنے اور خریدنے والوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس وقت بچوں کے رسالوں میں نام نظر آتے ہیں، پیامِ تعلیم(دہلی)، اُمنگ(دہلی)، بچوں کا ہلال اور نور(رامپور)، گُل بوٹے(ممبئی)، اچھا ساتھی(بجنور)، گلشن اطفال(مالیگاؤں)، غبارہ (بنگلور)قابل ذکر ہیں۔
بچوں کے ادب کے تعلق سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے ، وہ اگر یہاں بیان نہ کریں ،تو بات ادھوری رہ جائے گی۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ایک ریٹائرڈ ٹیچر سے ہماری بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی ۔ ادھر دھر کی باتوں کے بعد موجودہ تعلیمی نصاب پر باتیں ہوئی اور پھر ہم نے کہا کہ آج کل بچوں کا ادب تخلیق نہیں ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک المیہ ہے ۔ ہماری بات سن کر محترمہ نے کہا ۔۔۔ ’’ بچوں کا ادب ؟ مسئلہ زبان کا ہے ، ادب کا نہیں ، آج ہمارے بچے اردو ہی کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں ، انہیں اسکولوں میں اچھی اردو سکھانا ضروری ہے ، ادب کا کیا ہے ادب اور تمیز ،تو ہم گھر میں سکھا ہی دیں گے ۔ ‘‘اس جملے کو سن کر ہمیں محسوس ہوا کہ بچوں کے ادب سے بڑا مسئلہ زبان ہی کا ہے ۔یہ بڑا المیہ ہے کہ ایک اردو میڈیم کی ریٹائرڈ ٹیچر نے بچوں کے ادب کا کیا مطلب سمجھا ؟
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com