بہار اردو اکادمی کا منعقد کردہ خواتین کا سہہ روزہ سیمنار

علامہ اقبال نے کچھ محسوس کر کے ہی کہا ہوگا :’’ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ‘‘ ڈاکٹر اقبال کے اس مصرعے سے وجود مرد کو اعتراض ہے، ( خاص طور سےکانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشرف عالم ذوقی نے اس مصرعے پر اعتراض جتایا تھا )۔ بہر حال یہ تو ہوتا ہی رہے گا ۔ رب کائنات نے مرد کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں بھیجا ، مگر تنہا نہیں پاسبانِ عقل کے ساتھ ۔ کرۂ عرض کی ایک بڑی طاقت اگر مرد ہے ، تو اس کی نصف بہتر یقیناً عورت ہے ۔ ہم اس بحث میں نہ الجھتے ہوئے بات اس سیمنار کی کرنا چاہتے ہیں ، جو گزشتہ دنوں ۲۵؍۲۳؍ ستمبر ۲۰۱۷ ؍ کو پٹنہ میں بہار اردو اکادمی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا ۔ موضوع تھا ’’ اکیسویں صدی کا نسائی ادب : نوعیت اور اہمیت ‘‘ ۔
بہار اردو اکادمی نے ایسے بہت سے کام کیے ہیں ، جو ملک کی دیگر اردو اکادمی نے کرنے کے بار ے میں سوچا بھی نہیں اوربہار اردو اکادمی کا سالانہ فنڈ کی رقم بھی اچھی خاصی ہے۔
ہمارے یہاں خواتین نے بہترین ادب تخلیق کیا ہے ، مگر پذیرائی کم ہوئی ہے ۔ بہت کم ایسی خواتین ہیں ، جنہوں نے اپنی سوچ کو ادب پارہ بنانے کی جرات کی اور کامیابی حاصل کر لی ہو ۔ یہ بھی ایک عام خیال ہے کہ خواتین اگر کچھ لکھتی ہیں ، تو خواتین کے مسائل یا بچوں کی نفسیات پر لکھتی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ خواتین اور بچوں کے سماجی ، نفسیاتی اور تعلیمی مسائل پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ شعری تخلیقات کے معاملے میں بھی خواتین کی تعداد کم ہے ، کیونکہ آج بھی ایسا خیال عام ہے کہ عورت کو شاعری نہیں کرنا چاہیے ، یا اسے شاعرانہ انداز میں اس طرح کہا جا سکتا ہے ’’سراپا غزل کو غزل نہیں کہنا چاہیے ۔‘‘
مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پانچ سو سال قبل ایسی ہی ایک خاتون نے فنون لطیفہ کو ذریعہ بنا کر عشق کی معراج حاصل کر لی تھی ۔ میرا نے رقص موسیقی اور شاعری کو اظہار کا ذریعہ بنا کر کرشن سے ایسا عشق کیا کہ وہ اس میں فنا ہو گئیں اور فنا ہو کر اپنے معشوق کرشن کو پا لیا۔۔ میرا آزادیٔ نسواں کی علم بردار تھیں۔ پانچ سو سال قبل انہوں نے جس طرح کے بھکتی گیت پیش کیے … جن میں محبوب سے محبت ، علم و عمل ، مساوات اخلاق اور نسائی احتجاج بھی شامل ہے ۔ بہر حال نسائی ادب کی بات ہو ، تو میرا کا بھی ذکر کیا جانا چاہیے۔
بہار اردو اکادمی کے سیکریٹری جناب مشتاق نوری نے تانیثی ادب کی نوعیت پر سہہ روزہ سیمینار کا انعقاد کر کے قابل ستائش کا م کیا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے خواتین تخلیق کاروں کو مدعو کرکے ایک اسٹیج فراہم کرنا اور تین دنوں تک مہمان خواتین کے قیام طعام کا انتظام اپنے آپ میں ایک چیلنج تھا ، جس میں کسی قسم کی بد نظمی نہیں ہوئی ۔
آج اگر ہم اس موضوع پر بات کرتے ہیں ، اس پر غور و فکر کرتے ہیں ، تو ہماری آنے والی نسل اس کے لیے تیار ہوگی ۔
اس سیمنار کا افتتاح بانو سرتاج نے کیا تھااور کلیدی خطبہ ثروت خان نے پیش کیا ۔ اس کے بعد سیشن میں مقالے پڑھے گئے ، افسانے پڑھے گئے اور خواتین کی ادبی تخلیقات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ تیسرے روز آخری سیشن میں خواتین کا مشاعرہ تھا ، جس میں خواتین شاعرات نے اپنی شعری تخلیقات پیش کیں ۔سہہ روزہ کانفرنس کی بہترین نظامت دہلی سے آئی ہوئیںمحترمہ تسنیم کوثر نے کی بہترین نظامت جس نے سامعین کو باندھ رکھا تھا اور پروگرام اپنے وقت کے مطابق شروع اور ختم ہوتا رہا ، یہ تسنیم کوثر کی نظامت کا کمال رہا ۔بانو سرتاج نے تخلیق کار خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے بذات خود اپنا تذکرہ بھی کیا ، اس بات پر صفدر قادری صاحب نے اعتراض جتایا کہ یہ خود ستائی ہے ۔ بہر حال :
خود ستائی ہی سہی ،برا کیا ہے ۔ بلکہ یہاں عبدللہ کمال کا یہ شعر صادق آتا ہے : تسلیم کر رہا ہوں خود کو کیا وقت مجھ پر آن پڑا ہے
دیگر خواتین نے بھی اپنے مقالے یا مضمون میں اپنا تذکرہ کیا یا تعارف پیش کیا ، ہاں مگر ’’ مہاراشٹر میں تانیثی ادب ‘‘ کے عنوان سے جو مضمون میں نے پیش کیا اس میں اپنا تذکرہ نہیں کیا ۔ کیونکہ یہ احساس تھا کہ تسلیم کیے جا چکے ہیں ۔ اس اسٹیج پر وہی خواتین پہنچ سکیں ، جن کی خدمات کو تسلیم کیا گیا ۔ اس سیمینا ر میں ایک قابل اعتراض جملہ یہ بھی تھا کہ ’’ نوری صاحب نے اپنی منظور نظر خواتین کو مدعو کیا ہے ۔ ‘‘ اس قسم کے جملے مرد اساس معاشرے کی طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، کہ خواتین ایسے جملوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹ جائیں گی ۔
نگار عظیم نے اپنے صدارتی خطبے میں ٹھیک ہی کہا ’’ کہ تانیثی ادب کی تخلیق اور پذیرائی ہونا چاہیے ۔ عورت کو گھر میں بھی ہمیشہ یہ سننے کو ملتا ہے ’’ یہ مت کرو ، وہ مت کرو ، دھیرے بولو ، ایسے کرو ویسے کرو ۔۔۔۔ وغیرہوغیرہ ۔۔۔ اور آج اس اسٹیج پر بھی اعتراضات جتائے جا رہے ہیں کہ بانو سرتاج نے خود ستائی کی اور یہ کہ یہ کہنا چاہیے اور یہ نہیں کہنا چاہیے ۔‘‘نگار عظیم کا صدارتی خطبہ پر مغز رہا ۔
اگر دیکھا جائے ، تو عورت گھر گرہستی کی ذمہ داری اور سماج کی پاسداری کاخیال رکھتے ہوئے آج بھی پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہے ۔عورت ادبی تخلیقات پیش کرتی ہے ، تو گویا دو دھاری تلوار پر چلنے کے عمل سے گزرتی ہے۔ ایک عام مقولہ ہے ’’ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھےعورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔‘‘ مگر یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ ’’ خواتین کی ناکامی کے پیچھے مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے؟‘‘بہر حال یہ کلیہ نہیں ہے ،آج جتنی خواتین تخلیق کار اپنا نام اور مقام بنایا ہے ، ان کے پیچھے ضرور کسی نہ کسی مرد کا ہاتھ ہے ، خواہ وہ کسی بھی شکل میں ۔
جیسا کہ خواتین کےاس سیمینار کا انعقاد کرنے والے بہار اردو اکادمی کے سیکریٹری مشتاق احمد نوری ہیں۔ مگر اس سیمنار میں کچھ نا خوشگوار واقعات بھی ہوئے ، جن کا تذکرہ ضروری ہے ۔ بہار اردو اکادمی کے احاطے میں کانفرنس کے دوران معروف فکشن نگارشموئل احمد پر حملہ کیا گیا ، جس کے لیے شموئل احمد نے مقامی پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائی ہے۔اس کے بعد انہیں علاج کے لیے پی ایم سی ہسپتال میں داخل کروایا گیاتھا اسی شام وہ ڈسچارج لے کر گھر چلے گئے ۔ شموئل احمد کے مطابق ان کے سر میں گہری چوٹ آئی ہے ، جس کے لیے وہ سٹی اسکین رپورٹ کا انتظار کریں گے ۔
حملے کی وجہ پوچھنے پر شموئل احمد نے کہا کہ’’ گزشتہ دنوں ” لنگی”کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا تھا،جس کا موضوع یونیورسٹی میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والا جنسی استحصال تھا۔میرا افسانہ پورے سسٹم کو ایکسپوژ کرتا ہے، مگر کچھ لوگوں کواس پر اعتراض ہے ۔ اعجازعلی ارشد نے اس بات کو لے کر گالی گلوچ شروع کی اور کہا کہ یہ افسانہ کیوں لکھا۔ان کےساتھ آصف نام کے شخص تھے ،یہ لوگ پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے اور گالی گلوچ کے ساتھ مجھے دھکا دے دیا۔‘‘
شموئل احمد کا کہنا ہے کہ’’ ادیب کاکام ہی بدعنوانیوں کو اجاگر کرنا ہے اور میں نے وہی کیا ہے ۔ آپ ادیب کی آواز کو دبا نہیں سکتے ۔‘‘
شموئل احمد کے ساتھ کسی قسم کے ہنگامے کی نہ توقع تھی اور نہ ہی ایسی کوئی اطلاع تھی ، مگر اکادمی کے سیکریٹری نے شیریں دلوی کو یہ اطلاع دی تھی ، کہ کچھ مقامی صحافی آپ کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنے والے ہیں ، وہ تو شکر ہے کہ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ۔ مگر ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ اس تعلق سے پٹنہ کے انقلاب میں ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی ۔ دراصل بہار اردو اکادمی کی سہہ روزہ کانفرنس میں یہ دو ناخوشگوار واقعات ہونے سے ذرائع ابلاغ کی توجہ اصل پروگرام سے ہٹ گئی ۔
کہتے ہیں جہاں کام ہوتا ہے ، وہاں تنقید بھی ہوتی ہے ، یہی صورت حال بہار اردو اکادمی کے ساتھ بھی پیش آئی ہے ۔ کام کتنا اور کس نوعیت کا ہو رہا ہے ، یہ سب ہی جانتے ہیں ، مگر ایک مقامی اخبار کے نمائندے نے کچھ ایسے معاملات پیش کیے ہیں ، جس سے بہار اردو اکادمی کے آگے کئی سوالیہ نشان لگتے ہیں ۔ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۷؍ کو دربھنگہ کے ایک سماجی کارکن نذر عالم نے لکھا ہے ۔ ’’ جب سے ریاستی حکومت نے ’’ بہار اردو اکادمی ، پٹنہ ‘‘ کا سیکریٹری مشتاق احمد نوری کو بنایا ہے ، اکادمی اور اردو دونوں کا برا حال ہے ۔ مزید تفصیلات میں نہ جاتے ہوئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ اقتدار کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ صحافی حضرات تیز نگاہ رکھتے ہیں ، ان سے کوئی بات نہیں چھپ سکتی اور وہ سچ اور جھوٹ کے درمیان جو فرق ہوتا ہے ، اسے واضح کرتے ہیں ۔جھوٹ مکھی جتنا ہو ، یاہاتھی جیسا ، وہ جھوٹ ہی ہوتا ہے ۔درج بالا دو واقعات کی وجہ سے سہہ روزہ کانفرنس کا جو رنگ نظر آنا چاہیے تھا ، وہ نہیں آ سکا ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com