لفظوں کے سنہری تار میں معنی کے موتی پرونے والی شاعرہ ڈاکٹر نسیم نکہت

مجموعہ کلام ” مرا انتظار کرنا” کے حوالے سے

شہرِ سخن میں ڈاکٹر نسیم نکہت کا اپنا ایک نام ہے مقام ہے۔یہ نام یہ مقام برسوں کی ریاضت، محبّت اور محنت کا حاصل ہے۔مشاعروں کے حوالے سے تو یہ نام اور مقام اور بھی توانا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ نے مشاعروں کی دُنیا میں اُس وقت قدم رکھا تھا جب اسٹیج پر نسوانی آوازوں کا فقدان تھا۔ان کی آمد شائقینِ شعر و ادب کے لیے چونکانے والی تھی۔ابتدائی دور سے ہی مشاعرہ لوٹ لینا ان کا وصف رہا ہے۔انھوں نے بحیثیت شاعرہ ساری دُنیا کے سفر کیےہیں۔جہاں بھی گئیں نام اور کلام کا سحر چھوڑ آئیں۔عرصئہ دراز تک اسٹیج کی زینت بنی رہنے والی اس شاعرہ کی شخصیت پر بڑھتی عمر کا کوئی اثر نہیں ہو سکا ، آواز کی کھنک، اور کلام کی مہک کا اب تک برقرار رہنا تعجب خیز ہے! رسالوں اور کتابوں کی دنیا میں بھی یہ جانی پہچانی جاتی ہیں لیکن ادبی سیاست سے دوری اور صالح گروہ بندی سے لا پروائی ان کی فطری مجبوری رہی ہے۔انھیں سخن کی دوڑ میں شاعروں و شاعرات کے اس گروہ نے آگے بڑھنے نہیں دیا جو نام و نمود کے نا زیبا حربے استعمال کر کے اپنی من پسند منزل پا جاتے ہیں۔اس کے با وجود ڈاکٹر نسیم نکہت شہرِ سُخن میں آج جس منزل پر ہیں وہ روشن ہے۔اس منزل کی روشنی سامعین اور قارئین کے دلوں کو منوّر کیے ہوئے ہے۔

میں لڑکپن سے ڈاکٹر نسیم نکہت کے کلام کو پسند کرتا رہا ہوں۔ان کی آواز کی طرح ان کا کلام بھی بہت خوبصورت اور دلنشین ہے۔اسی لیے میں نے اپنے مضمون کا عنوان ” لفظوں کے سنہری تار میں معنی کے موتی پرونے والی شاعرہ، ڈاکٹر نسیم نکہت رکھا ہے۔

ڈاکٹر نسیم کا نیا مجموعئہ کلام” مرا انتظار کرنا ” ہے۔اس سے پہلے ان کے تین مجموعے شایع ہو چکے ہیں لیکن یہاں صرف نئے مجموعہ کے حوالے سے میں بات کرنا چاہوں گا میری پسند کے مطابق درج ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں:
بھائیوں کے درمیاں کتنی محبّت تھی مگر
سارا جھگڑا ہے فقط اک بیچ کی دیوار پر

بیٹے آوارہ گردی میں رہتے ہیں مشغول مگر
نالائق بیٹوں کی خاطر مائیں جاگا کرتی ہیں

میں نسیم ماں کی دعاؤں سے رہی رب کی حفظ و امان میں
ہوئیں سہل کتنی ہی مشکلیں کئی حادثات بھی ٹل گئے

کیا ہے منتخب بیٹی نے جس کو تم بھی اپنا لو
زمانہ کہہ رہا ہے گھر کی رسوائی سے بہتر ہے

بُرے دنوں میں سبھی دوست ایسے روٹھ گئے
خزاں میں جس طرح پیڑوں سے پتّیاں اُڑ جائیں

ہمارے قاتل سے کوئی پوچھے بھلا ہمارا قصور کیا ہے
جو رحمِ مادر میں مارتے اہو خطا ہماری حضور کیا ہے

رشتوں ناطوں پر مشتمل یہ اشعار زندگی کی سچّائیاں بیان کرتے ہیں ایسی سچّائیاں جو سماج میں رچی بسی ہیں۔سب محسوس بھی کرتے ہیں لیکن شاعرہ ڈاکٹر نسیم نے جب ان سچّائیوں کو شعری پیرہن میں ڈھالا تو احساس میں شدّت پیدا ہو گئی۔یہ شاعرہ کی پُر گوئی کا کمال ہے۔
” مرا انتظار کرنا ” ڈاکٹر نسیم نکہت کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ان کی غزل عام شاعری سے بہت مختلف ہے۔لفظیات بھی جدا ہیں خیالات بھی الگ ہیں۔شاعرہ کے کلام میں زندگی کے مختلف پہلو ہیں مشاہدات ایسے کہ تجربات معلوم ہوتے ہیں یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ذاتی احساسات، جذبات اور خیالات جو کہ تجربات کے ہی پرتو ہوتے ہیں انھیں مشاہدات کی آمیزش سے شاعرہ نے اشعار میں ڈھالا ہے۔
ڈاکٹر نسیم کی غزل زبان و بیان کے معاملے میں اردو کی کلاسک شاعری سے فائدہ تو اُٹھاتی ہے لیکن مواد میں کلاسک شاعری کی بو باس نہیں ہے۔اس شاعرہ کے پاس مجھے یہ عجیب بات نظر آئی۔یہی بات تو ڈاکٹر صاحبہ کو اوریجنل شاعرہ ثابت کرتی ہے۔ان کی غزلیہ شاعری کا مواد انسانی نفسیات اور جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔نسائی گرہیں بھی کھولتا ہے اور شعریت کی شیرنی اور تلخی سے بھی آشنا کراتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری اور سامع ان کے ہر شعر سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
کچھ انوکھے ، نرالے موضوعات کو ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی ہُنر مندی سے نظم کیا ہے۔مُلاحظہ فرمائیں کچھ اشعار:
بچھڑے ہوئے اک مدت گذری سب کو ہے معلوم مگر
مجھ میں تجھ کو ڈھونڈ رہی ہے دنیا ہے دیوانی کیا

اس سے ملنے میں رسوائیاں اور بچھڑنے میں تنہائیاں
اس محلے میں اے زندگی گھر بنانا غلط ہو گیا

یہ دنیا ہے شرافت سے یہاں حق بھی نہیں ملتا
کوئی باغی نہیں ہوتا بغاوت کرنی پڑتی ہے

یہ دوغلی شخصیت کے مالک یہ ظلم اور نفرتوں کے خالق
کبھی یہ بستی جلا رہے ہیں کبھی کبوتر اڑا رہے ہیں

کردار کشی کرنے لگے لوگ ہماری
شہرت نے یہ کس موڑ پہ پہنچا دیا ہم کو

کبھی کبھی تو ہمارے پیروں سے گھر کی چوکھٹ لپٹ کے روئی
مگر تھیں مجبوریاں کچھ ایسی کہ پھر بھی ہم نے سفر کیا ہے

” مرا انتظار کرنا ” کی غزلیں دل سے نکلا ہوئے الفاظ پر مبنی ہیں ، اسی لیے سامعین اور قارئین کے دلوں تک پہنچ رہی ہیں۔یہ زبان ڈاکٹر نسیم کے سُخن کا خاصہ ہے۔دل سے دل تک کا طویل فاصلہ پلک جھپکتے طے ہو جاتا ہے یہ شاعرہ کے سخن کا کمال ہے اسی کمال نے اور انوکھے خیالات کے جمال نے غزل پسندوں کو اپنا اسیر بنا لیا ہے۔ان میں ایک میں بھی ہوں!۔ڈاکٹر صاحبہ کے ہی ایک شعر پر میں اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا۔
نسیم لفظوں کے فن میں اب تک نہ تم ہو ماہر نہ تم ہو یکتا
یہ بات نکلی ہے دل سے شاید دلوں پہ اس نے اثر کیا ہے

 

اسلم چشتی پونے ، انڈیا

09422006327/08928022221

 

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com