خاتون افسانہ نگار کا خط ایڈیٹر کے نام

خاتون افسانہ نگار کا خط ایڈیٹر کے نام

محترم ایڈیٹر صاحب
روزنامہ ، ممبئی
آداب و تسلیمات !
مزاج گرامی بخیر ہیں اور ہمیں امید ہے کہ آپ بھی خیریت سے ہوں گے ۔ کئی ماہ گزر گئے ، ہم نے آپ کو کوئی خط نہیں لکھا اور ادھر کچھ دن گزر گئے ، جو ہم نے افسانہ بھی نہیں لکھا ۔ گزشتہ مہینوں سے آپ خواتین کے صفحہ کے لیے کسی مضمون یا افسانے کی فرمائش کر رہے ہیں ، جسے ہم بروقت پورا نہیں کر سکے ،اس کے لیے معذرت خواہ ہیں ۔ایڈیٹر صاحب کیا بتائیں آپ کو ہماری صبح کیسے ہوتی ہے اور شام کب ہوتی ہے ، عورتوں کی زندگی بھی بڑی عجیب ہوتی ہے ۔ گھر ، شوہر ، بچے ، ساس، نندیں ، دیور اورایسے ہی کئی رشتے نبھانے ہوتے ہیں ۔
ہماری ساس بے حد نفاست پسند ہیں ، اس قدر کہ جب وہ باورچی خانے میں خانساماں کی نگرانی کر رہی ہوتی ہیں ، تو نمک بھی دھو کر استعمال کرنے کہتی ہیں ، اب آپ ہی بتایئے بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ، اکثر ان کی ان ہی حرکتوں سے خانساماں کام چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کھانا پکانے کی ذمہ داری ہمارے سر آ جاتی ہے ، وہ تو بھلا ہو ہماری ملازمہ کا کہ کچھ پکانا جانتی تھی ، تو خانساماں کے جاتے ہی اس نے باورچی خانہ سنبھال لیا ، مگر یہ ہے کہ ہماری رہنمائی اور نگرانی کے بغیر کھانا تیار نہیں ہو پاتا ۔ رہنمائی سے مراد یہ کہ ہم اسے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے ، مثلاً مصالحے ، اناج ، شکر چائے پتی وغیرہ، مگر تلاش کے باوجود وہ اشیا ہمیں نہیں مل پاتیں اور وہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ بہر حال عورت ہونے کی تمام خصوصیات ہماری ملازمہ میں ہیں ، وہ اپنے بیٹے کو بھی لے آتی ہے ، جو ہمارے یہاں سودا سلف لے آتا ہے اور ہماری گاڑیاں بھی صاف کر دیتا ہے ، مگر اس پر بھی ہماری توجہ ضروری ہے ۔
ایسی ہی بے پناہ مصروفیت کے ساتھ ہماری صبح ہوتی ہے ۔ شوہر نامدار دفتر جانے کے لیے ہڑبونگ مچائے رہتے ہیں ، چونکہ لانڈری سے آئے ہوئے ان کے کپڑے ہماری ملازمہ ہی الماری میں رکھ دیتی ہے ، اس لیے اس کی ترتیب ہماری سمجھ میں نہیں آتی ، جب تک وہ کپڑے ، جرابیں اور رومال نکال کر دیتی ، ہمارے نصف کمتر ( ہاں شوہر کو نصف کمتر ہی کہتے ہوں گے نا ؟ کیونکہ بیوی کو نصف بہتر جو کہتے ہیں )دونوں بچوں کو اسکول لے جانے کے لیے تیار کرتے ہیں ، روزانہ بتانے کے باوجود وہ گڈو کے موزے ، ببلو کو اور ببلوکے موزے گڈو کو پہنا دیتے ہیں ، کبھی دونوں کا واٹر بیگ بدل دیتے ہیں ، تو کبھی آئی کارڈ ہی لگانا بھول جاتے ہیں ، اتنی مغز ماری سے بچوں کو تیار کروانے تک ، ملازمہ میز پر ناشتہ لگا دیتی ہے ، نصف کمتر اور بچوں کے ساتھ ناشتے کی میز پر کچھ کھا لینے کے بعد ہماری حالت مزید خراب ہو جاتی ہے ، بچوں کو ان کے ساتھ روانہ کرنے کے بعد ملازمہ کو ساس کی خدمت میں روانہ کر تے ہی چین کا سانس لیا جاتا ہے ۔ پورا گھر بکھرا ہوا دیکھ کر ہماری آنکھ لگ جاتی ہے ۔ جب ملازمہ بکھرے گھرکو سمیٹ لیتی ہے ، صفائی کر لیتی ہے اور کھانا پکانا شروع کر د یتی ہے ، تو پکوان کی اشتہا انگیز مہک سے ہماری آنکھ کھل جاتی ہے ، اس وقت تک بھوک بھی کھل جاتی ہے ۔ ہم ڈائینگ ٹیبل پر کھانا پروس کر نصف کمتر کو فون لگا دیتے ہیں ، کیونکہ اس وقت تک ان کا بھی لنچ ٹائم ہو چکا ہوتا ہے ، فون پر گفتگو کرتے ہوئے ہم دونوں کھانا کھاتے ہیں ، تو ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا کہ اکیلے کھا رہے ہیں ۔
ایڈیٹر صاحب ،یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ قیلولہ صحت کے لیے کتنا مفید ہے ، تو بس ذرا گھڑی بھر کے لیے قیلولہ کی نیت سے لیٹ جاتے ہیں ، تو ہماری نندیں اپنی والدہ سے ملنے آ جاتی ہیں ، ماں اور بیٹیوں کے درمیان نہ جانے کیا سرگوشیاں ہوتی ہوں گی ، یہ خیال ہمیں چین سے قیلولہ بھی نہیں کرنے دیتا ، ہمارے کان دیواروں سے لگ جاتے ہیں یا پھر ہم خود ہی ان کی خاطر مدارات کے بہانے شام کی چائے اور ناشتہ ان کے کمرے تک لے جاتے ہیں ، بس پھر کیا دیکھتے ہی دیکھتے مغرب ہو جاتی ہے ۔ نصف کمترواپسی میں اپنے ساتھ ہی بچوں کو اسکول سے لے آتے ہیں ، ملازمہ رات کا کھانا چن دیتی ہے ، اف اوہ ! رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی ؟ وہ تو چہل قدمی کے لیے جاتے ہیں ، ہم سے بھی اصرار کرتے ہیں ، مگر ہم ؟ ہم کیسے جا سکتے ؟ دن بھر کی مغز ماری سے شام تک ہم تھک جاتے ہیں اور بس ذرا دیر رات تک ٹی وی سیریل دیکھتے دیکھتے ، ہمیں نیند آ جاتی ہے ۔ پھر نئی صبح ، نیا دن ایسی ہی مصروفیت کے ساتھ ہمارے سامنے ہوتا ہے ، بتائیےایڈیٹر صاحب ہمارے پاس وقت ہی کہاں ہے کہ ہم آپ کے اخبار کے مخصوص گوشۂ خواتین کے لیے کوئی مضمون یا افسانہ لکھ سکیں ؟ سوچا آج خط لکھ کر آپ اپنی مصروفیات سے آگاہ کر ہی دیں ۔ بتائیے عورتوں کی زندگی بھی کیا ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مرد توخوب لکھتے ہیں ، شاعر ادیب اور صحافی ہوتے ہیں ، مگر عورتیں بے چاری چاہتے ہوئے بھی اپنی ۔۔۔تخلیقات پیش نہیں کر پاتیں ، کہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا !

والسلام
خیر اندیش
شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com