اکیسویں صدی سے ہم آہنگ نظموں کی خالق عارفہ شہزاد

ؑعارفہ شہزاد نے ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مرحلے بھی طے کر لیے اسی کے ساتھ وہ ۲۰۰۱ ؍ سے شعبہ اردو اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسرکے فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے کلام فیض کے انگریزی تراجم اور انگریزی میں اردو ادب کی تنقید کے موضوع پر کام کیاہے۔ہندستان و پاکستان کے ادبی رسائل مثلاً تسطیر،اجرا۔کاروان،لوح،اوراق ،نیرنگ خیال (پاکستان) پہچان،اثبات اور استفسار (ہندستان) میں نگارشات شائع ہوتی رہی ہیں ۔
’’جدید اردو شاعری میں کرداری نظمیں‘‘( تنقید) ۲۰۰۷ ؍ میں شائع ہوئی ہے اور دوسری کتاب شعری مجموعہ ’’ عورت ہوں نا‘‘ ۲۰۱۶؍ میں شائع ہوا ہے ۔ عارفہ شہزاد کا تعارف یہاں مکمل نہیں ہو جاتا ، ان کی شاعری ہی ان کا مکمل تعارف ہے ۔ جدید لہجہ اور خوبصورت الفاظ کا مناسب استعمال ان کے کلام کو دو آتشہ کرتا ہے ، عارفہ کی شاعری میں گل و بلبل کے قصے ، ہجر کی طویل راتوں کا کرب نہیں بلکہ آج کے دور کی زندگی سانس لے رہی ہے ، وہ اپنی شاعری میں آج کو جی رہی ہیں ۔ اردو نیوز ایکسپریس کے با ذوق قارئین کی خدمت میں چند نظمیں پیش ہیں ۔

ادارہ

گفتگو نظم نہیں ہوتی ہے

گفتگو کے ہاتھ نہیں ہوتے
مگر ٹٹولتی رہتی ہے درودیوار
پھاڑ دیتی ہے چھت
شق کر دیتی ہے سورج کا سینہ
انڈیل دیتی ہے حدت انگیز لاوا
خاکستر ہو جاتا ہے ہوا کا جسم
گفتگو پہلو بدلتی ہے
اور زمین، آسمان کی جگہ لے لیتی ہے
راج ہنس داستانوں میں سر چھپا لیتے ہیں
اونٹنیاں دودھ دینا بند کر دیتی ہیں
اور تھوتھنیاں آسمان کی طرف اٹھائے صحرا کو بد دعائیں دینے لگتی ہیں
ہیجانی نیند پلکیں اکھیڑنے لگتی ہے
اورکچی نظمیں سر اٹھانے لگتی ہیں
گفتگو کے پاوں نہیں ہوتے
لڑھکتی پھرتی ہے
ماری جاتی ہے سانسوں کی بھگڈر میں
کفنادی جاتی ہے
لوگوں کے لباس کھینچ کر
کافور کی تیز بو
لپٹ جاتی ہیں سینے کے پنجر سے
اور نظم ادھوری رہ جاتی ہے

۲
تم جانتے ہو

مرد اسے دیکھ کر غیبت بھری سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں
اور عورتیں حسد بھری کن انکھیوں سے ایک نظر ڈال کر منہ موڑ لیتی ہیں
مگر میں اسے مبہوت ہوکر دیکھتی رہتی ہوں
میں اس خوبصورت عورت کی طرح بننا چاہتی ہوں
جس کی آنکھوں سے قوس قزح پھوٹتی ہے
اور ہونٹوں پر ستارے جگمگاتے ہیں
اس کی صراحی دار گردن کی تمکنت کو
بہاریں رک کر دیکھتی ہیں
میں ہمیشہ یونہی رہنا چاہتی ہوں
جیسے وہ عورت
سیب کی ابھی ابھی تراشی قاش کے جیسی خوشبودار ہے
اس کے بدن سےپھوٹتی حدت
جذب کر لینا چاہتی ہے زمین اور آسمان
وہ اپنی پوروں سے پگھلا سکتی ہے برف
برسا سکتی ہے کچی مٹی کی کورے پن سے لبریز سوندھی بارش
وہ ہوا کے سانس جذب کر لیتی ہے
دھڑکنے لگتی ہے منظروں کے آئینے میں
اوجھل ہو جاتی ہے آئینے کے عکس سے
اور تمھارے بدن کا ہیولہ بن جاتی ہے
پوروں کے طلسم سے
ان دیکھے راستے تحریر کرتی ہے
بدن کی پگڈنڈیوں کو
دل کے قدموں سے عبور کر لیتی ہے
اور بھولنے نہیں دیتی
مسافر کو راستہ
میں اس خوبصورت عورت کی طرح کیوں بننا چاہتی ہوں ؟
تم جانتے ہو !

۳
لمس جھوٹا نہیں

وہ تھل کی ریت اڑاتا ہے
تو ذرے ہونٹوں پر چپک جاتے ہیں
زبان ذائقے کی کرکراہٹ
تھوکتی رہ جاتی ہے
اوروہ
جو بند ہونٹوں کے قفل توڑنا جانتا ہے
چھٹی حس مقفل نہیں کر سکتا
وہ نہیں جانتا
بھنچے ہونٹوں سے چھوا جائے
تو زبان ہی نہیں
دل بھی کلام کرنے سے انکار کر دیتا ہے
اور وہ بھی۔۔۔
جو شب وروز کی چمنیوں سے نکلتا دھواں دیکھ کر
آگ بجھانے لگتا ہے
خدوخال کو بھسم ہوتے نہیں دیکھ سکتا
وہ راکھ ہوتے ہونٹوں کے بھربھراہٹ
محسوس نہیں کرسکتا
اور تم
جو پانیوں کو چھو کر
بے کنار کر سکتے ہو
ہواوں کی سرسراہٹ
قید کر سکتے ہو پوروں میں
اتار سکتے ہو رنگوں کی وحی دل پر
بن سکتے ہیں تمھارے ہونٹ
خواب میں بھی
ریشمی سچ!
۴

تم کہتے ہو

لوگ نہیں کہتے
کہ تم نہیں دیکھ سکتے
آنکھوں کی بوسیدہ شاخوں سے پھوٹتی ہریاول
لوگ نہیں کہتے
کہ تم نہیں سن سکتے
تاریکی کا سرمست گیت
لوگ نہیں کہتے
کہ تم نہیں چکھ سکتے
زبان میں جاگتےماورائی ذائقے
لوگ نہیں کہتے
کہ تم نہیں سونگھ سکتے
بوسوں میں مہکتی حلاوت
لوگ نہیں کہتے
کہ تم نہیں چھو سکتے
لہکتی ہوا کا بدن
لوگ نہیں کہتے۔۔۔
کچھ بھی نہیں کہتے
بس وہ،وہی سننا چاہتے ہیں
جو تم کہتے ہو!
وہ سنتے ہیں اور
تم اور بھی سرپٹ بھاگنے لگتے ہو
نئی کہانیوں کی بو سونگھتے
پارسائی کے ڈھول کی تھاپ پر
ناچتے ناچتے
تم سماں باندھ سکتے ہو
مگر کون دیکھتا ہے؟
لوگ تو کب کے سماعت میں ڈھل چکے
صرف تمھارا دہانہ کھلا ہے۔۔۔
مستور محبتوں کے راز اگلتے اگلتے
تم زبان سے ٹپکتی رال پونچھنا بھول گئے ہو
باچھوں سے کف اڑاتے اڑاتے
رانوں کے بیچ دم توڑتی خواہشوں کی گورکنی تمھارا مقدر ہو گئی ہے
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو
کہانیوں کے قدموں کی رفتار میں
کوئی فرق نہیں آیا!

۵
رات کی کہانی ہے

کوئی وہم ہے
دن کے کاندھوں کی
ساری رگیں کھینچتا جارہا ہے
مگر رات دوہری ہوئی ہے ہنسی سے
ہتھیلی پہ دھر کے
کوئی خواب آور سی ٹکیہ
بھرے جارہی ہے
یہ پھولا ہوا ایک تھیلا
فقط نیند کی دل لگی سے
مگر نیند کی کوکھ نیلی ہوئی ہے
کوئی زہر آلود ہے خواب
اعصاب میں بھر گیا ہے
کہو رات سے
پھر ہنسے اور ہنستی چلی جائے
اپنے ہی ہذیان میں
دل مرا خواب میں،خواب سے ڈر گیا ہے
مگر آنکھ کھلتی نہیں ہے
عجب کپکپی ہے
کئی پوریں بھیگی ہوئی آنسووں میں
شناسا بھی ہیں اور کچھ اجنبی بھی۔۔۔
نہیں، ان میں چھونے کی سکت نہیں ہے
کسے چھو کے دیکھیں ؟
ہےعفریت کوئی
کوئی ہشت پا ہے
مرا جسم جکڑا ہو ا ہے
پسینے میں ڈوبا ہوا ہے
اٹکتی ہیں سینے میں سانسیں
کرہ کوئی تاریک
یوں دائرہ اپنا پھیلائے جاتا ہے جیسے
ازل سے ابد کے
ہر اک راستے کو نگل جائے گا!
سب پگھل جائے گا
اک تپش سے۔۔۔
جگاو
مجھے کوئی جھنجوڑ کے
میری آنکھوں کی درزوں کو چیرو
اٹھا کے پٹخ دو زمیں پر
کھلے آنکھ میری
دنوں اور راتوں کا
ٹوٹا سرا جوڑنا ہے
مجھے آخری رات کی
اس کہانی کا رخ موڑنا ہے!

۶
گنو مت

اکتیس دن میں ،کوئی ایک دن ہے
مگر انگلیوں کی یہ پوریں
فقط تیس ہیں اور
اکتیسواں دن۔۔۔
ہتھیلی پہ گننا پڑے گا!
تو پھر کس ہتھیلی پہ رکھیں گے اس کو؟
مرے داہنے ہاتھ کی یہ ہتھیلی تو سن ہو گئی ہے
کہیں بائیں جانب
ہتھیلی میں پھیلی رگوں میں
تناو سا بڑھنے لگا ہے
کوئی بد شگونی نہیں ہے
مگر دھڑکنوں کی یہ گنتی
کیوں ہموار ہوتی نہیں ہے
خبر ،بے خبر ہے۔۔۔
ہے آغاز میں ہی کہیں؟
وسط میں ہے؟
یا پھر آخری دن؟
کہ اس آخری دن سے آگے
تیس اور اکتیس کا
اک نیا پھیر ہو گا
گنو مت۔۔۔
یہ اندھیر ہو گا

۷
اسٹیکر مارکیٹ

سٹیکر مارکیٹ میں
ہے سبھی کچھ
قہقہے ،آنسو
تحائف رنگ برنگے
انیمیٹڈ کارٹونوں کی زبانی
کچھ کہی
اور ان کہی کی سرحدوں کے بیچ
بے سوچے ہوئے لمحے
دھڑکتا دل بھی ہے
بوسے ہمکتے ہیں
لپٹتے بازووں کا رقص ہے
اور عکس ناراضی کا بھی ہے ثبت
جو جی چاہے اب چن لیجیے
گن لیجیےپوروں پہ
جو تاثر بھی ہے درکار
سب سکرین کے اس پار
پہنچے گا
کہ پھر سکرین کے اس جال میں
الجھا رہے گا؟
کون اب جانے!
سٹیکر، چیٹ کے سب سلسلوں کا لازمہ ہیں
یہ سائیبر ایج کی
رگ رگ میں شامل پلازمہ ہیں
سہارا ہیں ادھوری گفتگو کا
یہ متبادل ہیں شاید
رگوں میں دوڑتی پھرتی نمو کا
کسی خواہش کا چہرہ ہیں
کسی بے چہرگی کا آئینہ ہیں
سٹیکر چار جانب بولتے ہیں
نہ جانے کون سے در کھولتے ہیں؟

۸
نہیں تازہ کچھ بھی نہیں ہے

نہیں تازہ کچھ بھی نہیں ہے
وہی باسی ادھ کھائے لفظوں کی بھاری کٹوری
ازل سے دھری ہے
ترے اور میرے سروں پر
وہی خستگی سے بھرے
لمس سے بھر بھرے ہوتے جسموں کے ریزے
جو چننے لگیں تو
یہ ہاتھوں کی پوریں
جدا انگلیوں سے ہوں ایسے
کہ جیسے نہیں تھیں!

نہیں تازہ کچھ بھی نہیں ہے
وہی ایک سورج
جو پورب سے پچھم کا رستہ ہی پہچانتا ہے
وہی چاند جو
جھمجھماتے ستاروں کے جھرمٹ میں
گھٹتا ہے۔۔۔بڑھتا ہے اور
روز وشب کے تعین میں
ایسے جتا رہتا ہے جیسے
کوئی قیامت نہیں ہے!

نہیں تازہ کچھ بھی نہیں ہے
یہاں ہست کی طشتری میں
ترے سامنے جو دھری ہے
یہ خوابوں کی تلچھٹ
زباں ذائقہ اس کا پہچانتی ہے
پرندوں کی ہر پھڑپھڑاہٹ
سنی دیکھی بھالی ہوئی ہے
کوئی گرد اڑتی ہے ایسے
کیلنڈر کی پیشانی کالی ہوئی ہے
کوئی بات ایسی یہاں کب نرالی ہوئی ہے؟
کہ تم یاد رکھو یا ہم یاد رکھیں!

۹
آنکھ کہاں تک جا سکتی ہے

ہرے ،بنفشی،نیلے،اودے
سب رنگوں کو چھو سکتے ہیں
داغ سدا سے ہے آنکھوں پر
آنکھ کی پتلی
کھرچیں کیسے
تیز شعائیں مثبت منفی
ہر اک جسم سے پھوٹ رہی ہیں
روشنیاں بھی بھر سکتی ہیں
کر سکتی ہیں وار کٹیلا
پرکھ رہے ہیں گنگ زبانیں
سن سکتے ہیں رات کی چپ کو
چکھ سکتے ہیں دن کا سورج
بھیتر کے سب بھید سنائیں
چھو کر سب کچھ کہتے جائیں
ہونٹ ازل سے،پیمانہ ہیں !

۱۰
عکس نیلے نہیں۔۔۔

پردہ عکس پرایک نیلا تموج جو بہنے لگا
راز کہنے لگا
شور لہروں کا بڑھتا گیا
دل کی ہر ایک دھڑکن سماعت بنی
جسم کا رواں رواں بصارت میں ہے ڈھل گیا
عکس نیلے نہیں
عکس رنگین ہیں
جرم آنکھوں کے کب اتنے سنگین ہیں!
آنکھ کی پتلیوں میں کہیں رقص کرتے ہوئے
رنگ چھٹتے نہیں!
ایک عادت نہیں…
کوئی نشہ ہے آنکھوں سے لپٹا ہوا
شہد آگیں زبانیں ہیں متلاشی کن ذائقوں کی؟
گلہ خشک ہے
انگلیاں، جستجو پر ہیں آمادہ
آسودگی کا پتا کچھ نہیں
عکس نیلے نہیں
عکس بے رنگ ہیں!
جلتی آنکھوں پہ اک بار ہیں
عکس تو خار ہیں
خواہشوں کے سسکتے ہوئے جسم پر وار ہیں
پردہ عکس کو نوچیے
کوسیے اس گھڑی کو
بسر ہوگئی جو گناہ بے لذت کو
چکھتے ہوئے
اگلی شب بکتے جھکتے ہوئے ہی سہی
موج در موج پھیلا ہوا ایک طوفان
آنکھوں میں پھر سے سمانا تو ہے
پھر نئی آس پر
عکس در عکس جادو جگانا تو ہے!

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com