مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی سے فاروق سید کا استعفیٰ

مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی سے فاروق سید کا استعفیٰ

جناب فاروق سید کا نام تعارف کا محتاج نہیں ہے، ایک اچھے صحافی ہیں ،ہفت روزہ ’’ اردو میلہ‘‘ اور ماہنامہ ’’ گل بوٹے‘‘ کے مدیر ہیں ۔ تقریباً بائیس سال سے بچوں کا پرچہ ’’ گل بوٹے‘‘ پابندی سے شائع کر رہے ہیں ۔ اس پرچے میں اب کہیں اشتہارات نظر آتے ہیں ، مگر بیس سال بغیر اشتہارات کے پرچے کو جاری رکھنا آسان کام نہیں ہے ، اس سے بڑی اردو کی خدمت کیا ہو سکتی ہے ۔ اردو کے ادیب اس وقت پیدا ہوں گے ، جب وہ اردو ادب پڑھیں گے اور خاص طور سے بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنا اور بھی مشکل کام ہے ، مگر جناب فاروق سید نے بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں اور بچوں کے درمیاں ’’ گل بوٹے‘‘ کو رابطے کا ذریعہ بنایا ہے ۔
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کیسی ہو اور کس طرح کام کرے ؟ یہ سوال اردو ادیبوں اور شعرا کے لیے محض سوال ہی بن کر رہ گیا ہے ۔ اکیڈمی کی کارکردگی افسران اور سیاسی لیڈران کی مرہون منت رہتی ہیں ۔ ممبران میں بھی ، ادیب یا ادب نواز افراد کم ہی ہوتے ہیں ۔ اسے اتفاق کہیں یا سفارش کرنے والوں کی غلطی کہ تین سال قبل ’’ گل بوٹے ‘‘ کے مدیر فاروق سید صاحب کے نام کی سفارش کی گئی اور چونکہ وہ سولاپور سے ہیں ، اس لیے انہیں سولاپور کی نمائندگی مل گئی، یہ سب ہو گیا اور فاروق صاحب کو اس کی اطلاع بھی نہیں ۔گزشتہ دنوں جناب فاروق سید نے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ،تو ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی ،کیونکہ ایسا ہونا ہی تھا ۔ ایک با ضمیر شخص زیادہ دنوں تک یہ برداشت نہیں کر سکتا ۔ لہٰذا جب ہم نے ان سے رابطہ قایم کیا اور استعفیٰ دینے کی وجہ دریافت کی ، توانہوں نے جو کچھ کہا وہ من و عن درج ذیل ہے ۔
اردو نیوز ایکسپریس ڈاٹ کام کے با ذوق اور با شعور قارئین ملاحظہ فرمائیں :
جناب فاروق سید :تقریباً تین سال قبل ،اردو اکیڈمی کے چیئر مین عبدالروف خان صاحب سے ہمارے دوستوں نے سفارش کی تھی رفیق شیخ اورمنور سلطانہ نے، اس طرح اردو اکیڈمی کے ممبران میں میرا نام بھی شامل کیا گیا۔جب ممبران کے نام کا اعلان ہوا اور پندرہ بیس دنوں کے بعد میٹنگ رکھی گئی تو، رؤف خان صاحب نے خود ہی مجھے فون کر کے پوچھا کہ کیا آپ ناراض ہیں؟ ہم نے آپ کا نام اکیڈمی کے ممبران میں شامل کیا ہے اس بات سے آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟ تو میں نے دریافت کیا کہ میرا نام کس نے دیا ؟اور میں یہ بھی کہا اس میں خوش ہونے کی کیا بات ہے ؟س طرح غلط فہمی یا غلطی سے میں ممبر بنا دیا گیا اور رؤف خان صاحب سے قربت ہونے کے بعد بہت تکلیف ہوئی ، کہ وہ جس انداز سے کام کر رہے تھے وہ مجھےٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
خاص طور سے وہ قوالی اور مشاعروں کو اردو ادب سمجھتے تھے ، انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ کون کہانیاں لکھتے ہیں، کون شاعر ہیں اور کون ادیب و افسانہ نگار ہیں ؟وہ صرف چند شعرا کو جانتے تھے یا پھر بی جے پی کےورکروںکو ۔ مجھے اس بات سے ذہنی کوفت ہوتی تھی ۔
ایک بار انہوں نے کہا کہ اردو میلہ بھساول میں بھی کیا جائے ،ہمیں تخمینہ تیار کرنے کے لیے کہا۔ تخمینہ دینے کے بعد فائل آگے بڑھادی گئی ، مگر تخمینے کے مطابق عملی طور پر جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو سکا ۔ پندرہ ہزار بچے آنے والے ہیں ایسا کہا گیا تھا اور صرف ۵۰۰ بچے آئے ۔ وہ مجھ سے اکثر کہتے میلے کے تعلق سے ورکروں کو بلاتا ہوں اور آپ کی ملاقات کرواتا ہوں تاکہ آپ بات کر سکیں ، مگر میلہ کی تاریخ آ گئی اور ایسا کچھ نہیں ہو سکا ۔
رؤف خان صاحب کو اکیڈمی کے ملازمین سے بہت تکلیف تھی ، اس وجہ سے وقار قادری کے خلاف ہو گئے ، پھر انہیں نکالنے کے لیے ممبرو ں کے دستخط لیے کہ وقار قادری نے ۵؍ لاکھ روپے تخمینہ کی اردو میلہ کے لیے جو فائل بھیجی ، اس پر روف خان کے بجائے وقار قادری نے عبدالرؤف خان کےجعلی دستخط کیےہیں ۔ یہ الزام لگا کر جب میرے پاس لیٹر آیا ، تو میں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ایسے جھوٹے الزام پر دستخط کرنے سے بہتر ہے کہ میں اپنے استعفیٰ پر دستخط کر کے دوں  اور میں نے وقار قادری کے خلاف جھوٹے الزام کے لیٹر پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ۔ساتھ ہی میں نے اپنا استعفیٰ بھی بھیج دیا ۔اس کے بعد رؤف خان صاحب ہمارے دفتر آے اور کہا استعفیٰ واپس لیجیے ، ہم قبول نہیں کریں گے ، آپ کا نام رہنا چاہیے ۔ پھر میں نے میٹنگ میں جانا چھوڑ دیا اور خاموشی اختیار کر لی ۔
دیڑھ سال قبل رؤف خان کا انتقال ہو گیا اور نئے صدر کی تلاش میں ممبران میں اختلافات پیدا ہو گئے ، اکیڈمی کے کار گزار صدر کی پوسٹ کے لیے کچھ لوگ سفارشی خطوط حاصل کرنے میں لگ گئے اس دوران اکیڈمی کی کارکردگی ٹھپ ہوگئی۔
گزشتہ سال ممبرا ن نے ۲۶ ؍جنوری کے موقع پر ایک مشاعرہ کمیٹی بنائی ، پھر شاعروں کی فہرست بنائی گئی یہ فہرست وزیر کے پاس گئی پھر پرنسپل سیکریٹری کے پاس گئی اس میں منور رانا ، نواز دیوبندی ، وسیم بریلوی ، راحت اندوری جیسے نام تھے ، مقامی اور مہاراشٹر کےشعرا کے نام بھی شامل تھے ۔ ممبئی کے ایک پولس افسر کی مداخلت سے پوری لسٹ بدل گئی ۔ منور رانا کا نام اس لیے کاٹ دیا گیا کہ انہوں نےایوارڈ واپس کر دیاتھا ۔ وسیم بریلوی کا نام اس لیے کاٹ دیا گیا کہ وہ سماج وادی سے ایم ایل سی ہیں ، راحت اندوری کا نام کاٹنے کی وجہ تھی کہ وہ حکومت کے خلاف بولتے ہیں ، اسی طرح کئی نام کٹ گئے ،تو ہم ۷؍ ممبرا ن نے اس رویے کے خلاف احتجاج کر کے مشاعرے کا بائیکاٹ کیا ۔چھ ممبران میں میرے علاوہ اسلم تنویر ، حنیف شیخ ، محمد رفیق شیخ ، منصور اعجاز ، عظیم نواز راہی ہیں ۔
اس بائیکاٹ کی خبر ٹائمز آف انڈیا اور کئی اخبارات میںآئی تو یہ بات منسٹر اور پرنسپل سیکریٹری کو نا گوار گزری ، اس وقت سے اکیڈمی کے افسران نے اس بات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیا اور ممبران کو پریشان کرنے کے تمام حربے استعمال کرنے لگے ۔ ۶؍اکتوبر کو ایک جی آر نکالا ، جس کی بنیاد پر اکیڈمی کے ممبران کی اہمیت ختم ہوتی ہے ۔ اوارڈ کمیٹی میں ممبران کا کوئی عمل دخل نہیں ، اس کے لیے الگ سے ( تحقیق و انتخاب ) کمیٹی بنائی جس کے مطابق مہاراشٹر کی تین مختلف یونیورسٹی کے ہیڈ رہیں گے ، تین ادیب یا شاعر ہوں گے ، تین افسران ہوں گے اور دو ممبران ہوں گے ۔ ممبران کون ہوںگے اس کا فیصلہ بھی افسران ہی کریں گے ۔ اکیڈمی جب سے بنی ہے تب سے ڈرامہ مقابلے ہوا کرتے تھے تین شہروں میں سولا پور ، بھیونڈی اور ممبئی ، جسے فیسٹیول کا نام دیا گیا تھا ۔ برسوں سے چلی اس رویات کے تعلق سے جی آر کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب سے ہر سال کسی ایک شہر میں فیسٹیول ہوگا ۔ ممبران کا یہ کہنا تھا کہ فیسٹیول میں دوسرے شہروں سے ڈرامہ کمپنی کے لوگ آ سکتے ہیں ، مگر جہاں یہ مقابلے ہوتے تھے وہاں کے سامعین کو آپ کس طرح دوسرے شہروں تک لا سکتے ہیں ؟ اس لیے جو طریقہ چل رہا ہے اسے جاری رکھیں ۔ یہ بات بھی وہ لوگ نہیں مانے ۔
سولاپور میں قومی کاؤنسل کی جانب سے’’ بزم غالب ‘‘ کے اشتراک سے اردو کتاب میلہ منعقد کیا گیا تھا ، مجھے چونکہ سولاپور سے لیا گیا تھا ، اس لیے میں نے سوچا کہ سولاپور کی بزم غالب کے اشتراک سے ہونے والے اس کتاب میلے میں کئی پروگرام ہونے والے تھے ، مشاعرہ ، خواتین کا مشاعرہ ، بیت بازی وغیرہ ۔۔ہم نے سوچا اسی کے ساتھ دور دراز سے وہاں آنے والے پبلشر کا دو دن کا کھانے کا انتظام بھی اکیڈمی کی طرف سے ہو ۔ ہماری یہ سفارش ناگپور سیشن کی نذر ہو گئی اور ایک ہفتے بعد ہمیں یہ خط ملا کہ یہ پروگرام کوئی غیر سرکاری تنظیم کر رہی ہے اس لیے ہم مدد نہیں کر سکتے ۔ افسران ہمیشہ اپنی بالا دستی چاہتے تھےاور ممبران سے صرف کام لیا جا رہا تھاوہ یہ نہیں چاہتے کہ ہم مشورے دیںاور اس پر عمل ہو، اس لائق نہیں سمجھتے۔
ممبئی یونیورسٹی میں سیمینار کا انعقاد کیاگیا تھا ’’ اردو ادب میں خواتین کا حصہ ‘‘ پورے معاملات طے ہونے کے بعد دعوت نامہ چھپنے کے بعد ممبران سے کہا گیا کہ آپ لوگ شامل ہو جائیں ۔ ممبران نے اس تعلق سےجناب ونود تاوڑے سے ملاقات کر کے اپنا احتجاج بھی درج کروایا کہ افسران فیصلے کیوںکرتے ہیں ، اس طریقے کو تبدیل کیا جائے ۔ تحقیق و انتخاب کمیٹی کے خلاف بھی اعتراض درج کیا گیا تھا ، مگر اس پر بھی توجہ نہیں دی گئی ۔ اکیڈمی کےممبران کے مشوروں کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی ۔ تقسیم انعامات کی تاریخ طے کرنے کے بعد ممبران سے مشورہ لیا گیا ، اس پر بھی تمام ممبران نے ایک زبان ہو کر احتجاج کیا تھا ، اس پر بھی توجہ نہیں دی گئی ۔
اب کے برس بھی ۲۶ ؍ جنوری کے مشاعرے کے شعرا کا انتخاب کس نے کیا ، یہ مجھے نہیں معلوم کیوں کہ میں میٹنگ میں نہیں جا رہا ہوں ۔ مگر شعرا کے نام کی تفصیلات آخر تک ممبران سے چھپائی گئی ، کارڈ جب وہاٹس ایپ پر آ گئے ، تو ہمیں بتایا گیا کہ انتظامات ہو گئے ہیں آپ کو شریک ہونا ہے ، میں چونک گیا۔ مسلسل کب تک ممبران کی بے عزتی ہوتی رہے گی اور کب تک سہنا پڑے گا ، جہاں اپنی ضرورت اور اہمیت نہ ہو وہاں رہ کر بے عزت ہونے سے بہتر ہے کہ خاموشی سے علاحدگی اختیار کی جائے ۔ ان ہی سب وجوہات کی بنا پر میں نے استعفیٰ دے دیا۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com