کس طرح کی مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی ہمیں چاہیے؟

اردو ادب اور فکشن کی دنیا میں رحمٰن عباس کا نام تعارف کا محتاج نہیں ۔ خلاق ذہن کا مالک رحمن عباس جو کچھ محسوس کرتا ہے اسے اپنے قلم کی زد پر لے کر فکشن میں ڈھالنے کا ہنر جانتا ہے ۔ ’’ نخلستان کی تلاش ‘‘ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی ‘‘ ’’ خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ‘‘ ’’ تین ناول ‘‘ اور ’’ روحزن ‘‘ کے خالق رحمن عباس کے ناولوں کا ترجمہ انگریزی ، ہندی اور مراٹھی کے علاوہ بھی کئی زبانوں میں کیا جا رہا ہے ۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کی موجودہ صورت حال پر رحمٰن عباس نے تڑپ کر ایک خط اردو اخبارات کے مدیران کے نام لکھا ہے ، جو حقیقت پر مبنی ہے ۔ رحمٰن نے جو کچھ لکھا ہے اس سے اردو کے ادیب اور شاعر اختلاف نہیں کر سکتے ، بلکہ وہ رحمٰن عباس کی آواز میں آواز ملائیں گے ،جو متشاعر ہیں یا ادب کی الف سے واقف نہیں وہ ضرور اعتراض کریں گے ۔

ادارہ

ادیبوں اور شعرا کے نام ایک خط

پیارے اردو والو
ممبئی اور مہاراشٹر کے قلم کارملک کی سماجی اور سیاسی زندگی میں ہمیشہ نمایاں رول ادا کرتے رہے ہیں۔ ہماری ریاست منٹو، عصمت، بیدی، کرشن چندر، سریندر پرکاش، سردار جعفری، مجروح اور کیفی اعظمی جیسے بلندقامت فن کاروں کا گھر ہوا کرتی تھی ۔ ہمیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہمارے یہاں ادب کا مکالمہ ایمانداری اور اقربا پر وری کی پراگندگی سے بلند ہے اور اسی لیے ہم ایک دوسرے پر سخت تنقید بھی کرتے ہیں اور مفادات کی تلچھٹ سے بلند ہو کر محبت بھی کرتے ہیں۔ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی ریاست میں ادبی اور علمی سرگرمیوں کا ایک اہم پلیٹ فارم ہوا کرتی تھی۔ یہاں چند برسوں سے اکادمی کے ممبران ایسے لوگوں کو نامزدکیا جا رہا ہے جو ادب، علم اور فنونِ لطیفہ سے لاتعلق ہیں۔
افسوس ناک بات یہ ہے اس صورت حال پر لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ احتجاج نہیں کرتے ۔ یہ مجرمانہ خاموشی ہے اسی سبب حکومتِ وقت کو یہ لگتا ہے کہ لوگ خوش ہیں کسی کو کوئی شکایت نہیں ۔ جبکہ غیر ادبی افراد اکادمی میں پہنچ کر ادب کی خدمت کے بجائے اپنے دوستوں اور خوشامد کرنے والے افراد کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔عمدہ ، علمی، ادبی کتب پر گھٹیا اور غیر ادبی تصانیف کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف ادب کی ترقی اور ترویج کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اردو معاشرے کی سماجی اور سیاسی زندگی کے زوال کا سبب بھی ہے۔
جناب رؤف پٹھان کا عہد ایک تاریک عہد تھا ۔اب وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں اور اکادمی کی نئی تشکیل کا امکان ہے۔ چنانچہ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم کس طرح کے ممبران اور سرپرست اکادمی میں چاہیے ہیں:
۔کیا فرقہ پرست افراد کے ہاتھ اکادمی کی باگ ڈور دینا چاہیے؟
۔کیا ایسے اردو صحافیوں کی اکادمی پر اجارہ داری قائم ہو جنھوں نے صحافت کو شرپسندی اور شدت پسندی کے لیے استعمال کیا ہے؟
۔کیا مذہبی منافرت پھیلانے والے افراد کو ہمیں برداشت کرنا چاہیے؟
۔کیا ادب اور علم سے بے بہرہ ، مفادات کے حصول کے لیے سرگرم افراد کے ممبر بننے پر ہمیں احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔ کیا یہ ہمارا ادبی، علمی اور انسانی فریضہ نہیں کہ ہم علم دشمن افراد کے خلاف آواز بلند کریں؟
۔ کیا ہمیں علم دوست، ادب نواز، اور سرگرم محبان اردو کو اکادمی میں پہنچانے کے لیے حکومت سے استدعا نہیں کرنا چاہیے؟
۔ کیا ہم ایسے لوگوں کو کتابوں پر انعامات دینے کے لیے جج بننے دیں جن کی فکشن، شاعری، ڈراما اور افسانہ کے میدان میں کوئی خدمت نہیں ۔ جن کے فیصلے غلط اور ادب کے شعور کے لیے نقصان دہ ہوں؟
اس طر ح کی مزید باتوں پر ہمیں غوروفکر کرنا چاہیے اورادب سے وابستہ سنجیدہ فکر لوگوں کو اکادمی میں دیکھنے کے لیے سرگرم۔
میری اردو سے محبت کرنے اور ادب کو مذہبی، سیاسی، فرقہ وارنہ اور ذاتی مفادات سے بلاتر ہو کر بہ طور ادب دیکھنے والے افراد سے گزارش ہے کہ ایک کمیٹی تشکیل دیں اور حکومت اور متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا جائے اور ممبران کی نامزدگی سے متعلق ادب، علم اور تعلیمی خدمات کو اہم قرار دیا جائے۔ آپ کادوست

رحمٰن عباس

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com