شعرائے کرام اور تخلص

 انسان کی شناخت اس کے نام ، ولدیت اور خانوادے سے ہوتی ہے، شادی کے بعد بیوی شوہر کے نام سے پہچانی جاتی ہے ، جب کہ یہ لازم نہیں ہے۔ عرب ممالک میں کنیت کا رواج ہے، یعنی اپنی اولاد کا نام استعمال کرنا ، مثلاً بچے کے نام سے قبل ابو لگا نا یعنی ابو عمران یا خاتون ہیں ، تو ام وجدان وغیرہ … یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے ۔ مگر شعرائے کرام کو اس سے اطمینان نہیں ہوا ، یہ کبھی نچلے نہیں بیٹھتے ، ہر دور میں عام لوگوں سے خودکو مختلف اوربرتر سمجھنا ان کا پیدائشی حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعرا نے تخلص ایجاد کیا ۔ تخلص وہ نام ہوتا ہے ، جسے شاعر اپنی پسند اور کبھی کبھی اپنے مزاج کے مطابق نام کے ساتھ جوڑ دیتا ہے ، مگر تخلص کے چکر میں اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ شاعر اپنے والد کے نام سے محروم ہو گیا ، اسے اس کا قطعی غم نہیں ہوتا ۔ اس سے یہ نتیجہ نہ اخذ کیا جائے کہ خدانخواستہ شاعر کو اپنی ولدیت سے انکار ہے ۔ بعض شعرا ء تو والد کے نام کے ساتھ ساتھ اپنا پورا نام ہی بدل لیتے ہیں ۔ کیونکہ انہیں والد کا رکھا ہوا نام پسند نہیں آتا ۔ جیسے جیسے وہ سنِ بلوغ کو پہنچتے ہیں ، ان پر یہ انکشاف ہونے لگتا ہے کہ والد نے جو نام رکھا ہے ، وہ شخصیت سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔ لہٰذا وہ نئے سرے سے اپنا پورا نام ہی بدل دیتے ہیں۔ کبھی وہ اپنے نام کے ساتھ اپنے شہر یا گاؤں کے نام کو لگا دیتے ہیں یا شہر کے نام میں حرف ’’ ی‘‘ آخر میں جوڑ لیتے ہیں ۔ مثلاً اعظم گڑھ سے ’’ اعظمی‘‘ ،ہند سے ’’ ہندی‘‘ ،بھارت سے ’’ بھارتی ‘‘ ،دکن سے ’’ دکنی ‘‘ ،کوکن سے ’’ کوکنی ‘‘ ، بنارس سے ’’ بنارسی ‘‘ یا پھر ، سلطان پوری ، بجنوری ، فتح پوری ، جے پوری ، بھساولی، امروہوی اور کچھ تو عرش سے ،’’ عرشی‘ ‘ اور فرش سے ’’فرشی ‘‘ ہو جاتے ہیں ۔ ’’ بالکل اسی طرح کہیں ’’ بزمی ‘‘ تو کہیں ’’برنی‘‘ ویسے میٹھے کے شوقین شعراء ’’ برفی ‘‘ ’’ امرتی ‘‘اور ’’ جلیبی ‘‘ بھی تخلص کر سکتے ہیں، ایک صاحب نے بہرائچ سے بہرائچی کر دیا ، تو دوسرے ، جو دیگہ سے دیگچی ہو گئے۔اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ نام خواتین اور مرد دونوں ہی رکھ لیتے ہیں ، مثلاً ’’شاداب‘‘ ، ’’ سیماب ‘‘ ’’ سرخاب ‘‘ ’’ مہتاب ‘‘ وغیرہ اگر ان ناموں کو بطور تخلص استعمال کرنا شروع کر دیں ، تو اشعار کے مفہوم ہی بدل جائیں گے ۔ کیونکہ خاتون کے شاداب ہونے میں اور مرد کے شاداب ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے ، یہاں اگر ہم اس کی وضاحت کرنا شروع کر دیں ، تو کافی وقت گزر جائےگا، مگرقارئین کی تشنگی کم نہیں ہوگی ، لہٰذا یہ موضوع پھر کبھی ، ویسے بھی قارئین خود ہی تصور کر لیں ، تو زیادہ لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ ویسے حال سے حالی اور کمال سے کمالی ہونا بھی کوئی شعرا سے سیکھے ، مگر شاداب سے شادابی ، سیماب سے سیمابی ہونا تو ٹھیک ہے ، سوچیے اگر کوئی مہتاب سے مہتابی ہو جائے ؟
مزید یہ کہ کہیں ’’ شعلہ ‘‘ تو کہیں ’’ شبنم ‘‘ ، کوئی مہندی ہو گیا ، تو کوئی ہلدی ، جھنجھانوی تخلص سن کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ جناب نے پیدا ہوتے ہی جھنجھنا اس طرح پکڑا کہ آج تک نہیں چھوڑ سکے ، جھنجھوڑوی تخلص سے احساس ہوتا ہے کہ سارے زمانے کو جھنجھوڑنے کا عزم ان ہی صاحب کو ہے ۔کوئی کنول ہے ، تو کوئی گلاب ، کوئی سبب ہے ، تو کوئی اسباب؟ غرض کیا کہیے تخلص کے تعلق سے اکثر دلچسپ واقعات سامنے آئے ہیں ۔
ایک صاحب پانی پت کے تھے انہوں نے اپنا تخلص رکھا ’’ وسیم پانی پوری‘‘ ایک صاحب اٹاوہ کے تھے ، ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا ، تو وہ ہو گئے ’’ ظفر آٹا ‘‘ ایک محترمہ کا تعلق چنئی سے ہے، وہ ہو گئیں ’’نشاط چینی ‘‘ ؟انہیں دیکھتے ہی دوسری نے تخلص روشنی کر لیا ،ویسے خواتین بار بار تخلص بدلتی رہتی ہیں ،ایک محترمہ نے کئی بار تخلص بدل دیا ، تو لوگوں نے ان کا تخلص ’’بدلی‘‘ رکھ دیا ، وہ انہیں اس لیے پسند آیا کہ مرد کا تخلص بادل ہو سکتا ہے ، تو عورت کا ’’بدلی‘‘ ٹھیک رہے گا۔ ایک شخص نے شاعری شروع کی اپنے دوست شاعر عجمی سے مشورہ کیا تخلص کے تعلق سے ، تو انہوں نے کہا ’’نام تمہارا اخلاص احمد ہے ، تم مخلصؔ ہو جاؤ‘‘ وہ بولے مخلص تو میں ہوں ہی ، جس سے ملتا ہوں بڑے خلوص سے ملتا ہوں ۔ ‘‘
ایک صاحب تخلص کے چکر میں ’’ آوارہ ‘‘ ہو گئے ۔ کسی نے اپنی بے قراری کے سبب تخلص قرار رکھ لیا ، تو کوئی شرار ہو گیا ، کوئی شرر ، تو کوئی امام ہو گیا ، کسی نے ایمان کا سہارا لے لیا ۔ ایک صاحب پیشے سے بنکر تھے ، شاعری شروع کی ، تخلص کیا ’’ بنئی ‘‘ رکھ لیا ۔ اکثر تخلص اور شخصیت کو دیکھ کر یہ بھی محسوس ہوتا ہے ’’ آنکھ کے اندھے ، نام نین سکھ‘‘ ۔
مثال کے طور پر ایک بالکل سیاہ فام شاعرکا تخلص ’’ ابیض‘‘ سنتے ہی ہنسی آ گئی ۔ ایک صاحب اونچا سنتے تھے ، تخلص کر لیا ، شور ؔ۔ ایسے ہی کوئی سوز ہو گیا ، تو کوئی ساز ۔کسی کو اپنے چٹانی عزم پراتنا اعتبار تھا کہ طور کہلائے ، ان کی تقلید میں دوسرے صاحب طیور ہو گئے ۔ مزاحیہ شاعر دلاور فِگارر کی تقلید میں ایک صاحب سِگارر ہو گئے ، ویسے بھی سگار ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر وہ اپنی شاعری سے زمانے میں آگ نہیں لگا سکے ، تو سگارکی طرح کم از کم خود تو جل ہی سکتے ہیں ،اس پر ایک واقعہ یاد آ رہا ہے ۔ شاعر پر اشعار نازل ہو رہے تھے ، بیوی پریشان ہو رہی تھی، بار بارمتوجہ کرنے کے باوجود وہ الہامی کیفیت سے باہر نہیں آ رہے تھے ، بیوی نے جھنجھلا کر چیخنا شروع کر دیا ، وہ صاحب بولے ’’ نا مراد کیوں چلا رہی ہو ؟ جانتی نہیں اس وقت شعر کہہ رہا ہوں ، میری شاعری ایسی ہوگی ، جو دنیا میں آ گ لگا دے گی ۔ ‘‘ بیوی نے کہا ’’ اچھا ، تو پھر ایک شعر دے دیجیے ، ذرا چولہا جلا لوں ۔ ‘‘
ایک صاحب ناگپور کے رہنے والے تھے ، انہوں نے آگے ’’ ی‘‘ لگا کر ناگپوری بننے کے بجائے پور ہٹا دیا اور ’’ناگ ‘‘ہو گئے ۔ ایک دفعہ وہ کسی سے کہہ رہے تھے ، خواتین بڑی زہریلی ہوا کرتی ہیں ، یہ جملہ ایک حاضر جواب خاتون نے سن لیا، تو برجستہ کہا ’’ مگر ناگ سے کچھ کم ‘‘ ۔
کسی شاعر نے دوستوں سے مشورہ کیا تخلص کیا رکھیں؟ ، مشورہ چاہتا ہوں ، دوستوں نے پوچھا ’’کہاں کے رہنے والے ہو؟ ‘‘ کہا ’’ دیو رُکھ‘‘ دوستوں نے مشورہ دیا ’’ دیو رخی ہو جاؤ‘‘۔ ایک شاعر کا تخلص اندوری ؔتھا ، ان کے دوست نے اپنا تخلص تندوریؔ کر لیا۔ لوگوں نے دریافت کیا تندوری سے کیا مراد ؟ تندور؟ یعنی دہکتی ہوئی آگ؟ وہ برجستہ بولے ، جی ہاں ، اس میں کیا برائی ہے ، جب کوئی ’’ ناروی ؔ‘‘ہو سکتا ہے ، یعنی جہنمی ، تو تندوری کیوں نہیں ؟امرتسر کے شاعر نے اپنا نام ناصر امرتسری رکھا ، تو ان کی تقلید میں ایک صاحب بسلری ہوگئے ۔
تین بھائی تھے ، ایک نے اپنا تخلص گوہر کر دیا دوسرے جوہر ہو گئے ، تیسرے بھائی سے جب دریافت کیا کہ آپ کا تخلص کیا ہے ، تو انہوں نے سر جھکا کر میں شوہر ہوں ۔
ایک شاعر تھے ،تخلص تھا جگنوؔ۔ ایک روز انہوں نے ایک غزل کہی ، جس کا قافیہ تھا ، بالیاں ، جالیاں ، سالیاں وغیرہ … کسی نے سنا تو فوراً شعر کہہ دیا ، ملاحظہ ہو :
جگنو میاں کی دُم جو چمکتی ہے رات کو سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں
ایک شاعر تھے سنگھا ، وہ اپنے بچوں کے نام کے ساتھ اپنا تخلص سنگھا بھی لگایا کرتے تھے ، ایک دن ان کے یہاں ایک اور بچے کی ولادت ہوئی ، دوستوں سے نام رکھنے کے لیے مشورہ کیا ، تو کسی نے پوچھا اب آ پ کے ماشااللہ کتنے بچے ہو گئے ، سنگھا صاحب بولے ’’ ماشااللہ یہ بارہواں بچہ ہے ۔ ‘‘ کسی نے کہا ’’ پھر سوچنا کیا ، اس کا نام ’’ بارہ سنگھا‘‘ رکھ لیجیے ۔ ‘‘
اب اگر اسد اللہ خان غالب کا ذکر نہ کیا جائے ،اسد ا ﷲ خان غالبؔ کیوں ہوئے ؟تو بات ادھوری رہ جائے گی کیونکہ ان کے دور میں ایک اور شاعر ہوا کرتے تھے ،جنہوں نے اپنا تخلص اسد ؔکیا اور اسدـ اﷲ خاں غالب بھی پہلے اپنا تخلص اسدؔ کیا کرتے تھے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ دوسرے اسد کا ایک نا موزوں شعر غالبؔ نے سن لیا ، اسی دن انہوں نے اپنا تخلص اسد سے غالب ؔ کر لیا ۔
ایک صاحب نے اپنا تخلص زخمیؔ کیا ۔ وہ اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے ملنے ان کے گھر گئے ۔ دستک دی بچے نے دروازہ کھولا ۔ انہوں نے کہا’’ بیٹا ابو سے کہو زخمی ؔ آئے ہیں ۔ ‘‘ بچے نے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور سوچا اچھا بھلا انسان خود کو زخمی کیوں کہہ رہا ہے ؟ بہر حال اس نے اپنے والد کو اطلاع دی ۔ وہ تھے پیشے سے ڈاکٹر ، جھٹ پٹ اپنا بیگ اٹھایا اور ڈرائینگ روم سے یہ کہتے ہوئے نکلے ’’ میں کلینک پر جا رہا ہوں ، وہیں آ جائیے ، ڈریسنگ کر دوں گا ۔ ‘‘ زخمیؔ صاحب دیکھتے رہ گے ۔
اب وہ دن دور نہیں جب شعرائے کرام تخلص کریں گے ۔ پانی ، بجلی ، گاجر، مولی ،آلو ۔ کچالو… وغیرہ وغیرہ ۔٭٭

٭شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com