تراشے

٭مشہور امریکی مزاح نگار مارک ٹوین اپنے ابتدائی دنوں میں ایک اخبارکا اڈیٹر تھا … ایک دفعہ کسی وہمی خریدار کواخبار کے اندرونی صفح پر ایک مکڑی ملی ۔ اس نے اڈیٹر سے استفسار کیا کہ اخبار میں مکڑی ملنا کیسا شگون ہے ؟
مارک ٹوین نے اس کے جواب میں لکھا… ’’جناب کو جو اخبار میں مکڑی ملی ہے ، وہ نہ نیک شگون ہے نہ بد شگون … وہ تو ہمارے شعبۂ اشتہارا ت کا اس لیے مطالعہ کر رہی ہے کہ … کون سا تاجر اشتہار نہیں دیتا تاکہ وہ اس کے گودام کے دروازے پر جالا تان کر باقی عمر اطمینان سے گزار سکے ۔
٭ لندن میں ساقی فاروقی کا ایک محبوب مشغلہ ہے ، باہر سے آنے والے دوستوں کو مرحوم مشاہیر کے مکانوں اور ان سے منصوب جگہوں کی سیر کروانا ۔
جب ہم لندن پہنچے اور ساقی صاحب سے ملاقات ہوئی ، تو ایسی ہی ایک سیر کے دوران انہوں نے مجھے عطاالحق قاسمی اور بڑے قاسمی یعنی احمد ندیم قاسمی صاحب کو ڈی ایچ لارنس ، چارلس ڈکنز ، رابندر ناتھ ٹیگور ، جان کیٹس اور ڈاکٹر جانسن سے منسوب مختلف جگہیں دکھائیں اور ساتھ ساتھ کمنٹری بھی جاری رکھی کہ ان آدمیوں کی ان جگہوں سے تعلق کی نوعیت کیا تھی ۔
اس عمل میں تین چار گھنٹے لگ گئے ۔ زبان پر کانٹے اگنے اور پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے ، مگر ساقی اپنے وفورِ شوق اشتیاق میں ایسے محو تھے کہ انہیں ہماری حالت کی خبر ہی نہیں تھی ۔ہم لوگ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو رہے تھے ، مگر ساقی کو اس کی کوئی خبر نہ تھی ۔ اچانک ایک جگہ رک کر عطاالحق قاسمی نے ساقی فاروقی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بہت سنجیدگی سے پوچھا ’’ یار ساقی ! یہاں کوئی ایسی جگہ نہیں ، جہاں ’’ مشہور ‘‘ لوگ بیٹھ کر کھانا وانا کھایا کرتے تھے ؟

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com