اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

آج ہم بات کرتے ہیں ، اردو کی بقا کی ، ترقی و ترویج کی ، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ ہم اردو والے ہی اس کے تنزل کا سبب بن رہے ہیں ۔ اردو املے کی بھیانک غلطیاں اردو کے اخبارات میں روز ہی دیکھی جا رہی ہیں ، جس کے لیے اکثر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ آپریٹر کی غلطی ہے ۔کوئی ’’ پکاسو ‘‘ کو ’’ پکا سور ‘‘ لکھ دیتا ہے ، تو کہیں ’’ فخر صحافت ‘‘ ’’ خر صحافت ‘‘ ہو جاتا ہے ۔
ان غلطیوں کی ایک بڑی وجہ غلط ترجمہ بھی ہے ۔ انگریزی یا ہندی سے جو لوگ ترجمہ کرتے ہیں اور ترجمہ کے لیے گوگل کی مدد لیتے ہیں ، تب ایسی ایسی غلطیاں سامنے آتی ہیں ، کہ بس توبہ کرتے رہ جائیے ۔
ایک دفعہ اخبار کے دفتر میں کام کرتے ہوئے میرے پاس صفحہ اول چیک کرنے کے لیے آیا ، تو ایک سطر پر میری نظر ٹھہر گئی اور میں سوچ میں پڑ گئی کہ یہ ماجرا کیا ہے ؟ جملہ کچھ اس طرح تھا ’’ پولس کمشنر موسم بہار ڈھوبلے نے کہا ‘‘ ذرا دماغ پر زور ڈالا تو خیال آیا کہ یہ پولس کمشنر وسنت ڈھوبلے ہیں ، جس کا ترجمہ ہو گیا ہے ۔
اکثر اوما بھارتی کے نام کا ترجمہ ’’ اوما ہندستانی ‘‘ ہو جاتا ہے ۔ ایک جملہ ہم نے پڑھا ، ’’ جوڑا شہد چاند پر جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔‘‘ ؟ ’’ ہنی مون ‘‘ کا اس سے بہتر ترجمہ اور کیا ہو سکتا ہے ؟ ’’ لکھ پتی ‘‘ ’’ لکھ شوہر ‘‘ ہو جاتا ہے ۔ ایک خبر کچھ اس طرح تحریر ہوئی تھی ’’ یو پی کے وزیر اعلا نے کالج کے طلبا میں گولی تقسیم کی ، کیونکہ وہ چاہتے ہیں ہر بچے کے پاس گولی ہو ۔‘‘ دراصل انگریزی کے ’’ ٹیب ‘‘ کا ترجمہ ’’ گولی ‘‘ ہو گیا تھا ۔ بہر حال یہاں ہم نے کچھ املے کی غلطیوں کے ساتھ ساتھ ترجمے کی غلطیوں کا تذکرہ بھی کر دیا اگر مزید ایسی غلطیاں دیکھنے کا جی چاہے ، تو اردو اخبارات پابندی سے پڑھیے ۔ ممبئی کے ایک مشہور روزنامہ میں نومبر ۲۰۱۷ میں ایک خبر تھی ’’ فلمی اداکار پریش راول کو خراج عقیدت ‘‘ ؟ اخبار کے رپورٹر یا مدیر کو بھی شاید اس بات کا علم نہیں کہ زندوں کو ’’خراج عقیدت ‘‘ نہیں پیش کیا جاتا ہے ، زندوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔
اب ایسی حماقتیں سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے مل جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہورڈنگ اور بورڈ پر بھی آپ ایسی ہی بھیانک غلطیاں دیکھ سکتے ہیں ۔
اس مضمون کے ساتھ دو تصویریں پیش کی جا رہی ہیں ۔ دیکھیے ، کس طرح اردو کا جنازہ نکالا جا رہا ہے ۔
ایک بورڈ پر لکھا گیا ہے ’’ اپنے شہر کی شاعراؤں کو صاف رکھیں ۔‘‘
دوسرا ایک اخبار کا تراشہ ہے ، خود ہی پڑھ لیجیے ’’ صحافت جمہوریت کا ۔۔۔۔ستون ہے ۔

 

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com