روحزن‘‘پامال موضوع کا پُرجمال و پرملال تخلیقی اظہاریہ

بلا شک و شبہ عمدہ وکامیاب ناولوں کی صف میں کھڑا ناول

پروفیسر علی احمد فاطمی

رحمٰن عباس اردو کے ممتاز ناول نگار ہیں۔ کم عمری میں ہی اپنے کئی ناولوں کے ذریعہ اردو فکشن کی دنیا میں اہم شناخت قائم کر چکے ہیں۔ انگریزی کے استاد ہونے کے ناتے ان کے ذہن میں نئے فکشن اور تجرباتی فکشن کو لے کر اپنے تصورات ہیں اور کچھ تحفظات بھی جو اکثر ان کے تنقیدی و تاثراتی مضامین میں نظر آتے ہیں۔ ’روحزن‘ ان کا تازہ ترین ناول ہے جو اسی سال (۲۰۱۶ء) بڑے اہتمام کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اس سے قبل کہ ناول کے فکر و فن پر گفتگو کی جائے ناول کے عنوان پر ہی نظر ٹکتی ہے۔ یہ کیا عنوان؟ اس کے معنی کیا ہیں؟ اس کی وضاحت ناول کے آخر میں ملتی ہے۔لکھتے ہیں :
’’اس لفظ کو روح اور حزن کا مرکب نہ سمجھا جائے۔ روحزن بطور سالم لفط ایک ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی صورت حال کو پیش کرتا ہے۔ ناول اس کیفیت کی پیش کش کے ساتھ ایک نئے لفظ کو صورت عطا کرنے کی کوشش ہے۔‘‘
یہ صورت کیسی بنی ، گفتگواس پر ہونی چاہئے۔، بانی کے مصرعوں، مارک ٹیوئن کی مثالوں، اور ممبئی کے انگریزی میپ سے ناول کا آغاز ہوتا ہے۔ عجیب شروعات جو اسرار اور حنا کی زندگی کے آخری دن سے ہوتی ہے لیکن اصل شروعات تو ممبئی کے سمندر سے ہوتی ہے، طوفانی سمندر۔ سب جانتے ہیں کہ ممبئی اور سمندر لازم و ملزوم ہیں۔ اس ناول میں بھی، ناول اور سمندر کی وہی کیفیت ہے۔ سمندر میں اسرار کے والد ملک دیش مکھ اور احباب ساجد سولکر، عابد سولکرکے تعارف سے ہوتی ہے۔ مابعد مورفو، سمندر کی رانی اور غرقابی۔ صرف عابد بچتے ہیں۔ اسرار کی بیوہ ماں ۔ سوکھی مچھلی کا معمولی کاروبار، بے چارگی اور بے روزگاری میں نوجوان اسرار کا رتناگری سے ممبئی آتا ہے۔ ممبئی میں دوستوں سے ملاقات گجراتی اور غیر گجراتی کی تکرار۔ اس تکرار میں مراٹھی عوامی یا بمبیا بولی کااظہار قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ پولی، کھولی اور رشتوں کی رنگولی ۔ایک چکاچوند اور پھر یہ بلیغ جملہ ’’ جلوہ ریز اور نگاہ شوق کے درمیان حائل پردہ بعض اوقات مٹ جاتا ہے۔‘‘ کھولی کے حبس زدہ تنگ ماحول کا اظہار اور اسرار کا احساس ’’ ایک پل میں تو اس کے دل میں خیال آیا کہ ہینگر پر کپڑوں میں ملبوس لوگ ٹنگے ہیں اور بستروں پر ان کی روحیں سو رہی ہیں۔‘‘ معنی خیز جملہ ہے جو ممبئی جیسے بڑے شہر کی عوامی اور جدوجہد کرنے والی عرق انگیز معمول کا اشاریہ بنتا ہے اور پھر یہ جملہ ’’ ممبئی میں جنات کہاں یہاں کھالی بھوت ہوں گے۔‘‘یہ بھی ممبئی کے سنگھرشوں، انسان نما جناتوں کی طرف عمدہ اشارہ کرتاہے۔ ایسے میں اسرار کی نیند اور نیند میں سپنا (جو خواب ہوتا تو بہتر تھا) لیکن خواب چونکہ ممبا دیوی کودکھانا تھااور ممبا دیوی تو سپنوں میں ہی آتی ہیں۔ اس لئے قرآن کی آیت پڑھنے والا اسرار خواب نہیں سپنا دیکھتا ہے۔بہرحال سپنے میں دیوی سے گفت و شنود ، ممبا کے نام پر ممبئی لیکن دیوی ممبئی کی موجودہ صورت حال پر خود حیران و پریشان ۔ سپنے میں ہی سہی دیوی اسرار پر اس شہر کے اسرار کھولتی ہے۔ کالے پن کا راز بتاتی ہے۔ لیکن یہ سب سپنے میں تھا۔ جب آنکھ کھلی تو دوست نے کہا ’’پہلے نہا لے، پانی ساڑھے دس بجے چلا جائے گا۔‘‘خواب میں پانی ہی پانی حقیقت میں پانی کی قلت ہی قلت، سنڈاس کی لائن، دوست کی جھلاہٹ، ہر جگہ لائن، سڑے ہوئے سنڈاس کے لئے بھی لائن۔‘‘ بہر حال اسرار کو بھی سنڈاس جانا پڑا۔ مصنف نے نہایت باریکی سے سنڈاس کا جو منظر پیش کیا ہے وہ خوبصورت تو نہیں ہو سکتا لیکن لاجواب ضرور ہے۔ نہایت باریکی سے پیش کی گئی جزئیات نگاری ناول کی ابتدا کو جاندار بناتی ہے۔ جزئیات نگاری یوں بھی ناول نگاری کا غیر معمولی حصہ ہوا کرتی ہے جو دورحاضر کے اردو ناولوں سے غائب سی ہوتی جا رہی ہے لیکن اس ناول میں جا بجا اس کے بہترین نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ سنڈاس کے بوسیدہ دیوار پر بنی ہوئی گندی لیکن شہوت بھری تصویریں اسے یاد کے ذریعہ دوسرے ماحول میں لے جاتی ہیں جہاں مس جمیلہ ہیں، خود اسرار ہے اور سمندر کے کنارے کے طوفان اور بارش۔ تخلیقی سفر جزئیات نگاری سے آگے بڑھ کر منظر نگاری میں تبدیل ہوتا ہے اور سمندر کے ساحلوں، جنگلوں اور بوسیدہ پرانی عمارتوں کی خوبصورت منظر کشی کرنے اور اسے جذبات و احساسات اور نوعمر نفسیات کو بڑے دلکش انداز میں ہم آہنگ کیا گیا ہے اور اس طرح کے معنی خیز جملے ناول کی فضا ، کیفیت اور معنویت کو آگے بڑھاتے ہیں :
’’جسم کی آنکھ بہت طاقتور ہوتی ہے۔‘‘
’’خواہش کا کوئی مذہب کیوں نہیں ہوتا۔‘‘
’’خواہش آدم کی مٹی کا کلیدی عنصر ہے۔‘‘
ناول کے کرداراپنے مکالموں سے ہی اپنی پہچان کراتے ہیں اور جذبات نگاری و منظرنگاری ناول نگاری کی پہچان کراتے ہیں اور اگر دونوں میں ایک تخلیقی و معنیاتی ہم آہنگی پیدا ہوتی چلے تو ناول صرف قصہ یا واقعہ نہیں رہ جاتا بلکہ ایک جذباتی رویہ سے اوپر اٹھ کر زندگی کا تجربہ اور تجربے سے فلسفہ بننے لگتا ہے اور عمدہ و بڑے ناول کا اصل مقصد یہی ہوا کرتا ہے بلکہ ناول بڑا بنتا ہی ہے اسی عمل سے۔ جس گابریل مارکیز کی مثال مصنف نے ایک صفحہ پردی ہے اسی نے یہ بھی کہا تھا ’’ ناول نگار کا کام صرف سوانحی تفصیلات پیش کرنا تو نہیں ہے۔‘‘ بلکہ اس کے آگے کی چیز ہے بلکہ پوشیدہ چیز ہے۔ اچھے ناول نگار کو بھی سمجھنا ہے تبھی تو فاسٹر نے کہا تھا :
’’انسانی زندگی کے پوشیدہ پہلوؤں کو ظاہر کرنے کی جو قوت ناول میں پائی جاتی ہے وہ اس کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ مس جمیلہ کا خوبصورت خیال بد صورت جگہ پر آتا ہے۔ یہ ایک نازک عمل ہے جس کو ناول نگار نے ایک اور جملہ لکھ کر ’’خواہش ہر مٹی میں زندہ ہوتی ہے اور خواہش کا کوئی موسم نہیں ہوتا۔‘‘یہ خواہش بدبودار سنڈاس میں بھی پیدا ہو سکتی ہے اور نشیلی بارش میں بھی۔ رنگیلے موسم میں بھی غرضکہ موسم و مٹی کوئی بھی ہو موم بتی ہر جگہ پگھلتی ہے۔ خواب حقیقت میں بدلتے ہیں اور پھر وہ واپس بدبودار دنیا میں آ جاتا ہے۔ ایک بدبودار منظر کی جزئیات دیکھئے :
’’کتے کا آدھا جسم فٹ پاتھ کے کنارے جمع گندے پانی میں تھا۔ کتے کی آنکھیں بند تھیں اور ناک کے پاس ایک موٹی سی مکھی ایک مٹھائی کے ٹکڑے پر السی گدھے کی طرح بیٹھ کرکتے کی ناک کو دیکھ رہی تھی۔ کتے کی ناک مکھی کے لئے یقیناً ایک سرنگ تھی۔ ممبئی بھی بعض اوقات نوواردات کو سرنگ لگتی ہے ۔ فٹ پاتھ پر اسرار کو تین چار بڑے بل نظر آئے۔ کتے نے اچانک اپنی دم زور سے ہلا کر ایک چوہے کو بھگایا جو دم پر لگے کچرے کو کھانے کی کوشش کررہا تھا۔ چوہا فوراً ایک بل میں گھس گیا۔ چوہا ایک بل میں گھسا اور اسی لمحے دو چوہے لڑتے ہوئے ایک دوسرے بل سے باہر نکلے اور کتے کے برابر سے بھاگتے ہوئے ایک نالے میں گھس گئے۔ مکھی شور سن کر اڑ گئی لیکن اپنی ذات میں گم کتا ٹس سے مس نہ ہوا۔ شاید یہ اس کا روز کا معمول تھا۔‘‘
پھر فوراً ہی عطر اور دوکان کا ذکر جس سے سڑک کا ہی نہیں زندگی کا تضاد ابھرتا ہے۔ بظاہر ممبئی کی عوام اور سڑک چھاپ زندگی کے مناظر ہیں لیکن معمولی پن سے ہی شہر کی ، آدمی کی اور زندگی کی تصویر ابھرتی ہے۔ ناول میں بطورخاص اور پھر یہ جملہ ’’ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔‘‘ اور پھر دیکھتے ہوئے منظر اور گزرے ہوئے واقعات کے اشارے۔ ماضی کے نظارے، دمیان میں مسجد کے مینارے۔ اور اب حال میں اسرار اور اس کے چند احباب اور تازہ ممبئی کے نظارے۔ نووارد اسرار کی شخصیت، ملازمت اور ایک مختصر سی مدت میں ممبئی کی معرفت۔ زندگی کی حرکت و حرارت۔ ایک طرف ممبئی کے بارے میں یہ جملے :
ٍٍ ’’ممبئی ایک طلسمی شہر ہے۔ ممبئی زندگی کو زنگ کی طرح کھا جاتی ہے۔ ممبئی میں آدمی طوائف میں بدل جاتا ہے۔‘‘
اور دوسری طرف یہ بھی :
’’ممبئی ایک کنواں ہے سب کی پیاس بجھاتا ہے۔‘‘
پھر یہ بھی :
’’ممبئی جتنی مہربان ہے اتنی ہی بے مروت بھی۔ ممبئی کی کوئی ایک شکل نہیں، کوئی ایک تعریف نہیں، ممبئی ایک سراب ہے۔‘‘
دیکھا جائے تو یہی ہے ناول کا سانچہ یا ڈھانچہ جس کے بطن سے اصل فلسفہ برآمد ہوتا ہے۔ ناول نگار نے کرداروں، مکالموں اور منظروں کے ذریعہ اسے وسیع سیاق و سباق دیا ہے جس پر ناول نگار نے بہت محنت کی ہے کہ انھیں عناصر سے ناول کی عمارت کھڑی ہوتی ہے جو محض خیال و کردار کی نہیں زندگی کی عمارت ہوتی ہے۔ اسی لئے مثل ضرافہ نے کہا تھا کہ ادب کی وہ صنف جو سماج اور معاشرہ کے ٹھیک درمیان سے ہو کر گزرتی ہے بلکہ گزرنا اس کی مجبوری ہے وہ ناول ہے۔ یہ ناول تو درمیان سے ہی نہیں بلکہ ممبئی کی زندگی کی شریانوں میں جذب و پیوست ہو کر گزرتا ہے۔
ابھی نو وارد اسرار کے محض دو ماہ ممبئی میں گزرے ہیں لیکن ماہر ناول نگار جو ممبئی کے شب و روز اور گلی کوچہ کے چپے چپے سے واقف ہے اور ان نورواد کے ذریعہ ممبئی کی پامال زندگی، نچلی سطح کی زندگی، کھولی اور بولی کی زندگی کو بیحد عمدہ طریقے سے پیش کیا ہے کہ شہر کا ابلتا ہوامزاج، کہیں شعلہ، کہیں شبنم، کہیں سرد کہیں گرم، کہیں دوزخ، کہیں جنت غرض کہ ایک سفاک حقیقت جو صرف شہر کی نہیں زندگی کی حقیقت بن کر سامنے آتی ہے اور یہی ایک عمدہ ناول کا مزاج ہوتا ہے کہ وہ محض گلی کوچوں یا شاہراہوں سے نہ گزر جائے بلکہ شاہ راہ حیات سے گزرتے ہوئے اسرار حیات کو بھی وا کرتا چلے کہ عمدہ ناول آئینہ حیات ہوتا ہے۔ اور اب تو ناول کو تصویر حیات کے ساتھ ساتھ تفسیر حیات اور تنقید حیات بھی کہاجاتا ہے۔
مرکزی کردار اسرار دو ماہ ممبئی میں گزارنے کے بعد وطن واپس ہوتا ہے۔ واپسی کے سفر پر اس کے اعصاب پر وطن کے بجائے ممبئی سوار تھی۔ ممبئی سے زیادہ ممبئی کی عورتیں ۔ عورت سے زیادہ طوائف، طوائف سے زیادہ جنسی عمل۔ اسرار جوان ہے۔ انسان اور جوان کا جنسی جذبہ بقول مصنف ’’جنسی عمل ایک جذبۂ بے پیر ہے۔ ایک خود ساختہ قوت آگاہ اور خودگام ہے۔‘‘ ایک جملہ اور ہے ’’اس تار نفس کو کوئی راستہ نہیں بتاتا راستہ خود بن جاتا ہے۔‘‘ اور یہی ہے ناول کا اصل موضوع۔ مسئلہ یا واقعہ جس کو مصنف نے فطری جذبہ کے ساتھ ایک بڑی و کمزور انسانی حقیقت و جبلت کے طور پر پیش کیا ہے جسے عرف عام میں یا ادبی زبان میں جذبۂ عشق، تحےۂ عشق یا فلسفۂ عشق کہا جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں سب سے پہلے جنسی جذبہ ہی کام کرتا ہے۔ اسی حوالے سے طوائف شانتی کا کردار ابھرتا ہے جس کا ماما اس سے رشتہ بنائے ہوئے ہے۔ جنسی رشتوں کی لذت اگر ایک حقیقت ہے تو زندگی کی اپنی سفاکیت بھی ناگزیر ہے۔ وہ بھی نچلہ طبقہ کے لئے اسی لئے شانتی تمام لذتوں پانے اور دینے کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہے :
’’یہ دنیا نہیں نرک ہے۔ اس نرک میں مرد مرجی سے آتا ہے عورت کو ایشور پونچاتا ہے۔‘‘
اب ایک مرد کا جملہ سنئے ’’ اسلم بھائی کھانے اور کھجانے میں اکسپرٹ رہناچ پڑتا ہے۔ نہیں تو آئٹم لوگ رفوچکر سمجھو۔‘‘
یعنی ایک عورت آئٹم ہے۔ طوائف ہے۔ پیڑا ہے۔ اس کے باوجود مرد اپنے اس عمل کو رضاکارانہ کہتا ہے۔ یہ جملہ دیکھئے :
’’پچھلے چند برسوں میں دس بارہ عورتوں کے ساتھ اس کے قلیل مدتی تعلقات قائم ہوئے جنھیں رضاکارانی جنسی رشتہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔‘‘
لیکن اس ناول میں صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ دم بدم منزل بہ منزل جذبۂ عشق کے مختلف مدارج آتے ہیں اس لئے کہ ناول نگار کو معلوم ہے کہ ایک عمدہ ناول صرف جنسی عمل کی نزاکتوں اور لذتوں سے اوپر نہیں اٹھتا بلکہ ان لذتوں و نزاکتوں کے درمیان سے اٹھنے والی زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں سے اٹھتا ہے جو رفتہ رفتہ اسرار کی زندگی میں داخل ہو چکی تھیں۔ کبھی کبھی ناول کے بعض مقامات و مناظر لگتا ضرور ہے کہ عورت اور مباشرت کا ذکر کچھ زیادہ ہی ہے، ہر چند کہ اس کی پیش کش فنکارانہ ہے۔ اور کہیں کہیں مفکرانہ بھی لیکن یہ احساس بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے کہ ناول میں جس شہر ، جس طبقہ اور جن افراد و احباب کا ذکر ہے اس میں ایسے واقعات کا ذکر جس میں نشہ ہو لذت کے ساتھ ساتھ حقیقت کا نشہ اور نشہ بقول مصنف ’’گزران کے لئے کوئی نہ کوئی نشہ ضروری ہے۔‘‘ نشہ کا تعلق بھی طبقہ سے ہوا کرتا ہے۔ سماجی رتبہ اور معاشرہ کے منطقے سے ۔ کسی طبقہ کو آن کا نشہ ہے تو کسی کو شان اور خاندان کا نشہ تو غریب عورت کو ’’ران‘‘ کا نشہ۔ زندگی خو د ایک نشہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی کے پاس ٹھرا ہے تو کسی کے پاس ووڈکا۔ کوئی پیدل ہے تو کوئی اونچی منزل پر۔
محض تین ماہ کی مدت یا ملازمت نے اسرار کی زندگی کے مختلف ابعاد روشن کر دئیے۔ سب سے بڑھ کر انسانی رشتوں کی شکست و ریخت ۔ چھوٹے شہر اور بڑے شہر کے درمیان کا فرق ، اس لئے کہ ممبئی جیسے بڑے شہر، صرف شہر نہیں ہوتے بلکہ زندگی کے تمام رخوں پر اپنی تبدیلی ، تنظیمی اور تہذیبی چھاپ چھوڑتے جاتے ہیں جہاں رشتوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ جسم کا، جنس کا، جان کا، جہان کا۔ایسے میں ایک چھوٹے شہر کے قصباتی و مضافاتی تہذیب میں ڈھلا نوجوان۔ رشتوں کی جان پہچان، نفع نقصان کے حوالے سے یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ
’’آدمی بیوفائی کیوں کرتاہے؟‘‘ اور پھر ممبئی جیسے شہرمیں آ کر اس کا مشاہدہ، مجاہدہ یہ جواب تلاش کر لیتا ہے:
’’بے وفائی انسان کی فطرت ہے بلکہ فطرت کا سب سے اہم عنصر۔‘‘ یہ دیا ممبئی نے ، ممبئی کی تیز رفتار زندگی نے، جہاں اس نے ابھی چند ماہ ہی گزارے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ سوالات واپس وطن جانے سے جاگتے ہیں جب وہ بڑے اور ہنگامی شہر سے چھوٹے اور پرسکون شہر اور وطن میں آتا ہے ورنہ ممبئی جیسے بڑے شہر کی تیز رفتار زندگی میں سوچنے کے مواقع کہاں ملتے ہیں۔ وطن میں وہ جمیلہ سے ملتا ہے اپنی ماں اور بھائی بہن سے ملتا ہے ۔ چھوٹے شہر کے رشتوں کے گداز پن نے بڑے شہر کے پھیکے رشتوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔
’’مابعد مورفو کے اس مختصر قیام نے بہت سارے سنجیدہ سوالات اس کے سامنے کھڑے کئے ۔ ان کے جواب وہ اپنے اندر تلاش کرتا رہا۔ اس کا دل ایک زرخیز زمین تھا جس پر مبہم تصورات با معنی صورت اختیار کرتے تھے۔ یوں بھی یہاں وہ بہت سارے مبہم انسانی رشتوں کی معنویت سے آشنا ہو چکا تھا۔ ایک مخصوص طرح کی پختگی وہ اپنے اندر محسوس کرنے لگا تھا، مابعدمورفوکے اس قیام اور جمیلہ مس کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت پر بارہا غور و فکر کرنے اور دل پر ماضی بعید کی لکھی ہوئی دھندلی عبارتوں کے احساس نے اسے ایک نئے آدمی میں بدل دیا تھا۔‘‘
اس کا ذہن اس لئے بھی زرخیز تھا کہ وہ ابھی نوخیز تھا اس لئے بدل بھی رہا تھا۔ یہ بدلاؤ انسان، انسانی رشتوں جس میں جذباتی و جسمانی رشتے بھی شامل تھے کی سچی تفہیم کا ایک اشاریہ ہے کہ بڑے شہر صرف ایک بھیڑ کا نام نہیں ہوتے ، سڑک و عمارت نہیں ہوتے، ان کا بھی ایک کردار ہوتا ہے، ایک سنسکار بھی، جو انسان کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر متوسط طبقہ کے افراد کواور ناول کے لئے کہا بھی گیا ہے کہ وہ متوسط طبقہ کا رزمیہ ہوا کرتا ہے۔ رزمیہ اس لئے کہ اس میں کسی طبقے، رویے طور طریقے آپس میں متصادم ہوتے ہیں۔ ناول ان تصادمات میں مداخلت کرتا ہے ۔ پریم چند، کرشن چندر، بیدی وغیرہ کے ناولوں کی عظمت کا راز یہی ہے۔ یہ راز و اعزاز تو آگ کا دریا، کئی چاند تھے سر آسماں کو نہیں ملا۔ رحمٰن عباس کا یہ ناول اس سمت جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ناول نگار یہ نہ کہتا ’’ممبئی کے دوستوں اور کھولی کی ہنگامی خیزی نے ہفتہ بھر میں اسرار کو خلیج سے باہر نکال لیا جس میں یکایک گر گیا تھا۔‘‘
اسرار واپس پھر ممبئی میں ہے اور بدلی ہوئی کیفیت میں ، اب اپنی دکان کی ملازمت کو اچھے ڈھنگ سے دیکھ رہا ہے۔ لیکن ممبئی تو یہاں بھی جی رہا ہے۔ جس میں صوفی سے لے کر فقیر تک ، خوش نصیب بدنصیب بچے، جوان بوڑھے سبھی سمائے ہوئے ہیں۔ ان سب کے رشتے حاجی علی سے ہیں۔ غلط ہو یا صحیح زندگی ایک آسرا تو چاہتی ہے۔ ایک سہارا اور بے سہاروں کی بھیڑ، ان کی اپنی صداقت و حقیقت اسی میں غلط یا صحیح کا ٹکراؤ اور پھر اس ٹکراؤ سے ایک نئی حقیقت کا جنم۔ سنجیدہ ناول زندگی کے اسی رزمیہ سے رمزیہ تلاش کرتا ہے۔ فطرت کے پوشیدہ آثار کو آشکار کرتا ہے۔ اولاً متحیر کرتا ہے پھر حیرتوں کے انکشاف سے زندگی کی نت نئی معنویت اور حقیقت روبرو ہوتی ہے۔ اس ناول میں بڑا وصف یہی نظر آتا ہے کہ وہ جز میں کل اور ذرہ میں کائنات تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایک طرف سکھی عورتوں کی شادمانی ہے تو دوسری طرف دکھی عورتوں کی سینہ کوبی بھی ہے۔ سکھ دکھ کی اپنی ایک الگ نفسیات ہوا کرتی ہے۔ ایسے میں ممبئی کی فضا میں کالے بادلو ں کا گھراؤ بڑا معنی خیز اشارہ ہے۔ کہیں کہیں اس گھراؤ میں بجلی کی کڑک بھی شامل ہو جاتی ہے اور کہیں کہیں خوشگوار موسم ۔ موسم خوشگوار ہو لڑکی نہ ہو ایسا کم از کم اردو نالوں میں ممکن نہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اس بھری پری کائنات میں بھی تو ہر موڑ پر لڑکیاں ہیں، عورت ہے، مرد کے متوازی ۔ مرد کے ساتھی اور کہیں کہیں محض عیاشی کے طور پر ۔ خواہ وہ حاجی علی کا مقدس ماحول ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس تلخ حقیقت کا بھی کیا کیا جائے کہ اکثر ایسے مقدس مقامات پر ہی نظروں کا تصادم ہوتا ہے جو اکثر جذبہ و جنون کا تصادم بن کرابھرتا ہے۔ یہ انسان کی فطری جبلت ہے جس پر مصنف نے بار بار معنی خیز جملوں کے ذریعہ انسانی اور جسمانی رشتوں کی ضرورت اور بلاغت پر روشنی ڈالی ہے جو ناول کی معنویت میں اضافہ کرتی چلتی ہے۔ دیکھئے حاجی علی کا تقدس اور لڑکی کا تجمل اور اسرار کے تصوف کا یہ ملا جلا منظر :
’’مزار سے لگ کر بیٹھے ہوئے لوگ اپنی ذات میں گم تھے۔ اسرار نے ایک نظر مڑ کر مزار کی طرف دیکھا۔ ایک طرف سے اگربتی کا دھواں دائروں میں اوپر کی طرف اٹھ کر چھت کی دیوار سے آر پار ہو رہا تھا۔ مزار پر پھیلے تازہ پھولوں کی مہک کا احساس بڑھ گیا تھا اور ایک خاص طرح کی الہامی کیفیت اسرار کے دل میں پید اہوئی اس نے نگاہیں جھکائیں اور تین بار سورۂ اخلاص پڑھ کر دم کر کے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ دس منٹ بیت گئے ۔ تیز بارش کی آواز اس کے کانوں میں شور مچا رہی تھی۔ اس نے مڑ کر دوبارہ صحن کی طرف دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ لڑکی دکھائی دی تھی۔ اس نے دیکھا لڑکی وہیں موجود ہے۔ اس کا جسم برسات میں بھیگ رہا تھا۔ دومنٹ اسرار حیران اسے دیکھتا رہا۔ حیرانی کے علاوہ منظر کی خوبصورتی نے اسے گنگ کر دیا تھا۔ موسلا دھار بارش میں وہ دنیا کی سب سے حسین لڑکی دکھائی دے رہی تھی۔‘‘
دعاؤں کا جلال اور انسان کا جمال اور پھر اسرار کا یہ خیال ’’خیال مرتا نہیں ہے۔ خیال غیرموجود سے وجود میں آتا ہے اور غیر موجود میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔‘‘ یہ ہے انسانی فطرت کا دلچسپ تضاد اور اسی پہ ٹکا ہے رشتوں کا مزاج ۔ اسی طرح چلتا ہے معاشرہ اور کائنات اور ناول اسی حیاتیاتی اور کائناتی مسئلوں کو تخلیقی پیرائے میں پیش کرتا ہے اس سے ناول کی تخلیق محض وجدانی نہیں ہوتی بلکہ انسانی ہوتی ہے اور کبھی کبھی روحانی بھی۔لیکن یہاں رومان زیادہ ہے۔ اسرار اور حنا کی ملاقات مصنوعی اور ڈرامائی سی لگتی ہے لیکن افسانوی ضرورت اور حقیقت کے تحت قابل قبول بھی کہ تخلیق میں حقیقت کے ساتھ رومان کا لمس ضروری ہوا کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ شانتی سے ملنے کا خواہشمند اسرار ایک نئی رومانی حقیقت سے دوچار ہوتا ہے اور یہ بھی کہ شانتی کی لذت اور حنا کی محبت کا فرق کیا ہے۔ ضرورت، لذت، محبت اور محبت کی معارفت، ان سب کی الگ الگ منزلیں ہوا کرتی ہیں۔ مس جمیلہ، شانتی اور اب حنا۔ ان سب کو ایک ہی خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ بھی ایک نامعلوم حقیقت ہے کہ کب کس سے سچی محبت ہو جائے خواہ وہ طوائف ہی کیوں نہ ہو اور کب جھوٹی اور مصنوعی کواہ کتنی ہی شریف دوشیزہ ہو۔ یہ جملے دیکھئے :
’’اس مسکراہٹ میں شانتی صرف ایک جسم فروش نہیں تھی اور اسرار محض ایک گاہک نہیں تھا۔‘‘
اور پھر طوائف کا یہ جملہ ’’تو میرا کسٹمر نہیں ہے رے‘‘ اس نے اسرار کے ہونٹوں کو کس کیا اس بوسے میں ایک درد مشترک کا اعتراف تھا۔ یہ درد ایک وجودی خلش پیدا کرتا تھا۔‘‘
اور پھر عام انسانوں کے خواب جو عموماً حقیقت سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک خواب طوائف کے بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ طوائف کے خواب میں بھی مباشرت ہے لیکن اس مباشرت میں اذیت ہے۔ دونوں میں درد مشترک ہے اور پھر یہ آدرش وادی جملہ ’’ بھولنا سکون دیتا ہے۔ معاف کرنے سے شانتی ملتی ہے‘‘ لیکن اس آدرش میں طوائف کے تجربے ہیں جو زندگی کے رگڑوں جھگڑوں سے چھن کر آئے ہیں۔
شانتی سے دوری تو حنا سے نزدیکی۔ عجیب کشمکش ۔ عجیب سوال و جواب۔ عجیب پہیلی لیکن سب سے بڑی حقیقت ممبئی کی کھولی۔ کھولی میں نہیں کھلتی ہے شاہراہوں پر۔ رشتوں کے ٹکراہٹوں سے کھلتی ہے۔ درمیان میں ایک فساد کا ذکر ملتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد کا بھیانک فساد۔ اسرار کی آنکھوں میں محبت اوردہشت کا ملا جلا عکس لیکن جلد ہی حنا کی محبت غالب آ جاتی ہے۔ ایک نیچرل محبت کی تلاش تیزی سے ملاقاتوں و محبتوں کے سلسلے مضبوطی سے لگتے ہیں لیکن بقول مصنف ’’ممبئی میں سب کچھ پاسبل ہے۔‘‘ حنا کی آنکھوں میں آنسو جو تنہائی میں نکلے تھے۔ محبت نقلی یا مصنوعی ہو سکتی ہے لیکن تنہائی میں نکلے آنسو نقلی نہیں ہو سکتے۔ ایک کہانی آنسوؤں کی بھی جڑتی ہے اور کہانی تو دراصل آنسوؤں کی ہی ہوتی ہے۔باقی سارے واقعات ، کردار آنکھوں میں نمی پید اکرنے کے اسباب بنتے ہیں۔ اسی لئے ناول میں تاجر، سیاست داں وغیرہ آنے لگتے ہیں۔ انھیں میں ایک دولت مند بوراشد عرب سے آتا ہے او ریوسف تاجر سے ملاقات ہوتی ہے۔ یوسف عطر کا تاجر ہے۔ دولت مند کی فرانسیسی بیوی ایمیل کی خوبصورتی اور نفاست پیار و محبت ، خوشحال زندگی اور یہ جملے :
’’بوراشد اور ایمل کو ہنستے، قہقہے لگاتے ہوئے دیکھ کر اس نے سوچا کہ گھربار چلانے، بچوں کی پرورش کرنے اور زیادہ خوش حال زندگی گزارنے کی چاہت میں اس نے کبھی خود سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ پیار کیا ہوتا ہے۔ وہ تو یہی سمجھتا رہا کہ رات میں بیوی کو اپنی کھیتی بنا کر بچے پیدا رنے کا عمل پیار ہے۔‘‘
یہ احساسات یوسف کے ہیں جو حنا کا باپ ہے۔ ایک اورکہانی۔ چند نئے کردار، گفتار، رفتار اور ممبئی کا کاروبار بلکہ کبھی کبھی لگتا ہے کہ ممبئی ہی مرکزی کردار ہے۔ وہ ممبئی جہاں لوگوں اور گاڑیوں کے شور میں بقول مصنف ’’جن کے درمیان نفس کی آواز دب جاتی ہے‘‘ جبکہ سچی محبت اور معرفت کا تعلق خاموشی اور تاریکی سے ہوا کرتا ہے۔ ایک جملہ یہ بھی ملتا ہے ’’ تاریکی اور خاموشی میں کائنات کی صفات پوشیدہ ہیں۔ ‘‘ اسی تاریکی و تنہائی میں تاجر یوسف کئی سنجیدہ سوالات سے ٹکراتا ہے اور جب بھی ٹکراہٹ ہوتی ہے تو کوئی شانتی، جمیلہ، ایمل وغیرہ مداخلت کر کے کیفیت کو متزلزل کر دیتی ہے اور مرد کو آسمان کی وسعتوں سے نکال کر زمین پر لے آتی ہے اور یہی زمینی حالات ہی اسے مسائل حیات یا فلسفۂ حیات سے جوڑتے ہیں جو ناول کا اصل موضوع ہے۔ ممبئی تو محض حوالہ ہے لیکن بامعنی اور بااثر حوالہ جو ایک خوبصورت حالے کی طرح ناول کے مرکزی موضوع کے �آس پاس ہاف نکلس کی طرح چمک دمک رہا ہے۔
یوسف کاکاروبار عطر اور دولت مندعرب کی فرانسی سی بیوی ایمل کا شوق عطر ، تعلقات کی نئی ڈگر، احساسات کی نئی رہگزر ، بیوی تو گھر کی کھیتی ایمل مہکتا ہو اگلاب، خواب اور خواہش کا ٹکراؤ ، تاریکی اور روشنی کا تصادم۔ انسان اور انسانی خواہشات کا تصادم اور پھر یہ جملہ :
’’انسان محض ایک جانور ہے۔ خواہشات کو قتل کرنے کے بعد بھی جانور ہی رہے گا۔ چنانچہ خواہشات کو قتل مت کرو۔‘‘
تعلقات، خواہشات، جذبات کو ناول نگار نے کئی کرداروں، کئی رشتو ں کے حوالے سے معاملۂ حیات بلکہ کہیں کہیں فلسفۂ حیات کے طور پر پیش کیا ہے۔ واقعات فلسفہ حیات بنتے چلیں تو ناول صرف فکشن نہیں رہ جاتا بلکہ فلسفہ بنتا چلتا ہے اور ایک اچھے و معیاری فکشن کے لئے یہ ضروری بھی ہوا کرتا ہے۔ اس موڑ پر ناول انسانی جبلت اور شیطانی حرکت کے سلسلے میں تحقیقی روشنی بھی ڈالتا ہے جو کبھی کبھی ریسرچ ہی لگنے لگتا ہے ناول نہیں۔ نیز یہ بھی کہ ناول محض خوبصورت وادیوں اور کہستانوں سے بھی نہیں بنتا۔ صرف لذت سے بھی نہیں بنتا جب تک اس میں زندگی کی حرارت نہ ہو۔ زندگی کا منظرنامہ نہ ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسرار کی زندگی معمولی، کھولی اور فٹ پاتھ کی تھی جس سے ناول جاندار بنتا ہے لیکن یوسف اور ایمل کے رشتوں سے ناول میں ایک اور سمت کا اندازہ توہوتا ہے لیکن خوبصورت مناظر اور بڑے بڑے ہوٹلوں، کھانوں اور لباسوں کے باوجود ان میں زندگی کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔
ایک بات اور ۔ مس جمیلہ شادی شدہ اور ایمل بھی شادی شدہ اور شانتی تو خیر طوائف ہی ہے۔ سب کے سب آسانی سے اپنے آپ کو غیر مرد کے حوالے کرتی چلی جاتی ہیں۔ یہ ناممکن تو نہیں عجیب ضرور لگتاہے۔ ایک بات اور، شانتی کے پاس عوامی و انسانی تجربے ہیں اسی لئے اس کے مکالمے انسانی اور زمینی ہیں۔ ایمل کے جملے کتابی سے لگتے ہیں جس میں خود مصنف کے جملے ’’جنسیت روح کی بھوک ہے اور روح جب آزاد ہوتی ہے تو اس کا رقص اس کے جذبے کی سرشاری میں پنہاں ہوتا ہے۔ ‘‘ایمل کے یہ احساسات کہ ’’اس کی ناف میں ایک بہت بڑا شگاف ہے اس شگاف میں دنیا کی تمام مقدس کتابوں کے صفحات بکھرے پڑے ہیں۔‘‘ ناف، شگاف، جسم و جنس۔ جنسی عمل کے اردگرد ناول بظاہر راہ بدلتا ہوا چلتا ہے۔ ممبئی کی کھولی ہو یا پہاڑ کی چوٹی۔ عمارت ہو یا ہوٹل سب جگہ عورت ہے۔ عورت کی ناف ہے اور ناف کا گہرا کنواں جس میں یہ کائنات ڈوبتی چلی جا رہی ہے، دنیا کا کاروبار بھی چل رہا ہے۔ یوسف کی جوانی آگے آ جاتی ہے اور اسرار کی کہانی پیچھے چلی جاتی ہے لیکن بے وفائی، شیطان پرستی کی کہانی متوازی طور پر چلتی رہی ہے۔ ہر جگہ ، ہر موڑ، کچھ تاریخی و تحقیقی حوالے بھی ناول میں چلتے ہیں خاص طور پر ایمل کی بیٹی کے ذریعہ وہ بھی ان عملی صورتوں سے بے نیاز علمی صورتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ وہ ابھی اس سے واقف نہیں کہ جس صرف جنس نہیں ، لذت صرف لذت نہیں ایک حقیقت ہے جو آگے بڑھ کر کاروبار بھی بن جاتا ہے۔ شانتی تو ایک طوائف ہے لیکن ایمل ایک پڑھی لکھی ذہین کاروباری عورت ہے جس نے عورت کے جذبہ و جسم کو بھی ایک اعلیٰ سوسائٹی تہذیب وغیرہ کا نام دے کر کاروبار کا ہی حصہ بنا دیا ہے اور جس کی ناف کی گہرائی میں یوسف جیسامعمولی تاجر اورانسان ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ ایمل کا یہ جملہ دیکھئے ’’یوسف بے ضرر آدمی ہے۔ اس کی موجودگی سے فائدہ ہی ہوگا۔ اجتماع میں اس کی روح آزادی کا ذائقہ چکھے گی اور یہ ذائقہ اسے آزادی کے دشمن عقائد سے نجات دلائے گا۔‘‘ان جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنس و جسم کا استعمال زندگی کے کن کن مقاصد اور کس کس محاذ پر کیا جاتا ہے۔محبت، دولت او رلذت اسے یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ’’مذہب اس کے لئے اہمیت نہیں رکھتا۔ دنیا میں قتل و خون کی ایک بڑی وجہ مذہب پرستی ہے۔‘‘ اور بوراشد کا یہ جملہ ’’ وہ خدا جیسی طاقت کے ابہام سے آزادی حاصل کر چکے ہیں اور زندگی کو اپنے رنگ میں گزارنے کے طرفدار ہیں۔‘‘یوسف جو مذہبی ہے اور شادی شدہ بھی لیکن بوراشد کی دولت اور ایمل کی نام نہاد محبت میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ جنسی لذت اور جسمانی ہوس صرف جسم کا کھیل نہیں ہوتی بلکہ دماغ کا کھیل ہوتی ہے۔ دل دنیا کے گھیرے میں آ جاتا ہے او انسان دماغ کے چکرویوہ میں پھنسنے کے بعد پھر سارے فلسفے ہوا ہو جاتے ہیں لیکن دل کی دھڑکن تو تیز ہوتی جاتی ہے اور سوالات کے گھیرے رقص کرنے لگتے ہیں۔
’’اس جہان میں اس کی حیثیت کیا ہے۔ وہ کون ہے؟‘‘
درخشاں، اس کی بیٹیاں ، رشتے دار اب وہ آدمی اس کے اندر نہیں تھا جو نیا آدمی اس کے اندر اس سے واقف نہیں۔‘‘

ابھی یوسف میں تھوڑی سی حس باقی ہے۔ اس لئے سوالات ہیں لیکن کثرتِ لذّت ایک مقام پر بے حسی طاری کر دیتی ہے۔تب ایسے سارے سوالات دم توڑ دیتے ہیں حتیٰ کہ رفیقۂ حیات بھی بری لگنے لگتی ہے۔ دوسری عورت ہی اچھی لگتی ہے۔ اس کے ان جملوں میں ایک جہان معنی برآمد ہوتے ہیں :
’’بدن روح کی بھٹی ہے اس میں پگھل کر روح کندن بنتی ہے۔جنسیت کے حسن کا شعور نہ ہو تو آدمی اور رینگنے والے کیڑے میں کوئی فرق نہیں۔‘‘
یہ ایک مرد کا خیال ہے۔ عورت ایمل کا خیال یہ ہے :
’’سیکس میں احساس عشق شامل ہو جائے تو روح رفعت کا تجربہ کرتی ہے اور یہ ارتفاع روح کی سب سے بڑی اڑان ہے۔‘‘
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایمل کا عشق اور حسن دونوں ہی سچے ہیں؟ کیا یہ کتابی جملے ہیں یا کاروباری؟ کیا اس میں سچا جذبہ ملتا ہے یا کوئی غلط منصوبہ اور پھر بقول مصنف ’’یہ ایک عجیب صورت حال تھی۔‘‘یہ عجیب صورت حال اور حالات کی کشمکش۔ زندگی کے معاملات اور منکشف ہوتے ہوئے علم و عمل کے نئے نئیے واردات ہی ناول کا اصل موضوع ہوا کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ناول صرف خیال آفرینی سے یا سنسنی سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ دانشوری سے، ژرف نگاہی سے بڑا ہوتا ہے۔ محض دنیا کے خارج سے نہیں بلکہ بدلتے مچلتے باطن سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ راس جوناتھن کے ناول کی طرح بھی جس میں کہا گیا تھا کہ انسان تلاش کچھ کرتا ہے اس کے ہاتھ کچھ اور آتا ہے۔جو آتا ہے وہ کتنا ڈفرنٹ ہے لیکن نئی نسل اسے لائف کا ایڈونچر کہتی ہے زندگی کے تئیں یہ متضاد رویہ اور نئی حقیقتوں کا انکشاف ایک عمدہ ناول کرتا ہے جس کی مثالیں اس ناول میں جا بجا مل جاتی ہیں۔ تبھی تو یوسف جیسا پرانی نسل کا آدمی کہہ اٹھتا ہے ’’ا ب میرا دل بھی ایڈونچر چاہتا ہے۔‘‘ لیکن یہ ایڈونچر کیا ہے۔ کیا یہ محض لذت ، عیش و عشرت، خودفریبی اور گمرہی تو نہیں کہ زندگی بلکہ مشرقی دیار کی زندگی میں شادی شدہ انسان کا ایک خاندان ہوتا ہے۔ بیوی بچے ان کی جذباتی ضروریات بھی ہوتی ہیں اگر یہ سب نہ ہو تو پھر ’’وہ رسی جو ازدواجی زندگی کو باندھا کرتی ہے یک لخت خواہش کے ادراک کے ساتھ ٹوٹ گئی تھی۔‘‘یوسف اب یہ کہتا ہے :
’’ہاں پہلے صرف موجود تھا۔ اب خوش ہوں۔
اب میں اپنے آپ سے بہت قریب ہوں او رمیں اپنے آپ کو قبول کرنے لگا ہوں ورنہ ہم جس سماج میں پیدا ہوتے ہیں وہاں ہم دوسروں کی نقل ہوتے ہیں ۔ ہمارا ہر عمل دوسروں کی توقع اور ان کے عمل کا کاپی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے خیالات بھی نقلی ہوتے ہیں۔‘‘
حالانکہ یوسف اب غیر موجود تھا۔ شایدغیر محفوظ بھی لیکن اس کی بیٹی حنا اور ایمل کی بیٹی وردہ دوست بن چکے تھے۔ نئی نسل کے رویے نظریے اور وسوسے پریشان کر رہے تھے اور متاثر بھی کر رہے تھے۔
ممبئی پھر درمیان میں آ گئی۔ پہلے اسرر کے حوالے سے ، اب یوسف کے حوالے سے، اس کی بیٹی حنا سمندر کا کنارہ جیسے قدرتی
بناوٹ کے تحت نکلیس کہا جاتا ہے جسے یوسف نے سوالیہ نشان کہا اور پھر یہ بھی کہا ۔ آدمی خود سوالیہ نشان ہے۔ ناول کے قصے کا یہی وصف ہوا کرتا ہے کہ سوالات کے ذریعہ قصہ فلسفہ بننے لگتا ہے اور منظر سے منظرحیات ابھرنے لگتا ہے۔ لیکن اس ناول میں جنس و جسم، مرد اور عورت کے معاملات زیادہ ابھرتے ہیں کبھی اسرار اور شانتی، کبھی ایمل اور یوسف اور مس تھامس، ودی اور داریوس،زندگی میں کتنے مرد اور کتنی عورتیں اور درمیان میں ایک جملہ ’’ایک مرد اور ایک عورت صرف فلموں میں ایک دوسرے کے ہوتے ہیں، زندگی میں نہیں۔‘‘درمیان میں حنا جیسی سنجیدہ سمجھدار لڑکی جو بار بار یہ کہتی تھی ’’ہمارے یہاں سیکس شادی کے بعد کرتے ہیں۔‘‘ ’’مسلم گھرانوں میں شادی سے پہلے لڑکی کا سیکس کرنا دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘یہ تھیں آدرش وادی کتابی باتیں لیکن عملی زندگی میں کچھ اور ہی ہوا کرتا ہے۔ کتاب کے آدرش تو حنا کے پاس تھے لیکن باپ یوسف کی عملی زندگی، دوست ودی کی آزادانہ روی اور اب اسرار سے دوستی۔ آدرش زندگی ،ضرورت اور انسان کی فطری جبلت کے آگے معدوم ہو گئے اور ایک نئی حنا کا جنم ہو رہا تھا۔ اور ناول حنا اور اسرار کی گہری دوستی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ دوستی ہی دوستی، رشتے ہی رشتے۔ نچلے متوسط طبقہ کے کچھ اور پڑھے لکھے اوپری طبقہ کے کچھ اور لیکن مسرت، لذت، جنس و جسم تو دونوں جگہ موجود، خودفریبی اور گمراہی بھی اپنے اپنے انداز سے طبقاتی لباس اور ممبئی کا مزاج اوڑھے ہوئے۔ ناول انسانی رشتوں کے پیچ و خم سرد و گرم کو نزاکتوں اور بلاغتوں کے ساتھ پیش کرتا ہے لیکن ہم رشتگی کا تیزی سے ہم بستری میں بدل جانا اور ہر رشتہ کا ایک ہی مطلب ہونا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ شاید ممبئی جیسے شہر میں ایسا ہی ہو اسی لئے ناول نگار بار بار ممبئی کی تعریف کرتا چلتاہے۔ غالباً اسی تعریف و تہذیب کے تحت ہی اسرار کی سادگی اور حنا کی معصوم دوشیزگی شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ بقول مصنف ’’اچانک بے شمار دیمک اس کی روح پر حملہ آور ہوئے تھے۔‘‘ باپ کی ذہنی تبدیلی، ماں کی زندگی اور موت او راب اسرار کی دوستی نے حنا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔اچھی بات یہ ہوئی کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچی’’زندگی موت سے زیادہ پرکشش ہے‘‘ یہ صرف کردار کا ہی نہیں ناول نگار کا اثباتی و رجائی رویہّ ہے ورنہ مریضانہ ذہنیت اکثر ناول کو موت کی کتاب بنا دیتی ہے۔ یہ ناول زندگی کا ناول ہے۔ کئی طرح کی زندگی، کئی طرح کے طبقاتی کردار، ہر کردار کے اپنے اپنے رویے ، طور طریقے لیکن مرکزی خیال میں وہی انسانی و جسمانی رشتے، رشتوں کی نزاکتیں و لذتیں یہی وہ معاملہ ہے جو ذاتی نہیں ہوتا بلکہ کائناتی ہوتا ہے۔ خواہ وہ شانتی کا ہو، مس جمیلہ کا ہو، ایمل کا ہو، ودی کااور اب حنا کا۔ اسی طرح مرد کردار، مرد خواہ کسی ملک و معاشرہ کا ہو وہ پہلے مرد ہوتا ہے، خواہ وہ یوسف ہو، اسرار ہو یابوراشد۔
حنا کی قلب ماہئیت ہوتی ہے لیکن یہ قلب ماھیت روحانی نہیں جسمانی ہے اور سماجی گرد و پیش کے ماحول سے وابستہ۔ یہ جملہ دیکھئے ’’اس نے سوچانفس کشی سے بہتر نفس سے لطف کشید کرنا ہے۔‘‘ یہ جملہ فلسفیانہ ہو سکتا ہے لیکن اس کی بنیاد خالص سماجی ہے جب کہ ناول نگار یہ لکھتا ہے :
’’یوسف کی کایاکلپ اور ودی کی آب رواں سی بدمست زندگی سے بھی ایک نئی تعبیر وہ دریافت کر چکی تھی۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ خواب دیکھنا انسان کا فطری عمل ہوتا ہے اور خوابوں کا ٹوٹنا سماجی عمل۔ لیکن اس ٹوٹ پھوٹ سے اس تخریب سے جو نئی تعبیر ابھر کر آتی ہے وہ بھی سماجی ہوتی ہے۔ ناول میں اکثر کردار واقعات سماجی ہی ہوتے ہیں اس لئے کہ اس میں سماج ہوتا ہے۔ زندگی
ہوتی ہے اور زندگی کی ٹکراہٹیں، یہ ٹکراہٹیں داخلی بھی ہوتی ہیں۔لیکن ان کی پیدائش میں خارجیت کا بہر حال دخل ہوتا ہے جس کی اچھی مثال بنتا ہے حنا کا کردار جو اپنے والد یوسف کے کردار اور اس کی مٹیا مارفوسس سے متاثر ہوتا ہے۔ بدلے ہوئے تناظر میں ممبئی کی سڑک چھاپ زندگی میں اب رونق نظر آ رہی تھی تبھی ناول نگار یہ لکھنے پر مجبور ہوا:
’’یہ علاقہ گنجان تھا۔ آوازوں کی آلودگی، یہاں کا حسن تھی، ہنگامہ خیزی علاقے کی رونق تھی۔‘‘
اچھی بات یہی ہے کہ منظرنگاری کے تمام لواحقے، جذبات نگاری کے تمام نمونے کردار کی نفسیاتی کیفیات سے رشتہ جوڑ کر چلتے ہیں جس سے معنویت اور کیفیت میں اضافہ ہوتا چلتا ہے۔ اور فکری و فطری طور پر ناول قاری کی گرفت میں آنے لگتا ہے۔ ورنہ خالص کتابی اور آدرش وادی باتیں ناول کی فکری قصہ نگاری اور فطری روانی میں بوجھل بنتے ہیں۔ ایسے مقامات اس ناول میں بھی آتے ہیں خاص طور پر ایمل، تھامس، وردہ، بوراشد وغیر کے کرداروں میں اور ان کے لمبے لمبے مکالموں کے درمیان جہاں منظر نگاری تو بہت ہے لیکن ناول بے منظری کا شکار ہوتا نظر آتا ہے۔
ناول ایک بار پھر کروٹ لیتا ہے، جب حنا اور اسرار کی کہانی دوبارہ جڑتی ہے۔ شاید اس جڑاؤ کے لئے تھوڑا بہت بھٹکاؤ ضروری تھا۔ لال سگنل میں آدمی کے نشان سے اسرار کے خیال کی واپسی معنی خیز ہے ۔ یہ واپسی ہی اصل کشمکش ہے جسے پیدا کر دیا تھا باپ اور احباب کے رویوں نے اور ناول پھر مرد کے رشتے کی طرف واپس آجاتا ہے ۔ ان رشتوں میں خواب در خواب، حقیقت در حقیقت اور اس کی تعبیر، پیار و محبت۔ انسان کی فطری جبلت اور اس کے کئی نام۔ اندھیرے کے بھی اور اجالے کے بھی۔ درمیان میں حاجی علی، پیر صاحب اور ان کی مختلف تعبیریں اور ان سب سے الگ جوان امنگوں کی آرزوئیں و خواہشیں جس کو ناول نگار نے مختلف پیرائے میں پیش کیا ہے جس سے ناول میں سنسنی تو پیدا ہوتی ہے لیکن سنجیدگی کے ساتھ رشتوں کی معصوم جبلتوں پر معنی خیز روشنی بھی پڑتی ہے۔ یہ جملے دیکھئے :
’’جس اعتماد سے اسرار نے حنا کے سر پر چھتری پھیلائی تھی اس سے حنا سکتے میں تھی۔ اس کی اس حیرانی کو دیکھ کر اسرار کو یہ لگا تھا کہ غالباً وہ برا مان گئی ہے یا غصہ ہے۔ چنانچہ وہ خاموش کھڑا رہا۔ اس کی خاموشی کو حنا نے دلیری اور ہمت سے تصور کیا چنانچہ وہ بدستور اس کے دیدوں میں دیدے گاڑے اسے دیکھتی رہی۔ بارش اور تیز ہوائیں ان کی خاموشی کا حصہ بن گئی تھیں۔ سیل وقت سے جدا حنا اور اسرار ایک دوسرے کو دیکھ کر عکس حیرانی میں تھے۔‘‘
یہ حیرانی بارش کے پانی میں دھل کر توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے جو روح تک کو سرشار کر جاتی ہے۔ اور پھر ودی کی دی ہوئی کتاب جس میں لکھا تھا ’’روح جسم کا پاس ورڈ خود طے کرتی ہے۔ ‘‘
محبتوں و ملاقاتوں کے سلسلے اگرچہ رومانی نوعیت کے ہیں لیکن ناول نگار انھیں روحانی بنانا چاہتا ہے جو اتنا آسان نہیں ہوتا حالانکہ جملوں کی حد تک تو آسان ہوسکتا ہے۔ یہ جملہ دیکھئے :
’’دونوں کی روحیں احساس ہم نفسی سے بے پناہ خوش تھیں بلکہ خود سپردگی پر آمادہ تھیں۔‘‘ اور ودی کا یہ جملہ بھی ’’عشق جذبۂ ایثار اورجذبۂ خودسپردگی سے مملو ہوتا ہے۔‘‘رونے والی کمزور حنا کو اب مضبوط ہنسی آ رہی تھی ۔ آنسو کی نمی سے تبسم کی مضبوطی تک اس کے سفر میں صرف رومان ہی
نہیں ، صر ف جذبہ ہی نہیں ہے بلکہ زندگی کا تجربہ ہے جسے ناول نگار فلسفہ بنانے کی کبھی کامیاب اور کبھی ناکامیاب کوشش کرتا رہتاہے۔ کرداروں کے عمل رد عمل سے زندگی کی نئی تصویریں بنتی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں۔ ناول نگار کا کام ان رومانی کڑیوں کو جوڑ کر حقیقت کا رنگ بھرنا ہے جس میں یہ ناول کامیاب نظر آتا ہے۔
حنا اور وودی کی دوستی تو رنگ لا ہی رہی تھی کہ اچانک تھوڑی دیر کے لئے ایک بدحال ساؤتھ انڈین لڑکی کا کردار داخل ہوتا ہے جو ناول میں ایک اور پہلو جوڑتا ہے لیکن یہ پہلو بھی جنسیت پر محمول ہے حالانکہ اس کی بنیاد سماجی ہے اس لئے کہ اس میں افیم بھی ہے اور طبقہ کی تقسیم بھی۔ تبھی تو ودی پورے اعتماد سے کہتی ہے :
’’ممبئی میں ایسی ہزاروں نہیں لاکھوں لڑکیاں ہیں۔ ہم چاہ کر بھی ان کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ وہ رکی اس نے حنا کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا تیرے ایریا میں سیکس مارکیٹ ہے وہاں اس لڑکی جیسی کئی لڑکیاں ہیں کون سوچتا ہے ان کے بارے میں۔‘‘
لڑکی کی بے رحم جوانی ، پیر صاحب کی تلاوت لسانی اور خواب پریشانی، حنا کا ناتجربہ کار معصوم ذہن متزلزل لیکن یہ احساس بھی کہ کل اسے اپنے عاشق سے ملنا ہے ۔ عشق کا احساس۔ توانائی ان سب کو قابل برداشت بناتا ہے۔ نہ صرف برداشت بلکہ جذبات کا میلہ اور بقول مصنف ’’اب جو کچھ تھاایک ریلا تھا اس ریلے کے بہاؤ میں وہ بہنا بھی چاہتی تھی۔‘‘اور پھر ناول کا اگلا پڑاؤ اسی بہاؤ پر مشتمل ہے۔ ممبئی تو صرف ایک راستہ ہے، منزل کچھ اور ہے یہاں جذبۂ محبت تو ہے ہی زندگی کو نئے ڈھنگ سے سمجھنے کی خواہش اور تڑپ بھی۔ اس تڑپ میں محبت کی تڑپ بھی شامل تھی۔ محبت، جذبہ، رویہ، نظریہ، فلسفہ سب شیر و شکر ہونے لگے۔ ماضی، حال، مستقبل گلے لگنے لگے۔ اسرار، محمد علی، یوسف ، حنا اور ممبئی (ممبئی اس ناول میں ایک کردار کی طرح ہے) اور یہ جملہ ’’ممبئی میں اگرلڑکی تیسرے ٹائم مل رہی ہے تو سمجھ لینے کا اس کے دل میں کوئی بات ہے ورنہ ادھر اتنا ٹائم کون دیتا۔‘‘
لیکن حنا کا خوف قصباتی نوعیت کا ہے۔ بدگمانی، پریشانی بھی اسی نوعیت کی۔ منت مراد بھی لیکن خوا ب اور خواب آرزو لیکن آرزوؤں کا دھواں اور کنواں سب کچھ ویساہی۔ انسانوں جیسا عاشقوں جیسا خواہ وہ قصبہ کا ہو یا ممبئی جیسے بڑے شہر کا۔ لیکن یہاں ممبئی کا بڑے شہر کا سماجی کلچر ہے۔ آزادی اور آسودگی ہے، اسی لئے عشق و عاشقی کا کلچر بھی۔ محبت کو مباشرت میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ کچھ یہ بھی ’’ممبئی کی لڑکیاں پیار کے نام پر روپئے اینٹھنے کے چکر میں ہوتی ہیں۔‘ تو سماجی مسئلہ ہے لیکن ناول نگار نے جسمانی مسئلہ کو بھی ایک حقیقت اور ایک فلسفہ کا نام دینے کی کوشش کی ہے۔ روح اور بدن کے رشتوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور بار بار کہا ہے کہ تحیر عشق، تلذذ عشق کے بغیر ممکن نہیں۔ جذبۂ اختلاط سے کون کون سے انسانی جذبے نمودار ہوتے ہیں اور وہ کتنے ست رنگے ہوتے ہیں اس کا ذکر مصنف نے بار بار کیا ہے :
’’یہ تحیر ہی ایک دن تحیر عشق میں بدلتا ہے۔ اور اسرار ایک دئیے کی طرح روشن تھا۔ حنا اس روشنی کے دائرے میں تمام رنگ دیکھنے کی متمنی تھی۔‘‘

’’الہامی خوشبو جب بدن میں مہکتی ہے تو ذہن راہداریوں میں اکثر تلاطم ہوتا ہے۔‘‘
’’خواہش ہر مٹی میں زندہ ہوتی ہے اور خواہش کا کوئی موسم نہیں ہوتا۔‘‘
یہ جنس کا کردار ہے اور یہ کردار ممبئی جیسے بڑے شہر اور آزاد شہر میں کچھ اور صورت اختیارکر لیتا ہے۔ دیکھئے:
’’ممبئی میں یہ عام سی باتیں ہیں۔ یہاں کی عورتیں عموماً اپنی جذباتی اور جنسی خواہشات کو کچلنے پر یقین نہیں رکھتیں۔ اس شہر کے خمیر میں آسودگی کی تلاش ہے۔‘‘
آخری جملہ غورطلب ہے۔ جو نہ صرف شہر کی بلکہ انسانی فطرت کی طرف اشارہ کرتاہے لیکن اسی شہر میں آئے چھوٹے شہروں، قصبوں کے افراد ، انسان ابتداً حیران و پریشان ہوتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اس شہر کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یا پھر ان اک انجام حنا کی طرح ہوتا ہے کہ پڑھنے لکھنے والی سنجیدہ شریف لڑکی سستی جنسی کیبن میں پہنچ جاتی ہے جہاں جنسی ہوس کاری کا بازار گرم رہتا ہے اور ودی جیسی دوست جو خیال کی آزادی اور بے راہ روی کے نام پرحنا سے اس سفلی جذبے کو یہ نام دیتی ہے۔
’’سیکس محبت کی فطری پناہ گاہ ہے۔ اس سے انکار نفس اور محبت دونوں کا انکار ہے۔‘‘
’’سیکس بدن کی کھڑلیاں کھولتا ہے جس سے روح میں روشنی پھیلتی ہے ۔ اس روشنی سے روح کی بیماریاں تھیک ہو جاتی ہیں۔‘‘
حنا خاموشی سے سن رہی تھی۔ خاموشی کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہ تھا۔ اس لئے کہ یہ سیکس بہرحال ایک حقیقت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیکس اور ہوس میں نازک سا فرق ہوا کرتا ہے۔ عاشقی اور بولہوسی میں، جذبات اور جنسیت میں بھی۔ یہ ناول پورے طور پر انھیں رشتوں کی نزاکت، خواہشوں اورمحبتوں کے اردگرد رہتا ہے اور طرح طرح سے اسے فکر و فلسفہ کی چادر اڑھاتا ہے لیکن یہ چادر کہیں کہیں دبیز ہے توکہیں کمزور اور جھینی۔ کہیں محبت کے اعلیٰ اقدار ہیں تو کہیں سفلی اور غیر معیاری۔ کہیں بے باکی تو کہیں بے حجابی۔ کہیں ناول لگتا ہے تو کہیں اوشو کی جنسی کتاب اور کہیں ’’کتاب الحکمت بین الآفاق‘‘ جس میں بار بار کہا گیا ہے ’’مجامعت روحزن کا ایک آسان علاج ہے‘‘ مصنف نے ناول کو ایک نیا سانام دے کر اسے روحانی شکل دینے کی بھرپور کوشش کی ہے او ر روح اور بدن کے رشتے کو ممبئی جیسے بڑے و بے باک شہر کے کھلے ماحول میں بڑے دلکش پیرائے میں پیش کیا ہے کہ ممبئی ممبا دیوی، سمندر، پہاڑ، کھولی، فٹ پاتھ وغیرہ سبھی کچھ عمدہ پیرائے میں آ گئے ہیں اور عرصے کے بعدممبئی کی سماجی اور ثقافتی زندگی پر بھرپور روشنی پڑتی ہے۔ ممبئی کی زندگی پر کرشن چندر، خواجہ احمد عباس وغیرہ نے بھی عمدہ ناول لکھے ہیں لیکن ان کے یہاں سماجی مسائل زیادہ ہیں۔ رحمٰن عباس نے اس ناول میں جس انداز سے ممبئی بلکہ مراٹھی کلچر کی اساس اور احساس کو پیش کیا ہے وہ متاثر کرتا ہے بلکہ یہی ایسا عنصر ہے جو قاری کو ابتدا سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کی جزئیات نگاری اور منظر نگاری اسے مزید پرکشش و پرتاثیر بنا دیتی ہے۔ ان دنوں اردو کے نئے ناولوں میں مکالمہ نگاری تو خوب ہوتی ہے ، فکر و فلسفہ بھی ہوتا ہے لیکن کردار نگاری اور اس سے زیادہ جذبات نگاری نہ کے برابرہوتی ہے شاید ناول نگار ان خصائص سے واقف ہی نہیں۔رحمٰن عباس کا یہ ناول ان عناصر کی عمدہ تصویریں پیش کرتا ہے اور اپنے مشاہدات کو تخلیقی پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ اس حد تک کہ کبھی کبھی طے کرنا
مشکل ہو جاتا ہے کہ ناول کااصل موضوع واردات جنس ہے یا فلسفۂ عشق ہے۔ ممبئی کا عطر لیکن اچھی بات یہ ہے کہ انسانی فطرت اور مراٹھی ثقافت کو بڑے فنکارانہ و مفکرانہ انداز میں ضم کر کے ناول کو ایک عمدہ تخلیق اور کہیں کہیں تفکیری زبان دے دی ہے، جس سے ناول میں خیالات، سولاات، احساسات اور واردات سب انوکھے انداز میں شیر و شکر ہو گئے ہیں۔
ناول کی ابتدا میں ممبئی کے کلچر اور انتہا بھی ممبئی کے کلچر اور وہ بھی زمینی کلچر سے ہوتی ہے۔ اسرار حنا کا سفر محبت ، کھولی سماج کی بستیاں، بغیر بلاؤز کی ساریاں،تاڑی پیتی ہوئی ناریاں، یہی نہیں ناول میں غریب ساؤتھ انڈین لڑکی، بھیل فروش، کھولی کے معمولی کردار، کھولی کے اندھیروں کے ساتھ ساتھ محبت کے طلسمی اندھیرے اس اندھیرے کا تعلق صرف عشق و جنس سے نہیں بلکہ سماج سے بھی ہے۔ تلاشِ خلوت ہی نہیں ، تلاشِ محبت بھی ہے، تلاشِ انسانیت بھی۔ سمندر کی گہرائی اور جنس کی گہرائی دونوں کی تصویریں ابھرتی ہیں دیکھئے دونوں گہرائیاں ضم ہو کر کیا تصویر پیش کرتی ہیں :
’’وہ ساحل پر بیٹھی تھی اور سمندر پر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ ہلکا اندھیرا پھیل گیا تھا۔ سمندر مدہوشی میں دیوانہ وار جھوم رہا تھا، اندھیرے میں موجیں پرخطر لگ رہی تھیں۔ ان خطرناک لہروں کو دیکھنے میں ایک رومانس تھا۔ …… انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھااور پھر اطراف میں تیزی سے برستی بارش کی بوندوں کو دیکھا۔ تیز بارش کے سبب قریب کا منظر ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حنا نے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں ڈال کر اپنی ناک اس کی ناک سے ملائی۔ اسرار نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔ اس معانقے میں ان کے بدن ایک دوسرے کی حرارت کو محسوس کرنے لگے۔ اطراف میں برستی ہوئی تیز بارش دائرے کی شکل میں رفتہ رفتہ ان کی طرف بڑھنے لگی۔ اطراف میں برسات کا زور کم ہوا لیکن ان پر تیز بارش ہو رہی تھی۔‘‘
اور حنا جیسی سنجیدہ لڑکی کے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال ابھرا۔ ’’کس حد تک جانا چاہئے؟‘‘ کیا وہ تیار ہے؟ اور جواب یہ ابھرا ’’وہ صرف تیار نہیں ہے بلکہ اسی میں اس کے پیار کی تکمیل ہے‘‘ اور ودی کا یہ جملہ’’سیکس عشق کی سربلندی ہے‘‘
بارش تھم گئی اور اس کے تصور کی بارش بھی تھم گئی لیکن شہر اور مضافات پر کالے بادل برسنا شروع ہو گئے تھے۔ دیکھا جائے تو یہی ناول کا مرکزی خیال ہے۔ تحیر عشق، جذبۂ عشق، بدن اور روح کے رشتے، سیکس اور سٹی سفیکشن کی جسمانی اور روحانی آسودگی جس کو ناول نگار نے یہاں تک کہہ دیا۔ ’’اس آگ میں جل کر آدمی قفنس کی طرح اپنی ہی خاک سے دوبارہ نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔‘‘
فوراً ہی بادل گرجنے لگتے ہیں جو داخلی خواہش و اضطراب کا استعارہ بنتے ہیں۔ غرضکہ ممبئی، بادل، بارش، عشقیہ جذبات ، جنسی واردات سب گھل مل کر ناول کو محض قصہ نگاری نہیں بلکہ انسان کی فطری جبلت ، محبت اور ضرورت کو فکر و فسلفہ بنا دیتے ہیں۔ لیکن کہیں کہیں فلسفہ کو جذبہ زیادہ اور جذبے سے بھی زیادہ مباشرت، مجامعت وغیرہ کو پوری بے باکی کہیں کہیں بے حجابی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس کو کچھ اور انداز و اسلوب سے پیش کیا جا سکتا تھالیکن رحمٰن عباس تیز و طرار لکھنے والے ہیں ، انگریزی کے اسکالر ہیں۔ ناول کے عنوان سے لے کر بیان اور بیان سے لے کر میان، درمیان کھینچ تان وغیرہ کو پیش کرنے میں تکلف نہیں کرتے کہیں کہیں تو کچھ زیادہ ہی ۔ ایک یہ بھی کہ ان کا بامعنی اسلوب، دلکش تخلیقی پیرایۂ بیان لطف کے ساتھ ساتھ فکر کا بھی عنصر پکڑے رہتا ہے اور ناول کا خاکہ ڈھانچہ بنا رہتا ہے ورنہ کچھ لوگ تو
بھول جاتے ہیں کہ ناول لکھ رہے ہیں یا غیر تخلیق کتاب۔
محبت کے طوفان کے ساتھ ممبئی کا طوفان، محبت کی سرشاری، منظرنگاری، نفس کی سیری، زندگی کی تیاری، ایک نئی زندگی کا آغاز وہ بھی محبت کے حوالے سے ، بارش نے گلابی رنگ پیدا کر دیا لیکن زندگی کی بارش اور ممبئی کی بارش ، سمندر کا طیش، ممبا دیوی کا غیض لیکن محبت کی اپنی لہر بقول مصنف :
’’دیوانگی اور وحشت نے عشق کو فکر زماں و مکاں سے آزاد کر دیا۔ احساس وقت سے ماورا ہو گئے۔‘‘
اور پھر یہ بھی خوبصور بامعنی جملہ ’’یہ رنگ عشق جنسی عمل کو ایک گناہ آمیز عبادت کے درجے سے اٹھا کر ایک عبادت آمیز اختلاط نفس میں بدل دیتا ہے۔‘‘ فراق گورکھپوری نے بھی کہا تھا کہ دو بدن کا سچا میل محض جسمانی میل نہیں ہوتا بلکہ روحانی میل بھی ہوتا ہے، دو تہذیبوں کا میل ہوتا ہے۔ پھر تہذیبیں غرقاب بھی ہو جاتی ہیں جیسے محبت کی انتہا پر پہنچ کر اسرار اور حنا غرقاب ہو گئے۔ سمندر نے ان دونوں کی بے مثال و لا زوال محبت کو اپنی آغوش میں لے لیا۔
رچرڈ ہوگارٹ نے لکھا ہے کہ ناول میں ادبی تخیل اور سماجی تصور کی تخلیقی اکائی گھلی ملتی ہے وہ کسی اور صنف میں نہیں۔ کلیم الدین احمد نے بھی کہا تھا ’’ناول انسانی تجربوں کے امکانات کا پتہ لگاتا ہے، شعور کے نہاں خانوں کو ٹٹولتا ہے۔ جذبات و خیالات کی پیچیدہ تاریک اور دشوار گزار راہوں کو منور کرتا ہے۔ فرد اور سماج کے تعلقات کی نازک گتھیوں کو سلجھاتا ہے۔ حیات و کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ لگاتا ہے۔‘‘
فراق گورکھپوری کا شعر ہے ؂
ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھر بھی
کہا جا سکتا ہے کہ عشق ایک پامال موضوع ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ شاعری بھی ناول بھی، لیکن رحمٰن عباس کا یہ ناول قدیم موضوع کو نئی رہگذر سے دوچار کرتا ہے اور اپنے مضبوط بیانیہ دلکش اسلوب اور بامعنی و پرتاثیر منظرنگاری، جزیات نگاری کے حوالے سے چونکاتا ہے۔ متوجہ کرتا ہے اور بلا شک و شبہ اپنے آپ کو عمدہ وکامیاب ناولوں کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com