فیض احمد فیض

فیض احمد فیض

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

درج بالا دو اشعار فیض احمد فیض کی مشہور غزل سے ہیں ۔فیض احمد فیض ایک ترقی پسند انقلابی شاعر تھے ۱۳؍ فروری ۱۹۱۱؍ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔شاعر انقلاب آٹھ کتابوں کے مصنف،درجنوں مشہور نغمات کے خالق،ترقی پسند شاعرتھے۔
ان کے والد چوہدری سلطان محمد خان بیرسٹر تھےاور انجمن ترقی پسند تحریک کے فعال رکن اور کمیونسٹ تھے۔والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ فیض احمد نے ابتدائی مذہبی تعلیم مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے حاصل کی۔ اس کے بعد ۱۹۲۱؍ میں اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا۔ میٹرک کا امتحان ۱۹۷۲؍ میں فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، اور پھر ایف اے کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا۔
ان کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق بھی شامل تھے جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے۔ فیضؔ نے اسکول میں فارسی اور عربی زبان سیکھی۔ بی اے انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے ۱۹۳۲؍ میں انگلش میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کیا۔ ان کی ۱۹۳۰؍میں ڈاکٹر دین محمد تاثیر کی بہن اور لندن نژاد ایلس جارج سے شادی ہوئی۔
۱۹۴۲؍ میں فیض احمد فیضؔ فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ہوئے اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک ترقی پائی۔ ۱۹۴۷؍میں فوج سے مستعفی ہوکر واپس لاہور آگئے۔ ۱۹۵۹؍ میں پاکستان آرٹس کونسل میں سیکریٹری کے عہدے پر تعینات ہوئے اور ۱۹۶۲؍تک وہیں پر کام کیا۔ ۱۹۶۴؍میں لندن سے واپسی پر عبداللہ ہارون کالج کراچی میں پرنسپل کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔
۹؍مارچ ۱۹۵۱؍ کو راولپنڈی سازش کیس میں معاونت کے الزام میں حکومتِ وقت نے انہیں گرفتار کرلیا۔ فیضؔ نے چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدرآباد اور کراچی کی جیل میں گزارے۔ انہیں۲؍اپریل ۱۹۵۵؍کو رہا کردیا گیا۔ ’’زنداں نامہ‘‘ کی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لکھی گئیں۔ فیض احمد نےکئی برسوں تک جلا وطن کی زندگی گزاری ۔ فیضؔ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آزادی کے شاعر تھے۔ مزاحمت اور انقلاب کے شاعر تھے۔
فیض کی شاعری کے انگریزی، جرمن، روسی، فرنچ سمیت مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں، ان کے مجموعہ کلام میں ’’نسخہ ہائے وفا، دست تہہ سنگ، نقش وفا، نقش فریادی دست صبا،، سر وادی سینا ، زنداں نامہ‘‘ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔
فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی شاعر تھے جنھیں روس کا لینن امن ایوارڈ اور نوبل پرائز سے نوازا گیا، انھیں پاکستانی امن ایوارڈ، نگار ایوارڈ اور سب سے بڑے سول ایوارڈ نشان امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ فیض احمد فیض ۲۰؍ نومبر ۱۹۸۴؍کو انتقال کر گئے تھے۔
فیض کی شاعری سے انتخاب بہت مشکل ہے ، مگر چند اشعار :

یادکا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اٹھا آخر شب
وہ جو اک عمر سے آیا نہ گیا آخر شب

آپ کی یاد آتی رہی بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی
شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا
جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے
وہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com