ساجد رشید کا زندگی نامہ

ساجد رشید کا زندگی نامہ

مشہور صحافی اور افسانہ نگار ساجد رشید کی ساتویں برسی پر خراج عقیدت۔
کسی شخصیت کو موضو ع بنایا جائے ، تو اس کے تمام پہلوسامنے آنے لگتے ہیں ، منفی اور مثبت … مگر شخصیت کے اگر کئی پہلو ہوں، ایک ملٹی ڈائمنشن اور ڈائنامک شخصیت ہو ، تو پھر محسوس ہوتا ہے الفاظ دست بستہ کھڑے ہوں اس انتظار میں کہ انہیں بھی اس تحریر میں شامل کیا جائے ۔
بات کہاں سے شروع کی جائے بالمشافہ تعارف سے یا غائبانہ تعارف سے ؟ ایک کش مکش سی ہے ،مگرہم نے اپنے قلم کو آزاد کردیا …
جب ہم نے اردو پڑھنا شروع کیا ، تو ’’ اردو بلٹز ‘‘ میں ایک چوکھٹا ہوا کرتا تھا ’’ پتہ نہیں بیٹا ‘‘ اسے پڑھتے تھے ۔ہم نے خواجہ احمد عباس کا ’’آزاد قلم‘‘ ، عبداﷲ کمال کا ’’گستاخ قلم‘‘ اور اس کے بعد اپنے طالب علمی دور میں ساجد رشید کا ’’ زندگی نامہ‘‘ پڑھنا شروع کر دیا ۔
کچھ تحریریں ایسی ہوتی ہیں ، جو ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں، قاری اس کا عادی ہو جاتا ہے ۔بے باک تحریریں اورہنگامے ۔ کہیں نظریاتی اختلافات کا ریلہ ، تو کہیں اتفاق رائے کا اظہار ، مگر اختلافات کا شور زیادہ ہی رہا ۔ ایک تجسس سا تھا ۔ یہ شخص ایسا کیا لکھتا ہے ؟ کیوں لکھتا ہے ؟ اور پھر اپنی بات پر قایم رہنے کا وہ حوصلہ ؟ بالکل سقراطیت کا انداز۔ پیالۂ حلاحل سے لب تر کرنے کی جرات ، مگر اپنے بیان سے انحراف کے لیے کبھی لب کشائی نہیں کی ۔بہت کچھ سن رکھا تھا ہم نے ۔ بہت کچھ پڑھا تھا ۔ آج کچھ لکھنے کے بارے میں سوچا ، تو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ۔ شخصیت پر لکھا جائے یا فن پر ؟ افسانے بہتر ہیں یا صحافتی تحریر ؟
غالبا ً ۹۸؍ کی بات ہے ۔ ساجد رشید مہانگر سے جڑے ہوئے تھے ۔ میں نے فون پر بات کی ۔ کیا باتیں ہوئیں مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ، مگر ایک جملہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے ۔ ’’ عبداﷲ کمال کے دل میں جس قوم کا درد ہے اور وہ اپنے لہو سے لکھتے ہیں ، وہی قوم انہیں اذیت پہنچا رہی ہے ،میں جب اپنوں کی ان ہی خامیوں کے خلاف لکھتا ہوں ، تو لوگ شور مچاتے ہیں ،ساجد نے ایسا لکھ دیا ، ویسا لکھ دیا ، سچ کے اظہار میں کیا برائی ہے ؟ ‘‘
اس دوران ساجد رشید کے کچھ افسانے ادبی پرچوں میں نظر سے گزرے تھے اور زندگی نامہ ہماری زندگی میں شامل تھا ۔
نو سال قبل جب روزنامہ ’’ صحافت ‘‘ ممبئی سے بھی جاری کیا گیا ، تو اسوسی ایٹ اڈیٹر کی حیثیت سے ساجدرشید کا نام دیکھ کر بے پناہ خوشی ہوئی اور لاشعور میں کہیں یہ تھا کہ اب ’’زندگی نامہ ‘‘ کانشاۃ ثانیہ ہوگا ، وہی ہوا ۔ ’’ صحافت ‘‘ کے اتوار کے ایڈیشن میں ’’ زندگی نامہ ‘‘ نظروں سے گزرا ۔ ہم نے اپنے گھر میں ایک اور اردو اخبار’’ صحافت‘‘بھی جاری کروادیا۔


اس دوران ہم نے جتنے مراسلے یا مضامین روانہ کیے ، وہ برابر صحافت کے صفحات پر شائع ہوتے رہے ۔ عبداللہ کمال نے ہم سے کہا کہ مضمون روانہ کرنے کے بعد ساجد کو ایک فون کر دیا کرو ۔ مگر ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ نہ مراسلہ روانہ کرنے کی اطلاع اور نہ ہی اس کی اشاعت پر شکریہ ۔
۱۴؍ اگست ۲۰۱۰ ؍ کو روز نامہ صحافت کو جب ہم نے جوائن کیا ، تو رفتہ رفتہ ساجد کی شخصیت کو سمجھنے کا موقع ملا ۔
۱۱؍ مارچ ۱۹۵۵؍ کو بلرام پور یوپی میں پیدا ہونے والا یہ شخص عمر کا تیسرا ماہ مکمل کر کے اپنے والدین کے ساتھ ممبئی آ گیا اور پھر وہ اسی ممبئی کو جینے لگا ۔ بارھویں کے بعد جب بی اے کرنا چاہا ، تو بیوی کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور پھر زندگی کے تمام نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور حالات سے جوجھتے ہوئے ساجد نے اپنا مختلف الجہات سفر شروع کر دیا ۔ دراصل ساجد کے والدین نے ان کا نام بڑے چاؤ سے عبدلرشید رکھا تھا ، مگر جب انہوں نے لکھنا شروع کیا ، تو اپنے نام میں کچھ اس طرح تبدیلی کی کہ ساجد رشید ہو گئے ۔ دراصل ابن صفی کے کردار ساجد حمید سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنانام ساجد رشید رکھ لیا ۔غریبوں، محنت کشوں اورکمزوروں کے حقوق کے لیے لڑنے کا جذبہ ان کے خون میں شامل تھا ۔کیوںکہ ان کے والد ٹریڈ یونین لیڈر تھے ۔ وہ مذہب بیزار نہیں تھے البتہ مذہب کے نام پر غیر مذہبی، فرسودہ عقاید ، رسوم و رواج ، انسانی اقدار کی پامالی اور بے جا نا انصافی سے نالاں تھے ۔ سیاست دانوں کی بے ایمانیوں ،اقلیتوں ، کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور زیادتی کو دل سے محسوس کرتے تھے اور اس کے لیے لڑتے تھے ۔ وہ سب سے زیادہ گاندھی کی شخصیت سے متاثر تھے ۔ وہ آپ ؐ کی دو حادیث کا اکثر ذکر کرتے تھے ۔ ’’ جو چیز ا پنے لیے پسند کرو ، وہی اپنے بھائی (دوست ، احباب ) کے لیے بھی پسند کرو۔ ‘‘ ’’ جس شخص سے اس کا پڑوسی خوش نہ ہو ، میں اس سے راضی نہیں ۔ ‘‘ ساجد کہا کرتے تھے کوشش یہ کریں کہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو راحت پہنچے ۔


ساجد نے با ضابطہ تعلیم حاصل نہیں کی ، مگر غیر معمولی مطالعے نے ان کے ذہن کو وسیع کر دیا تھا ۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے اس کے ساتھ انصاف کرتے ۔ جہاں ان کی تحریر ختم ہوتی وہاں سے حساس قاری کی سوچ شروع ہو جاتی تھی ۔
ساجد رشید کا تعلق افسانہ نگاروں کے اس گروپ میں ہوتا ہے ، جنہوں نے اپنی تخلیقی شناخت بیسویں صدی کے آخری عشروں میں بنائی ۔ پچھلی صدی کے آخری عشروں میں ہونے والی تبدیلیوں کو انہوں نے جس شدت سے محسوس کیا ، اس کا اظہار انہوں نے اپنے افسانوں میں کھل کر کیا ۔ ’’ ریت گھڑی ‘‘ ۱۹۹۰ ، ’’ نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی ‘‘ ۲۰۰۴؍ میں منظر عام پر آ چکے تھے ۔ وہ اچھے کارٹونسٹ بھی تھے ۔ ساجد رشید اس تیز رفتار شہر کو جی رہے تھے اور ان کے افسانوں کے کردار اور تانے بانے بھی اسی شہر سے جڑے تھے ، اس لیے قاری کو وہ سارے کردار اپنے اطراف نظرآتے ہیں ۔ ساجد کے افسانوں میں جرائم پیشہ داداگیری ، محکمۂ پولس کی بد عنوانی ، سیاسی لیڈروں کی بے ایمانی ، سفید پوش افراد کی بد کاری، مذہبی منافرت اور ریاکاری کا اظہار بھی ہے ۔
انہوں نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی اتحاد کے لیے ایک تنظیم بنائی تھی جس کا نام تھا ’’ ناگرک نیائے منچ ‘‘ بھیونڈی ، مالے گاؤں اورنگ آباد اور ناگپور کے دورے کر کے انہوں نے فرقہ وارانہ تناؤ کم کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کے بعد بھی انہوں نے مختلف علاقوں میں جا کر کام کیا تھا ۔ ساجد رشید قومی یک جہتی اور ملک میں سیکولرازم اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ۔ وہ بیک وقت ، تیز نگاہ رکھنے والے نڈر صحافی ، حساس افسانہ نگار ، کارٹونسٹ اور سوشل اکٹیوسٹ بھی تھے ۔ ساجد رشید نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف اپنے قلم سے لڑائی جاری رکھی ۔ ۱۹۸۶؍ سے ۱۹۹۷تک روزنامہ ’’ اردو ٹائمز ‘‘ کے مدیر رہے ۔ اس کے بعد ۱۹۹۷ ؍ سے ۲۰۰۵ ؍ تک ’’ مہا نگر ‘‘ کی ادارت سنبھالی ۔ اس دوران ان کا قلم فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف لڑتارہا ۔ ساجد تقریباً ۱۰ ؍ سال تک سیکولر ڈیموکریسی تنظیم کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی فرقہ واریت کے خلاف لڑتے رہے ۔ ۲۰۰۰؍ سے ۲۰۰۴ ؍ تک وہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے چیر مین بھی رہ چکے ۔ وہ نیشنل پروگیرسیو رائٹرس اسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھی رہے ۔ ۱۹۹۰ ؍ میں جنتا دل کے ٹکٹ پر مہاراشٹر اسمبلی کا چناؤ بھی لڑا اور کانگریسی امید وار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے اس دوران انہیں شیوسینا سے بہت کم ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ۔ شکست کے باوجود اس وقت عوام نے ان کی بے پناہ حوصلہ افزشائی کی تھی ۔ساجد رشید نے کئی اوارڈ اور اعزازات حاصل کیے اور ایک اوارڈ ۳۱ ؍ جولائی ۲۰۱۱ ؍ کو ٹھیک ۴؍ بجے ان کے گھر پہنچایا گیا تھا۔
ساجد رشید ایک ہمہ جہت شخصیت تھے ۔ دیانت دار اور نڈر صحافی ، اچھے افسانہ ،نگا ر ، دوستوں کے لیے اچھے دوست ، دشمنوں کے لیے اعلا ظرف دشمن اور تمام رشتوں کو بحسن و خوبی نبھانے والے انسان ۔ روزنامہ صحافت میں ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داری کے تئیں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ۔ اسٹاف کے ساتھ مشفقانہ رویہ اور شیر کی نگاہ رکھتے تھے ۔
ساجد رشید کانسانیت کا درد رکھتے تھے۔
ساجد رشید کی شخصیت کے گرد مفروضے کا ایک ایسا ہالہ تھا ، جسے عام آدمی کبھی نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی کسی نے اس ہالے کو توڑ کر ان کی شخصیت کے اصل کو دیکھنے کی کوشش کی ، مگر جو بھی اس میں کامیاب ہو گیا اس کے لیے ساجد رشید کی شخصیت کبھی معمہ نہیں رہی ۔ بالکل شفاف شخصیت ، کوئی منافقت نہیں جو دل میں وہی زبان پر اور ویسا ہی عمل بھی ۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ۔ ظاہر ہے کسی ایک معاملے میں فریقین میں تضاد ہوگاتو ، تضاد کی شکل میں کوئی ایک غلط ہو سکتا ہے ۔دونوں صحیح نہیں ہو سکتے ، ہمیں یہ مان لینا چاہیے ۔
ساجدکے تعلق سے ہم نے یہ بھی سنا تھاکہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام ’’ راہل ‘‘ رکھا تھا ۔ جب صحافت کے دفتر میں ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ، اس دوران کا ایک افسانوں کا مجموعہ دیکھا ۔ جس کا انتساب انہوں نے اپنے تین بیٹوں کے نام کیا تھا ۔ التمش ، شاداب اور فیصل۔ پڑھ کر ہم نے دریافت کیا ۔ ’’ ساجد صاحب ، آپ کے کسی بیٹے کا نام راہل بھی ہے ؟ ‘‘ وہ مسکرائے اور کہنے لگے ۔ ’’ بات دراصل یہ ہے کہ ایک دفعہ ہم نے دوستوں کے درمیان کہا تھا کہ اگر مسلمانوں کے یہاں مخصوص نام رکھنے اور مسلم اور غیر مسلم کے ناموں کا فرق ہمارے درمیان نہیں ہوتا ، تو مجھے راہل نام بے حد پسند ہے ، مگر میں اپنے بیٹے کا نام راہل نہیں رکھ سکتا ۔ لہٰذا میں نے اپنے بیٹوں کے نام ، التمش ، شاداب اور فیصل رکھے ہیں ، مگر یا ر دوستوں نے یہ افواہ اڑا دی کہ ساجد کے بیٹے کا نام راہل ہے … اور تم بھی بس …؟‘‘
اپنی منفرد اور متنازعہ شخصیت کی طرح ساجد نے افسانے بھی بالکل منفرد لکھے ۔ ہر پلاٹ اور افسانے کی سرخی چونکا دینے والی رہی ۔ مگر افسانے کے کردار ہمارے اطراف سانستے دھڑکتے پیکر میں نظر آتے ہیں ۔ ساجد کے افسانوں میں بھی مظلوم طبقے کے ساتھ ہونے والی زیادتی اجاگر ہوتی ہے ۔ساجد رومانی کہانی لکھنے والے افسانہ نگاروں میں نہیں تھے ۔ انہوں نے زندگی کے حقائق کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ۔ ساجد نے اپنے افسانوں میں غربت ، استحصال ، ضرورت ، مجبوری کے علاوہ جاگیردار ، سرمایہ دار اور طاقت ور لوگوں کے ذریعے کمزور طبقوں پر ہونے والے مظالم کے درد کو پیش کیا ۔افسانوں کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار بذات خود وہی کردار ہے ۔ ساجد کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ کردار میں ڈھل کر لکھا کرتے تھے ۔ ساجد رشید کے موضوعات نہ صرف روز مرہ زندگی سے وابستہ ہیں بلکہ ساجد یہ بھی چاہتے تھے کہ ان کا قاری انہیں اسی سطح سے سمجھ بھی سکے۔ ساجد کے افسانوں میں کردار سازی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ وہ ایک کردار کو اس کے جس رنگ روپ ، ہئیت اور انداز میں پیش کرتے تھے وہ اس افسانے میں بالکل فٹ نظر آتا تھا اور افسانہ پڑھنے کے دوران ایسے افراد ہمیشہ اپنے اطرا ف نظر آئے ۔ ساجد کا مطالعہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ مشاہدہ بھی گہراتھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جس موضوع پر بھی افسانہ لکھا کردارسازی بہت عمدہ رہی ۔ جس کی کئی مثالیں ہیں ۔ افسانہ ’’ بادشاہ بیگم اور غلام ‘‘ میں انڈر ورلڈ کے لوگوں کی ذہنیت اور ان کی کردار سازی ۔ ’’ کالے سفید کبوتر ‘‘ میں صوفی کے مرکزی کردار کے علاوہ دیگر تمام کردار بھی اس کی مثال ہیں ۔ ’’ نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی ‘‘ ’’ برف گھر ‘‘ ’’ ڈاکو ‘‘ ’’ کرما ‘‘ ’’ مردہ سر کی حکایت ‘‘ اور ان سب سے بڑھ کر ان کا آخری افسانہ ’’ شاندار زندگی کے لیے ‘‘ ایک بہترین افسانہ ہے ۔ ساجد رشید کا ایک اورافسانوی مجموعہ جو ان کے انتقال کے بعد شائع کیا گیا، ’’ مردہ سر کی حکایت ‘‘ اس کے علاوہ ایک افسانہ ’’ جنگل ‘‘ ادھورا رہ گیا ہے ۔ ایک ناول بھی انہوں نے شروع کیا تھا ۔ ’’ جسم بدر ‘‘ جو مکمل نہیں ہو سکا ۔ ساجد رشید بیک وقت روزنامہ صحافت کے علاوہ ہندی اخبار ’’ جن ستا ‘‘ اور پاکستانی اخبار جہاں کے لیے مکتوب بھارت بھی لکھا کرتے تھے ۔ وہ ایک سہہ ماہی ادبی پرچہ ’’ نیا ورق‘‘ کے مدیر بھی تھے ۔ یہ پرچہ اس دور میں اپنی مثال آپ ہے ۔
تیز رفتار ، تیز گفتار اور تیز طرار ساجد رشید نے موت کا سفر بھی اسی تیزی سے طے کیا ۔ ۱۱؍ مارچ ۲۰۱۱ ؍ رات ساڑھے دس بجے دفتر میں ان کے سینے میں درد ہونے لگا ۔ انہوں نے اپنے بیٹے شاداب کو بلوایا اور ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ ای سی جی کے بعد ڈاکٹر نے کہا تشویش کی کوئی بات نہیں اور انجکشن دوائیں دے کر روانہ کر دیا ۔ اس کے بعد اکثر انہیں یہ تکلف ہوجاتی تھی ۔ ۲۷؍ اپریل کو ایک بار پھر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ دوائیں چل رہی تھیں ۔ ۲۹؍ اپریل کو شاداب کی شادی تھی ۔ ساجد نے اپنی بیماری یا تکلیف کا کسی پر اظہار نہیں کیا ۔ ۲؍ مئی کو ڈاکٹر دھریندر کاٹکے سے ملاقات کی انہوں نے کہا ۔ ’’ بہتر ہے انجیوگرافی کروائی جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے ، کہ ہم کس مقام پر ہیں ؟ ‘‘
انجیو گرافی ڈاکٹر نظیر جیوالے نے کی ۔ ڈاکٹر نظیر جیوالے کے مطابق ۔’’ معاملہ بڑا نازک اور تشویشناک ہے ۔ آپ کا بائی پاس اس ملک کے دو ہی ڈاکٹر کر سکتے ہیں ۔ ایک بھٹاچاریہ اور دوسرا ڈاکٹر پانڈا ۔ آپ کیا پسند کریں گے ؟ ‘‘ ساجد نے کچھ سوچ کر کہا پانڈا بہتر رہے گا ۔ جیوالے نے پانڈا کے نام ایک لیٹر دے دیا اور رخصت کر دیا ۔


پانڈا سے ہونے والی گفتگو سے ساجد مطمئن نہیں تھے ۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا پانڈا نے کہا ’’ میرے سوا اس ملک کا کوئی ڈاکٹر آپ کو ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔ ‘‘ ساجد کو اس جملے میں تکبر کا احساس ہوا اور انہوں نے ڈاکٹر زین العابدین حمدولے سے رابطہ کیا ۔ انہیں اپنے مرض کی نوعیت اور اونچ نیچ سے آگاہ کرتے ہوئے پانڈا کا وہ جملہ بھی بتا دیا ، جو ایک قسم کا چیلنج تھا ۔ ڈاکٹر حمدولے نے بڑے اطمینان سے کہا ۔ ’’ کوئی مشکل نہیں میں ہزاروں بائی پاس کر چکاہوں اور سبھی کامیاب ہوئے ۔ حمدولے کا یہ کہنا اور اس کے چہرے کا اطمینان دیکھ کر ساجد اور ان کا بیٹا شاداب بے حد مطمئن نظر آئے ۔ شاداب نے یہاں تک کہا کہ اس ڈاکٹر کو اگر لاکھ پچاس ہزار زیادہ بھی دینا پڑے تو غم نہیں ۔ معاملہ ٹھیک چل رہا تھا ۔ بائی پاس کی تاریخ مقرر ہوئی ۷؍ جولائی ۔اس دوران ساجد رشید نے ایک جملہ کہا تھا ، جو ہم کبھی نہیں بھول سکتے ۔ ’’ڈاکٹر زین العابدین حمدولے ، بہر حال مسلمان ہے اور وہ بائی پاس بھی بسم اللہ کہہ کر کرے گا۔‘‘ ۶؍ جولائی کو پرنس علی خا ن اسپتال میں داخل ہونا تھا ۔ بائی پاس کے لیے ساجد نے آپریشن تھیٹر جانے سے قبل سب سے ملاقات کی اور بڑے اعتماد کے ساتھ سب سے تقریباً ایک ہی جملہ کہا ۔ ’’ بس میں یوں جاؤں گا اور انشا اللہ خیریت سے واپس آؤں گا۔ ‘‘ مگر پھر کیا ہوا ۔ ساجد کو دوپہر ایک بجے تک واپس آنا تھا نہیں آئے ، دو بج گئے ، تین بج گئے … سب کی بے چینی بڑھ گئی … ڈاکٹر حمدولے نظر آیا ، سب اس کے پیچھے دوڑے ، قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتا ایک فون آیا اور وہ ’’ پریشر ۴۰ ؍ ۶۰‘‘ کہتا ہوا دوڑتے ہوئے چلا گیا ۔ رات ساڑھے نو بجے دفتر میں مجھے فون آیا ۔ ’’ آپ فوراً آ جائیں حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ ‘‘ مجھے اسپتال جانے پر پتہ چلا کہ تین بجے کے بعد ری اوپن کیا گیا اور یہ آپریشن رات آٹھ بجے تک چلتا رہا ۔ اس کے بعد ساجد کے ساتھ ساتھ گویا تمام دوست احباب رشتہ دار وں کی سانس اوپر نیچے ہو گئی اور بالآخر ۱۱؍ جولائی شام ۴؍ بجے ڈاکٹر نے وہ اندوہناک خبر سنا ہی دی ، جس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا ۔ حمدولے کی خود اعتمادی متزلزل ہو گئی یا ساجد جیسے دبنگ انسان کی خود اعتمادی حمدولے کے فریب میں کمزور ہو گئی ؟ ہم اسے مشیعتِ الٰہی سمجھیں ، تو بھی کہیں تو ایسی بات ہے جو دل میں کھٹکتی ہے کہ اگر…؟ ٭٭

شیریں  دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com