ای بک کے لیے تیار رہیں

جس طرح آج موبائل کے استعمال نے  دس پندرہ سال قبل مروجہ خط و کتابت کے عمل کو متاثر کیا ہے ، اسی طرح آنے والے  دس پندرہ برسوں میں ای بکس ( e- books) کاغذ پر چھپی ہوئی کتابوں کو متاثر کرنے والی ہیں ۔ اس  وقت دنیا بھر میں کتابوں کا کاروبار ایک سو پچاس ملین ڈالر سے زیادہ ہے ۔ پچھلے کچھ برسوں سے متعارف ہوئی ای بکس  نے تا حال اس کاروبار کے ۱۵؍ فیصد حصے پر قبضہ جما لیا ہے ۔ کافی تیز رفتاری سے ترقی کرنے والے اس طریقے سے اردو کی کتابی دنیا بھی خود کو دور نہیں  رکھ سکی ۔ اس لیے اردو کتابوں سے وابستہ سبھی لوگوں کو  ’’ لاگ  آن ‘‘ کرنے کے لیے تیار رہنا  چاہیے ۔ تاکہ اردو ادب کی مختلف اصناف نظمیں ، غزلیں ، کہانیاں ، افسانے ، ہماری تہذیب ثقافت کی ترجمان تصانیف مستقبل کی نئی نسلوں  تک پہنچائی جا سکیں ۔بیس اسل بعد جو نسل موجود ہوگی وہ زیادہ تر اس طریقے کو استعمال کرنے والی ہوگی ۔
پچھلے کچھ برسوں سے  ای میل ، ای کامرس ۔ ای ایجوکیشن ، نے دنیا میں اپنے قدم جما لیے ہیں اب ای بُکس سامنے آ رہی ہیں ۔
ان سب ناموں میں ای کا مطلب ہے الیکٹرانک ۔ ای بُک یعنی الیکٹرانک کتاب ۔ یہ کتاب کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب سے بالکل مختلف ہوگی ۔ اب وہ دن ختم ہوئے کہ آپ کو اپنی پسند کی  کتاب ڈاک سے منگوانا پڑے یا کسی کے ذریعے دوسرے شہر سے منگوانا پڑے ۔ ای بک ادھر چھپی اور ادھر آپ نے آپ اسے پڑھنا شروع کر سکتے ہیں ۔ لکھنے کی شروعات کرنے والوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ پتھروں پر حرف کھودنے ، دھات کی تختیوں پر کندہ کرنے ، چمڑے اور پتوں پر لکھنے ، کاغذ پر لکھنے اور چھپنے کا عمل ترقی کر کے نہایت تیز رفتار اور آسان طریقے ای بکس کی شکل میں سامنے آئے گا۔
ای بک یعنی الیکٹرانک کتاب میں پڑھنے کے مواد کو ڈیجیٹل شک میں محفوظ کیا جاتا ہے ۔ اسے پڑھنے کے لیے آپ کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ یا مخصوص ای بک ریڈر اور موبائل کے اسکرین کا بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔ ای بک ریڈر یعنی عام کتابی سائز کا چھوٹا سا ایک کمپیوٹر نما آلہ ہے ۔ اس طریقۂ کار کی شروعات انٹر نیٹ کے ساتھ ہی ہو چکی ہے ۔ آج سے دس سال قبل ہی مغربی ممالک میں ای پبلشروں نے کتابوں کے الیکٹرانک ایڈیشن فراہم کرنا شروع کر دیے تھے ۔
الیکٹرانک کتاب تیار کرنے کے لیے مصنف سافٹ ویر میں اپنا مواد تیار کرکے وہ فائل پبلشر کی ویب سائٹ پر بھیجتا ہے ۔ پبلشر مصنف سے ضروری معاہدے کے بعد اپنی ویب سائٹ سے اس کتاب کو فروخت کرتا ہے ۔ دنیا  بھر میں کہیں بھی اس کتا ب کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کسی ویب سائٹ سے ای بک حاصل کرنے کے  لیے اس کی قیمت ادا کرنی ہوتی ہے ۔ قیمت ادا کرنے پر ہی پبلشر خریدار کو خصوصی طریقے اور پاس ورڈ سے آگاہ کرتا ہے ۔
مصنف کو پہلے ایڈیشن میں کچھ ترمیم و اضافہ کرنا ہو ، تو وہ نہایت آسانی سے کر سکتا ہے ۔ ترمیم و اضافے کا یہ طریقہ عام کتابوں کے مقابلے نہایت آسان اور سستا ہوتا ہے ۔
بے شمار فائدوں  کے ساتھ اس طریقہٗ اشاعت میں کچھ نقصانات اور خطرات بھی ہیں ۔ جیسے الیکٹرانک صفحات کو پڑھنے سے آنکھوں پر تناؤ بڑھنے سے تھکن ہوتی ہے۔ ای بک کو پڑھنے کے لیے کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ یا بک ریڈر کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ عام کتاب کو الماری سے نکالا اور پڑھنا شروع کر دیا ۔
بدلتے وقت کے ساتھ نئے زمانے کے ادبی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ای آرتھیر  یعنی الیکٹرانک مصنف بھی درکار ہوں گے ۔ آنے  والے  دور کے مصنفین کو اپنی تصانیف پڑھنے  والوں کے تقاضے ذہن میں رکھ کر تیار کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ پرانی معیاری کتابیں بھی اس طریقۂ کار کے ذریعے شائع ہونے کے امکانات ہیں ۔ آج کتابوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کاغذ کا خرچ، سیاہی ، چھپائی ، بائنڈنگ اور پیکنگ  وغیرہ اخراجات کی بچت ہو سکتی ہے۔  ای بک کے ذریعے یہ تمام اخراجات  صفر ہوں گے اور ادھر مصنف نے کتاب لکھی اور ادھر اس کو رائلٹی ملناشروع۔ ادبی دنیا کی اس تبدیلی کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ ٭٭
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com