منٹو کا ایک اور پتہ

سعادت حسن منٹو کے خطوط پر مبنی محمد اسلم پرویز کی مرتب کردہ کتاب ’’آپ کا سعادت حسن منٹو ‘‘
’’آپ کا سعادت حسن منٹو ‘‘ کتاب میں سعادت حسن منٹو کے خطوط شامل ہیں ۔ منٹو کے خطوط کو اکٹھا کر کے ترتیب دینا اور پھر اسے کتابی شکل میں قاری کے سامنے پیش کرنا ایک اہم کام ہے ۔ منٹو جب تک زندہ تھا ، بھر پور زندگی جی اور مرنے کے بعد …؟ نہیں وہ تو آج بھی زندہ ہے ۔ اس نے افسانے ، ڈرامے اور خطوط گو کہ ۶۰؍سال قبل لکھے تھے ، مگر ان میں آج کی زندگی سانستی دھڑکتی محسوس ہوتی ہے۔ کتاب شروع ہوتی ہے احمد ندیم قاسمی کے مضمون کے اقتباس سے … ایسا محسوس ہوتا ہے قاسمی کے مضمون کا یہ اقتباس قارئین کے نام ہو ۔
’’ … اور پھر چند روز بعد میں منٹو سے محبت کرنے والے دوسرے دوستوں کے ہمراہ منٹو کا جنازہ اٹھانے جا رہا تھا ۔ ‘‘ (؟)
مگر پھر بھی منٹو مرا نہیں … وہ آج بھی زندہ ہے اور رہتا ہے ، تین مختلف پتوں پر بلراج مین را ، وارث علوی اور شمس الحق عثمانی ۔
کتاب کا انتساب درج بالا تین پتوں پرکیا گیا ہے ۔ انتساب کا یہ انداز بالکل مختلف ہے ، مگر ذرا سمجھ سے باہر … کیونکہ منٹو کا ایک پتہ اور بھی ہے …’’ محمداسلم پرویز ‘‘
اگر منٹو کی رہائش یہاں نہیں ہوتی ، تو شاید اس کے خطوط کی بازیافت ممکن نہیں تھی ۔خطوط کی رسل و ترسیل بغیر کسی پتے کے کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟
منٹو کے خطوط سے اس کی خانہ بدوشی کا بھی اندازہ ہوتا ہ ہے ۔ کیونکہ خطوط میں درج پتوں سے رہائش کے بدلنے کا علم ہوتاہے۔ ایڈلفی چیمبر، کلیئر روڈ ممبئی ،آکسفورڈ چیمبر کلیئر روڈ ممبئی۔لیڈی جمشید روڈ ، ماہم ۔جیکسن گارڈن ، ناسک ۔، صدیق منزل ، نکلس روڈ ، دہلی ۔ لکشمی چیمبر ، لاہور ۔فلمستان لیمیٹیڈ ، بمبئی ۔آل انڈیا ریڈیو ، نئی دہلی ۔ اس کے علاوہ ، ہفت روزہ ’’ سماج ‘‘ اور ماہنامہ ’’ مصور ‘‘ کے دفاتر بھی ،جوکہ ان دنوں سیکنڈ پیر خان اسٹریٹ ممبئی میں واقع تھے۔
کتاب میں احمد ندیم قاسمی کے نام لکھے گئے خطوط کے علاوہ ہاجرہ مسرور ممتاز شیریں، شاہ امرتسری ، سلام مچھلی شہری ، ڈاکٹر محمد باقر ،عزیز احمد، بی اے حلیم ( وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی )، نصیر انور ،محمد یوسف ، مہدی علی خان ’’ شاہراہ ‘‘ دہلی اورمحمد طفیل مدیر ’’ نقوش ‘‘ اور طفیل احمد کے نام لکھے گئے خطوط شامل ہیں ۔ منٹو نے خط میں ہاجرہ مسرور اور ممتاز شیریں کو ’’ خاتوم محترم ‘‘ لکھا ہے اور لاہور کی عدالت میں ان کے افسانہ’’ دھواں ‘‘ پر چل رہے فحاشی کے مقدمے میں ہاجرہ مسرور کوگواہ صفائی کے طور پر بلایا ہے ۔ کسی خاتون کو مخاطب کرنے کا سلیقہ اورہاجرہ مسرور کی رائے کو ملکی ادب کے لیے مفید قرار دینے کامنفرد خیال کا اظہار صرف منٹو ہی کر سکتا ہے ۔
اس کتاب میںمنٹو کے زیادہ تر خطوط احمد ندیم قاسمی کے نام ہیں ، جو ’’ پیارے دوست ‘‘ شروع ہو کر ’’ آپ کا سعادت‘‘ پر ختم ہوتے ہیں … پیارے ندیم سے آپ کا سعادت کے درمیان پوری فلم انڈسٹری نظر آتی ہے ۔ منٹو نے ہرخط کے آخر میں یہ ضرور لکھا ہے ۔ ’’ صفیہ سلام کہہ رہی ہے ، سلام لکھوا رہی ہے ۔ ‘‘ فلم کی کہانی ، منظر نامہ ، نغمے ، افسانے ، قلم کی مزدوری ، اجرت ، دوستوں کے احوال یہی سب منٹو کے خطوط میں درج ہے ۔دیگر ادیبوں کے نام لکھے گئے خطوط میں بھی افسانوں اور ماہنامہ پرچوں کی اشاعت ،ادبی تحریکیں اور ادبی سیاست کے تذکرے ہیں ۔ اس کے باوجود ان خطوط کو پڑھنے کے بعد منٹو کی کی شخصیت کے کئی پہلو کھل کر سامنے آتے ہیں ۔
ایک جگہ منٹو رقمطراز ہے۔ ’’ اگر کوئی صاحب میرے ساتھ وعدہ کریں کہ وہ میرے دماغ میں سے سارے خیالات نکال کر ایک بوتل میں ڈال دیں گے ، تو منٹو آج مرنے کو تیار ہے۔منٹو ، منٹو کے لیے زندہ ہے…مگر اس سے کسی کو کیا… منٹو ہے کیا بلا… چھوڑو اس فضول قصے کو ۔ آئیے کوئی اور بات کریں ۔ ‘‘
منٹو نے بے شمار افسانے لکھے ، مگر افسانہ نگار براہ راست اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرتا ہے ، اس کے لیے وہ کسی کردار کا انتخاب کرتا ہے ، وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے اسے اس کردار کے ذریعے کہلواتا ہے یا اس کی منظر کشی کرتا ہے ۔ خط بالکل ذاتی تحریر ہوتی ہے ۔ دوستوں کے درمیان جو خط و کتابت ہوتی ہے ، اس کی تحریر بے تکلف ہوتی ہے ۔ اس میں کھل کر اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار کیا جا تاہے ۔ منٹو نے بھی احمد ندیم قاسمی کے نام جو خط لکھے ہیں ، اس سے ان کے خیالات اور نظریات واضح ہو جاتے ہیں ۔ ان کی تحریر کا درج بالا اقتباس ’’ … میرے دماغ سے سارے خیالات نکال کر …الخ‘‘ کے جواب میں اس کتاب کو پیش کیا جا سکتا ہے ۔ اس کتاب کو وہی درجہ دینا چاہیے ۔ یہ کتاب گویا وہ بوتل ہے ، جس میں منٹو کے سارے خیالات نکال کر اکٹھا کر لیے گئے ہیں ۔
محمد اسلم پرویز نے منٹو کے خطوط یکجا کر کے انہیں کتابی شکل دے کر منٹو شناسی کا ایک باب کھول دیا ہے ۔ محمد اسلم پرویز نے حرف اول لکھ کر منٹو کے خطوط کے حوالے سے ان کی شخصیت کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔’’ مضطرب روح کا تنہا سفر‘‘ کے عنوان سے محمد اسلم پرویز نے جو تحریر پیش کی ہے وہ بھی منفرد ہے ، کیونکہ منٹو نے کم وقت میں طویل زندگی جی ، بھر پور زندگی جی ، اس کے طرز زندگی خاص طور سے اس کی ذہنی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ زندگی کے تئیں منٹو کی سوچ کیا تھی اور موت کے بارے میں وہ کیا سوچتا تھا … ؟ پیدائش اور موت کے درمیان گزرنے والے وقفے ہی کو شاید زندگی کہتے ہیں … مگر منٹو آج بھی زندہ ہے ، وہ مرا نہیں … اسے کیا کہیں گے ؟
اگر وہ اپنے چوتھے پتے ’’ محمد اسلم پرویز‘‘ میں موجود نہیں ہوتا ، تو منٹو کے خطوط کتابی شکل میں قارئین تک کیسے پہنچ پاتے ؟
یہ کتاب نئی نسل کے لیے بہترین تحفہ بھی ہے کہ اب خطوط لکھنے کا رواج ختم ہو گیا ہے ۔ الیکٹرانک دور نے فاصلے ختم کر دیے ہیں ۔ ٹیلی فون کی ترقی یافتہ شکل میں موبائل ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ منٹو ہوتے ، تو احمد ندیم قاسمی سے ضرور موبائل ہی پر گفتگو کرتے یا ایس ایم ایس کرتے ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ اس دور میں موبائل نہیں تھا ، ای میل اور وہاٹس ایپ نہیں تھااگر ہوتا ، تو یہ کتاب بھی نہیں ہوتی ۔ ٭٭
نوٹ: منٹو اور اسلم پرویز کو سمجھنا یا سمجھانا میرے بس کی بات نہیں ، مگر پھر بھی یہ ادنا سی کوشش ہے … کیا پتہ منٹو شناسی میں ہم کس مقام پر ہیں …کہیں ایسا تو نہیں ،ہماری سوچ غلط پتے پر مائل بہ سفر ہو…؟

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com