مہاراشٹر میں اردو ادب کا مستقبل ؟

مہاراشٹر میں اردو ادب کا مستقبل ؟

دراصل اردو وہ زبان ہے ، جو پورے ہندستان میں کشمیر سے کنیا کماری تک بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ ہندستان میں جب زبان کی بنیاد پر ریاستیں وجود میں آئیں تو1960ء میں مراٹھی زبان بولنے والوں کے لیے ریاست مہاراشٹر کا وجود عمل میں آ یا جس میں مراٹھی بولنے والوں کی تعدادسب سے زیادہ تھی۔ اس کے بعد اردو بولنے والوں کا نمبر آتا ہے جن کی تعداد محض دس مانی جاتی تھی ،جو کہ پوری ریاست میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس ریاست میں اردو پھلتی پھولتی رہی ، اگر دیکھا جائے ،تو ریاست مہاراشٹر میں جتنے اردو کے اسکول اور کالج ہیں ، اتنے ملک کی دیگر ریاستوں میں نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہندستان میں اردو دلی اور لکھنؤمیں پیدا ہوئی تھی اور پورے ملک میں تیزی سے پھیل گئی ، کیونکہ یہ لشکری زبان مانی جاتی تھی ، مگر آج مہاراشٹر کے مقابلے دلی اور لکھنؤ میں اردو بولنے اور لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے ، اس معاملے میں مہاراشٹر زیادہ زرخیز ہے ۔
اس کی خاک سے اردو کے ایک سے بڑھ کر ایک ادیب، شاعر، دانشور اور فنکار ابھرے جنہوں نے ادبی دنیا میں اپنا نام روشن کیا۔مہاراشٹر میں اردو کے تعلق سے ماضی میں کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں ، جن میں بمبئی میں اردو (ڈاکٹر میمونہ دلوی)، ناگپور میں اردو(ڈاکٹر شرف الدین ساحل)، کامٹی کی ادبی تاریخ (ڈاکٹر شرف الدین ساحل)، برار کی تمدنی و علمی تاریخ(ڈاکٹر شرف الدین ساحل)، مالیگاؤں میں اردو نثر نگاری (ڈاکٹر الیاس صدیقی)، پونا کے مسلمان(ڈاکٹر عبدالستار دلوی)، کوکن میں اردو تعلیم(ڈاکٹر عبدالرحیم نشتر) اور پونا میں اردو(ڈاکٹر عبدالرحیم نشتر) نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
اردو بہت ہی شیریں اور مہذب زبان ہے ، یہ صرف زبان ہی نہیں ایک تہذیب ہے ۔مہاراشٹر میں اردو کے پھلنے پھولنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بین اقوامی شہر ممبئی کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوں کے لوگ یہاں مستقل رہائش اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی مادری زبان اردو اور اس کی تہذیب کے ساتھ جینے لگتے ہیں ۔ مہاراشٹر مراٹھی زبان والوں کی ریاست ہونے کے باوجود یہاں اردو کے شاعر اور ادیب دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ ہیں ۔
اردو مہاراشٹر میں زندہ ہے ، مگر کس طرح جی رہی ہے ، اس پر غور کیا جائے ، تو اس کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ آنے والی نسل کو اردو سے کوئی نسبت نہیں رہی ۔ انگریزی میڈیم سے تعلیم دلوانے کا چلن عام ہو رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اردو کا قاری اس ریاست سے غائب ہوتا جا رہا ہے ۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اردو کا اگلا قاری کون ہوگا؟ جب قاری نہیں ہوگا ، تو اردو کی تخلیقات کا کیا حشر ہوگا؟
اگر جائزہ لیا جائے ، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں مہاراشٹر میں اردو کے کئی اخبار اور ادبی و غیر ادبی پرچے منظر سے غائب ہو چکے ہیں ۔ فکشن لکھنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ۔مراٹھی سے اردو ترجمہ کرنے والوں کی تعداد کا بھی یہی حال ہے اوراردو سے مراٹھی ترجمہ کرنے والے چند ایک ہی نام ہیں ۔
مہاراشٹر میں اردو ادب میں خواتین کا بھی بڑا حصہ رہا ہے ، مگر مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ۔
مہاراشٹر میں اردو ادب کا مستقبل تاریک اس لیے بھی نظر آ رہا ہے کہ جب زبان ہی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے ، تو ادب کہاں سے تخلیق ہوگا اور ادب تخلیق ہوگا ، تو سوال یہ ہے کہ اسے پڑھے گا کون ؟شعری تخلیقات اور مشاعروں کا حال اس سے بھی برا ہے ۔ آج جو ادبی تخلیقات سامنے آ رہی ہیں ، انہیں اگر ہم پچاس سال قبل کام کرنے والوں کے تقابل میں رکھ کر دیکھیں ، تو دور حاضر کی تخلیقات کا معیار کم ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، تو مستقبل میں کیا ہوگا ؟
مشاعروں کا تعلق بھی اردو ادب ہی سے ہے ، مگر آج کل ہونے والے مشاعروں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اردو کی مٹی پلید کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہو۔ خالص ادبی مشاعرے تو ہوتے ہی نہیں ہیں ۔ اب مشاعرے اردو کی تہذیب کے بجائے اسٹیج کی زینت بن چکے ہیں ۔
ماضی میں اردو کے ادیبوں نے ہندی فلموں کو بہترین کہانیاں ، مکالمے اور عمدہ نغمے دیے ، مگر آج فلموں کا حال اور بھی بد تر ہے ۔ اب فلمی مکالموں اور نغموں میں کون سی زبان استعمال ہو رہی ہے ، سمجھ میں ہی نہیں آتا ، وہ ہندی ہے ، اردو ہے ، ہندستانی یا کچھ اور؟
اگر ہم تیس برس پہلے کی بھی بات کرتے ہیں ، تو ماحول ایسا تھا کہ اردو کے ماہنامہ پرچوں اور نئے ناولوں کا لوگوں کو انتظار ہوا کرتا تھا ۔فکشن پڑھنے والوں کو اچھی کتابوں کی تلاش رہتی یا انتظار رہا کرتا تھا۔ پڑھاکو لوگ اپنے علاقے کی لائبریر ی کے ممبر بن جایا کرتے تھے ، ٹرین میں دوران سفر لوگوں کے ہاتھوں میں کوئی اخبار ، میگزین یا ناول ہوا کرتا تھا ، مگر اب لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل آ گیا ہے ، جس سے کئی لائبریریاں بھی ویران ہو گئی ہیں ، بلکہ کئی ایک تو بند بھی ہو چکی ہیں ۔
الیکٹرانک میڈیا نے اتنی تیزی سے ترقی کر لی اور عوام پر یلغار کر دی کہ موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال سےتفریح کا بھر پور ذریعہ نئی نسل کے ہاتھ میں ہے ۔ فلمیں دیکھنی ہو ں ، ٹی وی سیریل دیکھنے ہوں ،ریڈیو سننا ہو ، کوئی ای بک پڑھنی ہو یا گیم کھیلنا ہو یہاں تک کہ کسی بھی زبان کے لفظ کے معنی کے لیے لغت کی ضرورت ہو ، سب کچھ اس موبائل سے حاصل کر سکتے ہیں ۔تو ایسی صورت میں اردو کہاں باقی رہ جاتی ہے ۔ دراصل اردو بولی اور سنی جا رہی ہے ، مگر دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔کیونکہ اسے سوشل میڈیا پر دیوناگری اور رومن رسم الخط میں دیکھا جا رہا ہے۔
ترقی یافتہ دور کے ساتھ اردو کو بھی کمپیوٹرائز کر دیا گیا ، انٹر نیٹ سے جوڑا گیا ، مگر معیاری ادب اسی وقت تخلیق ہو سکتا ہے ، جب تخلیق کار معیاری ادب کا مطالعہ کرے ، مگر آج کا تخلیق کار جلد باز ہے اور وہ جلد بازی میںاپنی تخلیقات جلد سے جلد منظر عام پر لانا چاہتا ہے اور معیار کا خیال نہیں رکھ پا رہا ہے ۔ مستقبل میں ، حالات اس سے بھی برےہو سکتے ہیں ۔ اب اچھی تخلیقات کی امید کم ہوتی جا رہی ہے ۔ کیونکہ کچھ ایسا بھی ہے کہ لوگوں نے ادب کو روزی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے ، جب ادب کو روزی کا ذریعہ بنایا جائے گا ، تو اچھا ادب کیسے تخلیق ہوگا ؟ادیب جب پیٹ سے سوچنے لگتا ہے ، تو اس کا دماغ کام نہیں کرتا اور جب دماغ ہی کام نہیں کرے گا ، تو اچھا ادب کیسے تخلیق ہوگا ؟یہی حال مشاعروں کا بھی ہوتا جا رہا ہے ، مجمع کی داد و تحسین پر مشاعروں کی کامیابی کا معیار قایم کیا جانے لگا ، تو شعرا بھی بجائے کلام پیش کرنے کے اسٹیج پر کرتب دکھانے یا گلا بازی کرنے لگے ، جس سے رفتہ رفتہ مشاعروں کا معیار گرتا چلا گیا ۔
مہاراشٹر میں اردو ادب کے بہتر مستقبل کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا ۔ سب سے پہلے اردو کے قاری تیار کرنے ہوں گے ، جس کے لیے اردو میڈیم اسکولوں کے علاوہ دیگر زبانوں کے اسکولوں میں اردو کو بھی لازم مضمون قرار دیا جائے، کیونکہ جب اچھا قاری پیدا ہوگا ، تو اسی میں سے اچھا تخلیق کار منظر پر آئے گا۔ اردو کسی ایک ریاست کی نہیں پڑوسی ملک کی نہیں ہمارے ملک کی زبان ہے ۔ اردو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومت کو بھی ایک ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا ۔ اردو کا تخلیق کا ر پیٹ سے کیوں سوچ رہا ہے ، اس پر غور کر نے کی اور اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ مانا کہ مہاراشٹر میں اردو کے ادیبوں اور شاعروں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، مگر ان کے حالات بہت اچھے نہیں ہیں ۔ بڑی مشکل سے وہ اپنی تخلیقات مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے جزوی مالی تعاون سے شائع کرواتے ہیں اور پھر انہیں فروخت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی مارکٹ یا خریدنے کے لیے قاری نہیں ہوتا ، وہ تو اپنے دوستوں کو مفت میں کتابیں بانٹ کر تھوڑی دیر کے لیے خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کی تخلیقات چند ہاتھوں تک پہنچ گئی ہیں ، مگر تیز رفتار مصروف زندگی اور الیکٹرانک میڈیا کی یلغار کے سامنے ہاتھ میں کتاب پکڑ کر پڑھنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے ، تو یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ آئندہ دس برسوں میں کیا صورت حال ہوگی ؟
گزشتہ دنوں ممبئی میں  ایک کتاب کےتقریب اجراکے موقع پر میں نے کتاب کا ایک اکتباس پڑھ کر سنایا ، تو وہاں موجود غیر اردو داں حضرات نے کہا کہ اردو سننے کے لیے بہت اچھی لگی اور مضمون بھی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا ، تو کیا تم اسے رکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دوگی ؟ سوال بہت اچھا تھا ، اردو کی ای بک پڑھنے کے لیے بھی اس کے رسم الخط سے واقف ہونا ضروری ہے ، مگر اردو کو سننے سنانے کے لیے کوئی مسئلہ ابھی نہیں ہے ، تو کیا آنے والے دنوں میں اردو ادب بجائے رسم الخط اور کتابی شکل کے صوتی ہو جائے گا۔ کیا ایسا ہونا اردو اور اردو ادب کے مستقبل کے حق میں بہتر ہوگا ؟بہر حال آج کا منظر نامہ دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے ، مہاراشٹر میں اردوادب کا مستقبل بہت زیادہ روشن نہیں ہے ، ہاں اگر ابھی توجہ دی جائے اور محنت کی جائے ، تو ہو سکتا ہے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ، اس کے لیے تخلیق کار ، قارئین اور محبان اردو کو متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا اور اردو ادب کے بہترین مستقبل کے لیے ٹھوس اقدام کرنے ہوں گے۔

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com