شعور عصر ” یعنی شعور قیصر “

قیصر خالد سے برہانی کالج کے پروگرام میں جب میری ملاقات ہوئی ، تو اس وقت بحیثیت پولس آفیسر ان کا تعارف کرایا گیا تھا ، اس بات کا علم کافی عرصے بعد ہوا کہ وہ شعر بھی کہتے ہیں ۔ پھر موقع ملا انہیں شہر کے مختلف با وقار مشاعروں میں سننے کا ، وردی میں ایک ذمہ دار پولس آفیسر ، جب مشاعروں کے اسٹیج پر شاعر کی حیثیت سے سامنے آنے لگا ، شخصیت کے دو پہلو سامنے آئے ، جو اپنے آپ میں مکمل ہیں ۔ قیصر خالد شعر ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں ، ان کی ذاتی دلچسپی سے تنظیم ’’ پاسبان ادب ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ، جس کے صدر قیصر خالد ہیں ۔ قیصر خالد ہی کی سربراہی میں ’’پاسبان ادب ‘‘ نے ممبئی میں بین اقوامی مشاعروں کا انعقاد کیا ، جس کی مثال نہیں ملتی ، کیونکہ ان مشاعروں میں ملک کی مختلف ریاستوں سے اور بیرون ملک سے ایسے شعراکو مدعو کیا، جنہیں براہ راست دیکھنا اور سننا ممبئی کے عوام کے لیے ناممکن نہیں ، تو مشکل ضرور تھا اور ان مشاعروں نے بے پناہ شہرت حاصل کی ۔ انہوں نے مشاعروں کو بھی نوک پلک درست کر کے غزل کی طرح پیش کیا ۔ غزل سے ان کے والہانہ لگاؤ کا اندازہ بھی ان کے اشعار و خیال سے ہوتا ہے ، ملاحظہ فرمائیں :

دل ہے اکتایا سا کچھ دن سے چلو یوں کر لیں
محفل شعر و سخن آج سجا لی جائے
گدا گران سخن جامد و فردا سے
تھکے دماغوں کو تھوڑا سرور ہی ہوتا ہے
قیصر خالد نے مشاعروں کا انعقاد کیا ، تو اس بات کا خیال ضرور رکھا کہ تھکے ہوئے بوجھل ذہنوں کو کچھ لطف و سرور حاصل ہو ، یہی وجہ ہے کہ وہ مشاعرے یادگار ثابت ہوئے ۔
گزشتہ دنوں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’ شعور عصر ‘‘ منظر عام پر آیا ، جسے دیکھ کر محسوس ہوا کہ واقعی قیصر خالد ایسے با شعور شخص کا نام ہے ، جو اس عصر کو جی رہاہے اور پوری شدت کے ساتھ جی رہا ہے ، جس کااندازہ ان کے اشعار سے ہوتا ہے ، کیونکہ ہر شعر شعور و آگہی کا اظہار کرتا ہے اور اس دور کی مکمل منظر کشی بھی ۔
گماں یقین سے نکل کر شعور ہوتا ہے
بقا نہیں تو فنا کا شعور ہوتا ہے
۱۹۹۷؍ میں سول سروس کے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی حاصل کر نے کے بعد قیصر خالد انڈین پولس سروس کے لیے منتخب کیے گئے ۔ پولس آفیسر کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ بڑے سخت دل اور سخت جان ہوتے ہیں، اظہار کے لیے سخت الفاظ یا سخت رویہ کا استعمال کرتے ہیں ، وہ شاعری کیسے کر سکتے ہیں ؟ لطیف جذبات و احساسات کو الفاظ میں ڈھالنے کا ہنر ہی شعر کہنے کا شعور پیدا کر تا ہے اور یہ شعور قیصر خالد میں بدرجۂ اتم موجود ہے ۔ قیصر خالد کی شاعری جب اپنے رب سے ہم کلام ہوتی ہے ، تو شعر بھی شعور و آگہی کا اظہار کرتا ہے، ملاحظہ ہو :
جہاں میں کتنے ہیں فرعون کو بہ کو یا رب
شعور عصر کو اب ازن لب کشائی دے
’’شعور عصر ‘‘ کے ذریعے فرعون عصر کے خلاف ازن لب کشائی کی دعا یہ ثابت کرتی ہے کہ قیصر خالد حق و باطل کا فرق اچھی طرح سمجھتے ہیں اور باطل کے خلاف لب کشائی کا حوصلہ حق سے طلب کر رہے ہیں ۔ قیصر خالد جس شعبے میں کام کر رہے ہیں ، وہ بھی حق و باطل ہی کی جنگ ہے ۔ کیونکہ پولس اور عدالت تک جو لوگ پہنچتے ہیں ان میں سے ایک صحیح ہوتا ہے اور دوسرا غلط ۔ کیونکہ اگر فریقین صحیح ہو ں ، تو تنازع کس بات کا ؟ عملی طور پر حق و باطل کی جنگ لڑنے والے قیصر خالد ذہنی اور روحانی سطح پر بھی اسی عمل سے دن رات گزرتے ہیں ، جس کا ادراک ان کے اشعار سے ہوتا ہے ۔ وہ شعر کہتے ہیں تو حق کا اعتراف کرتے ہیں اور یہی اعتراف ان کی شاعری کو الوہی نور سے روشن کرتا ہے ، اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
جلووں سے بالا تر ہے ،پھر بھی تو ایک حقیقت
فانی ہر ایک شئے ہے یہ بھی کمال تیرا
وہ کب کسی کو کہاں کیا شعور دیتا ہے
سیاہ شب کو جو سورج کا نور دیتا ہے
موجودہ دور کی افرا تفری اور انسانیت و اخلاق کی زوال پذیری کا احساس انہیں شدت سے ہے ، جس کا اظہار انہوں نے کچھ اس طرح کیا ہے :
کیا عہد نو میں اپنی پہچان دیکھتا ہوں
اکثر بہ شکل انسان حیوان دیکھتا ہوں
امن و امان کی باتیں شاید ہیں صرف باتیں
ارض خدا پہ ہر دن گھمسان دیکھتا ہوں
میری نگاہ آخر حساس کیوں ہے اتنی
میں روز و شب بدلتے انسان دیکھتا ہوں
برائی کو ختم کرنے اور اچھائی کا درس دینے کا جذبہ بھی ہے ان کے یہاں پایا جاتا ہے :
برائی کتنی مٹے گی نہ دیکھ اب اس کو
تو اپنی ذات کو بس کوشش سدھار میں رکھ
قیصر خالد بحیثیت پولس آفیسر اور بحیثیت شاعر بہت ہی حساس انسان ہیں ،ان کے تجربے کے ساتھ ساتھ مشاہدہ بھی کافی گہرا ہے ۔ وہ زندگی کے ہر شعبے پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔ صحافت کو جمہوریت کا ایک ستون کہا جاتا ہے ۔ آج بھی صحافت اور عدلیہ پر عوام کا مکمل اعتماد ہے ، مگر کبھی کسی وجہ سے غلطی ہو جاتی ہے ، اسے ہم غلطی ہی کہہ سکتے ہیں ، دانستہ کوئی ایسا نہیں کرتا ، کبھی غلط اطلاعات کی بدولت یا غلط شواہد کی بدولت ایسے معاملات ہو جاتے ہیں ، جسے قیصر خالد نے خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے :
قانون کیا ہے اور تری منصفی ہے کیا
انصاف کی اساس پہ جب فیصلہ نہ تھا
بڑی خبر بھی تو کبھی بڑی نہیں رہتی
کبھی ذرا سی خبر کو اچھال دیتے ہیں
میڈیا اب ہے تجارت کا نرالا پہلو
لغو ہو کتنی بھی اک بات اچھالی جائے
ایک حساس اور خلاق ذہن کا انسان جو کچھ دیکھتا ہے ، محسوس کرتا ہے اسے اشعار کے قالب میں ڈھال لیتا ہے ، تو پھر منظر پر آتا ہے ’’ شعور عصر ‘‘ مگر کتاب کی شکل میں اسے آتی ہے کہنا زیادہ درست ہوگا ۔
قیصر خالد وردی میں دیانت دار اور فرض شناس پولس آفیسر ہیں ، مگر بحیثیت شاعر وہ صرف شاعر ہیں ، ان کی شاعری میں پولس والوں کی رعونت نہیں بلکہ انسانی جذبوں کی لطافت ہے ، بچپن کے کھونے کا غم ، تہذیب کی تخریب کا درد بھی صاف دکھائی دیتا ہے ، ملاحظہ ہو:
گزرے تھے ، جس میں لمحے بچپن کے قہقہوں میں
خوابوں میں وہ حویلی ویران دیکھتا ہوں
جب گھروں میں نئی تہذیب و ثقافت آئی
شہر شفاف کی ہر شے میں کثافت آئی
اب خانۂ ہستی میں تم کو ہے گھٹن کیسی
جب تم نے تمدن کے آثار بدل ڈالے
خون کے رشتوں کے ملنے کا نہیں ہے امکاں
آؤ ! اب صحن میں دیوار اٹھا لی جائے

سکھ چین بدل ڈالے آزار بدل ڈالے
اس دور ترقی نے گھر بار بدل ڈالے
قیصر خالدکو اس بات کا بھی شدت سے احساس ہے کہ قوم سیاسی شعور سے محروم ہے ، یہی نہیںابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں، کیونکہ جب کوئی قوم بیدار ہوتی ہے ، تو سرکار بدل سکتی ہے ،مگر ایسی سوئی ہوئی قوم کا مقدر کوئی نہیں بدل سکتا ۔
سوئے ہوئے رہتے ہیں یہ لوگ مگر ان کی
کچھ دیر کی بیداری سرکار بدل ڈالے
ہر انسان کا اور مجموعی طور پر قوم کا سرمایہ وقت ہی ہے ، جس نے وقت ضائع کیا ، وہ ترقی نہیں کر سکتا ، منزل تک نہیں پہنچ سکتا ، شعر ملاحظہ ہو:
وقت کا کوہ گراں کاٹ کے فرہاد بنو
کامرانی اسی رستے سے ہمیشہ نکلی
اس دور میں منافقت عا م بات ہے ، انسان کو مذہب کے ذریعہ درس دیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے کام آنا چاہیے ، دوکھ درد بانٹنے چاہیے ، مگرمعاشرے میں خرافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ایک انسان دوسرے کو اذیت میں مبتلا کر کے یا دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہے ، مگر جب خود چھوٹی سی مصیبت میں مبتلا ہو جائے ، تو چیخ نکلتی ہے ، اسی طرح معاشرے میں سچ اپنا وقار کھو رہا ہے اور جھوٹ پر کشش محسوس ہوتا ہے ۔ لوگوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ اگر کوئی ان سے جھوٹ ہی کہہ دے ’’ دیکھو کوا تمہارا کان لیے جا رہا ہے ۔ ‘‘ تو اپنے کان کی موجودگی کی تصدیق کیے بغیر ہی کوے کے پیچھے بھاگنے والے افراد کو اتنا بھی شعور نہیں ہوتا کہ یہ سمجھ سکیں ، جھوٹ کتنی خوبصورتی سے کہا گیا ہے۔ایسے ہی معاملات کو کتنی شدت سے محسوس کیا ہے ، یہ قیصر خالد کے اشعار پڑھنے کے بعد ہی اندازہ ہوگا۔
آسماں سر پہ اٹھا لیں جب ذرا پھانس لگے
ہاں وہی لوگ جو دکھ دے کے مزہ لیتے ہیں
ایسی منافقت کی فضا تھی کہ شہر میں
میں نے ہی سچ کہا تھا سو میرا ہی سر گیا
جب جھوٹ کی رنگینی سچائی کو ڈس بیٹھی
تب ہم نے اصول اپنے اے یار بدل ڈالے
سزا ملی جو بنا جرم تو دل نے کہا
تھا اس سے اچھا کہ کوئی قصور ہی ہوتا
تخلیقی ذہن رکھنے والوں کے ساتھ یہ المیہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اکثر خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں ، دراصل یہ ان کی ذہنی تنہائی کا احساس ہوتا ہے ، جس کاعکس ان کی تخلیق میں صاف نظر آتا ہے ۔ اس تعلق سے قیصر خالدکے یہاں بھی اشعار پائے جاتے ہیں :
سب کے رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں تو تنہا ہی سہی
یوں ہی قسطوں میں مرنا ہے تو ایسا ہی سہی
قیصر خالد کا یہ پہلا شعری مجموعہ ہے ، پہلی کوشش ہے، وہ جس پیشے سے وابستہ ہیں ، وہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ، اپنے فرائض کو پورا کرتے ہوئے ، وہ شعر بھی کہتے ہیں بڑی بات ہے ۔ اس کتاب میں کچھ چھوٹی موٹی غلطیاں ہیں ، جنہیں نظر انداز کر دینا چاہیے ، یہ سوچ کر کہ دیسی گھی کے لڈوتیڑھے ہوں ، تب بھی میٹھے ہوتے ہیں ۔قیصر خالد ہی کے ایک اہم اور لاجواب شعر کے ساتھ یہ مضمون مکمل ہوا چاہتا ہے ، مگر یہ شعر سب کو کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے ، کیونکہ مثبت سوچ ہی انسان کے شعور کو بیدار کرتی ہے اور قیصر خالد کے شعری مجموعے سے ایک شعر بھی کسی ایک انسان کے شعور کو بیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے ، تو یہ شعور عصر کی بے مثال کامیابی ہوگی ، شعر ملاحظہ ہو:
تھا علم و عمل پھر بھی بھٹکے ہیں مسلسل ہم
بس فکر سے عاری تھی ، جو اپنی امانت تھی

٭شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com