جاوید صدیقی کے’’روشن دان ‘‘سے اعلا اقدار کی روشنی جھانکتی ہے

جاوید صدیقی کے’’روشن دان ‘‘سے اعلا اقدار کی روشنی جھانکتی ہے

’’غلام احمد خاں آرزو حیات و خدمات ‘‘ یہ کتاب جب زیر ترتیب تھی ، اس دوران پہلی بار جاوید صدیقی کی تحریر پڑھنے کا موقع ملا ۔ ’’ کرسی خالی ہے ‘‘ غلام احمد خاں آرزو پر لکھا گیا خاکہ ۔ ہم نے جب اسے ٹائپ کرنا شروع کیا ، تو دو ہی پیراگراف ٹائپ کرنے پر ہمارے صبرکا پیمانہ ٹوٹ گیا اور ہم نے ٹائپنگ چھوڑ کر اسے پڑھنا شروع کر دیا ۔ جب اسے پورا پڑھ لیا اور دوبارہ ٹائپنگ شروع کی تو اسے ٹائپ کرتے ہوئے بڑا لطف آ رہا تھا ۔ کیونکہ آگے کیا ہوا ہوگا ، ہمیں اس کا علم تھا اور ذہن تجسس کے حصار سے آزاد تھا ۔ غلام احمد خاں آرزو کے خاکے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
’’ میں نے ان کا ایک او ر مزے دار قصہ سنا … روس کے ڈکٹیٹراسٹالن کے آخری دن تھے ، وہ بہت دنوں سے کوما میں تھا ۔ روز خبریں چھپتی تھیں ۔ اب مرا ، تب مرا ، مگر کم بخت ایسا سخت جان تھا کہ مرتا ہی نہیں تھا ۔ اخبار والے اس کا صحت نامہ چھاپ چھاپ کے تنگ آ چکے تھے … ایک دن شام کو خبر آئی کہ اسٹالن کی حالت بہت نازک ہو چکی ہے ۔کچھ گھڑی کا مہمان ہے … آرزوؔ صاحب نے کہا ۔ ’’ بھئی ، سویرے تک تو مر ہی جائے گا ۔ اس لیے بڑی سرخی لگا دو … ‘‘ ان کے حکم کے مطابق پوری رپورٹ تیار کی گئی اور صفحہء اول پر سرخی لگائی گئی … ’’ روسی ڈکٹیٹر اسٹالن فوت ہو گئے ۔ ‘‘
کسی بھی اخبار میں اسٹالن کی موت کی خبر نہیں تھی ۔ حد یہ ہے کہ ٹائمس آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس بھی خالی تھے … ہر ایک کو حیرت تھی کہ وہ خبر جو کسی کو نہیں ملی آرزوؔ صاحب کو کیسے مل گئی … ؟ تب تک پی ٹی آئی اور ریڈیو کے ذریعے تصدیق ہو چکی تھی کہ اسٹالن سچ مچ مر چکا ہے … چنانچہ ، شام کو انڈین ایکسپریس کا رپورٹر آرزوؔ صاحب کا انٹرویو لینے پہنچ گیا ۔ اس نے پوچھا ۔ ’’ اسٹالن کی موت کی خبر سب سے پہلے آپ کو کیسے مل گئی ؟ ‘‘ آرزوؔ صاحب نے بڑے غرور سے کہا ۔ ’’ ماسکو میں ہمارا نمایندہ ہے ۔ ‘‘ رپورٹر نے پوچھا ۔ ’’ اس نے یہ خبر آپ کو کس طرح بھیجی ؟ ‘‘ آرزوؔصاحب نے کہا ۔ ’’ ٹیلی فون کے ذریعے ۔ ‘‘ رپورٹر نے کہا ۔ ’’ مگر اسٹالن کی موت ہندستانی وقت کے مطابق سویرے ہوئی ہے ۔ تب تک تو آپ کا اخبار چھپ گیا ہوگا ؟ ‘‘ آرزوؔ صاحب بڑی ادا سے مسکرائے اور رازدارانہ انداز میں بولے ۔ ’’ عجب گھامڑ آدمی ہو ۔ جرنلسٹ ہو کر اتنا بھی نہیں جانتے کہ بڑی خبر آنے والی ہو ، تو کاپی روک کے رکھتے ہیں ۔ ‘‘ اﷲ جانے رپورٹر نے مانا یا نہیں مانا ، مگر جو لوگ آرزوؔ صاحب کے مزاج داں ہیں ، وہ کہتے ہیں ’’ ایسا کام آرزوؔ صاحب ہی کر سکتے تھے ۔ـ‘‘
بتائیے ایسی تحریر ہو تو کون صبر کر سکتا ہے ؟
اس کے بعد سلطانہ جعفری پر لکھا گیا خاکہ ’’ موگرے کی بالیوں والی ‘‘ نظر سے گزرا ۔جاوید صدیقی کے خاکے پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم خود اس عہد کو جی رہے ہوں ۔یہ خاکہ نگاری کا کمال ہے ۔ جاوید صدیقی کی کتاب ’’روشن دان ‘‘ جب ہمارے ہاتھ آئی ،تو محسوس ہوا ایک زمانہ ایک صدی ہمارے سامنے ہے۔ خاکوں کی یہ کتاب ایک ایسا روشن دان ہے جس سے ہم نے جھانکنے کی کوشش کی تو ان کی زندگی کے نشیب و فراز واضح ہونے لگے ۔ ایسا روشندان ، جس میں جاوید صدیقی کی زندگی کے ساتھ ساتھ ان افراد کی زندگی کے شب و روز اور انداز و اطوار سامنے آ جاتے ہیں ، جو کسی دور میں یا کسی وجہ سے ان کے قریب رہے ہوں ۔
خاکہ نگاری کیا ہے ؟ کیسا فن ہے اس پر بحث نہ کرتے ہوئے کیوں نہ ہم اس روشن دان سے جاوید صدیقی اور نے اطراف جینے والے لوگوں کا طرز حیات دیکھ لیں ۔ روشن دان میں شامل ہر شخص اعلا اخلاقی قدروں کا حامل نظر آتا ہے ۔یہ اخلاقی قدریں اور ہماری تہذیب ہی ہمارا سرمایہ ہے۔زندگی کے نشیب و فراز ، حالات کی سختیاں اور پھر اخلاقی قدروں کا پاس یہ سب کچھ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحفہ ہے ۔
جاوید صدیقی پیداتو ہوئے نواب گھرانے میں ، مگر پیدا ہوتے ہی جائدادیں ضبط ہو گئیں ۔ والد جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے ، جیل سے لوٹے تو چند ہی دنوں میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ حالات بالکل اس شعر کے مصداق ہو گئے : کوئی سایہ نہ شجر ہے اپنا جلتے صحرا میں سفر ہے اپنا
بچپن ہی میں جاوید صدیقی نے بے شجر و سایہ جلتے صحرا میں زندگی کا سفر شروع کیا ۔ اس وقت وہ جس گھر میں رہتے تھے ، ان کے ساتھ سرپرست کی حیثیت سے ان کی دادی اور ایک خاندانی ملازمہ ’’ حجیانی ‘‘ تھیں ۔ زمینداریاں ختم ہو چکی تھیں اس کے بعد کا دور دادی اور حجیانی کے ساتھ کس طرح گزراملاحظہ ہو :
’’ سارے زیور اور چاندی کے برتن پہلے ہی بک چکے تھے گھر کا وہ تمام سامان جو ضروری نہیں تھا پرانا گنج کے کباڑی کی دوکان پر جا چکا تھا۔ دادی کے پاس ایک گلوبند رہ گیا تھا ، شاید انہوں نے جان بوجھ کر روک لیا تھا ۔ ایک ایک انچ کے سات آٹھ ٹکڑے آپس میں جڑے ہوئے تھے ، اس کی خوبی یہ تھی کہ اسے دونوں طرف سے پہنا جا سکتا تھا ۔ایک طرف سفید کندن تھا اوردوسری طرف سبز مینا ۔ وہ اسے میری دلہن کو منہ دکھائی میں دینا چاہتی تھیں ۔مگر روٹی دلہن کی منہ دکھائی سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے جب کبھی حجیانی بازار جانے سے پہلے پیسے مانگنے کھڑی ہو تیں ، تو دادی چھالیہ کاٹنے کا سروتا پاندان سے نکالتیں، اس اندھیرے کمرے میں جاتیں ، جہاں کچھ صندوق اب بھی رکھے ہوئے تھے ۔ کسی ایک صندوق سے ایک ڈبہ نکالتیں ، اسے کھول کر اس میں رکھے ہوئے گلو بند کو دیر تک دیکھتی رہتیں ، پھر سروتے سے سونے کا ایک ٹکڑا کاٹتی اور حجیانی کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیتیں ۔ ‘‘
درج بالا تحریر میں کس قدر سچائی ہے اور سچ کے اظہار میں کوئی جھجک نہیں ہے ۔ ’’ مگر روٹی دلہن کی منہ دکھائی سے زیادہ ضروری ہے ۔ ‘‘ سروتے سے گلوبند کاٹتے وقت ان کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی … اور گلوبند ختم ہونے کے بعد …؟ پیٹ کے آگے ایک بھیانک سوال…ایسے ہی زندگی کے نشیب و فراز ان کی تحریر سے عیاں ہوتے ہیں۔ حجیانی پر لکھا گیا خاکہ حجیانی کے کردار کو پوری طرح نظروں کے سامنے لاتا ہے ، مگر ساتھ جاوید صدیقی نے بچپن سے جوانی تک جو سخت دور دیکھا ہے ، اس کی مکمل عکاسی بھی کرتا ہے ۔ غربت کو وہ کس شان سے جی رہے تھے ۔ واقعی انہوں نے غربت کو اس شان سے جیا کہ جب وہ اپنے کسی عزیز سے ادھار قرض لے کر ( جس کے لیے ان کے رشتے دار نے اپنی اکلوتی گائے فروخت کر دی تھی ، جس کا دودھ ان کے بچے پیا کرتے تھے )اور پرانے بکسے میں اپنے مرحوم والد صاحب کے کپڑے رکھ کر ممبئی کا رخ کیا ، تو اس نواب زادے سے غربت اس قدر شرمندہ ہو کر بھاگی کہ پلٹ کر پھر جاوید صدیقی کے گھر کا رخ نہیں کیا۔
یہ خاکے انہوں نے مختلف شخصیات پر لکھے ہیں ، مگر ہر خاکے میں وہ ضرور موجود ہیں ۔ ’’موگرے کی بالیوں والی‘‘ سلطانہ جعفری پر لکھے گئے خاکے میں ، انہوں نے ممبئی میں اپنی ابتدائی زندگی کے حالات کا تذکرہ بھی کیا ہے ۔ ترقی پسند تحریک کے عروج کا دور اور ان کی عملی زندگی شروع ہوتی ہے ، مضامین کے ترجموں سے ، یہ کام انہیں سلطانہ جعفری دلوایا کرتی تھیں۔ وہ کس طرح اخبار بچھا کر سوتے اور آنکھ کھلنے پر اپنی جیب سے ٹٹول کر ایک آنہ نکالتے اور کسی چائے خانے میں چائے پی کر خوشی سے نئے دن کا استقبال کرتے، ان کی زندگی کے یہ واقعات پڑھنے والوں کو حوصلہ دیتے ہیں ۔
جاوید صدیقی کے لکھے گئے خاکوں کی زبان اور انداز بیان بہت عمدہ ہے ، کبھی کبھی اس پر مبالغے کا گمان ہوتا ہے ۔ خاکوں کی کتاب اور اتنی دلچسپ ہوگی ، یہ ہمارے لیے نیا تجربہ ہے ۔ ٭٭

٭شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com