اتر پردیش کے انتخابات کا اثر ؟

جب بھی ملک میں انتخابات کا دور شروع ہوتا ہے ، ہر سو ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے ۔ گزشتہ دنوں ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ،گویا ان پانچ ریاستوں یعنی اترپردیش، پنجاب ‘ گوا ‘ منی پور اور اترکھنڈ میں انتخاب کا بگل بج گیا ہے اور ان ریاستوں میں انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو گئی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام ریاستوں کے شیڈول کا اعلان بھی ہو چکا ہے ۔
اتر پردیش ملک کی بڑی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بہت ہنگامہ خیز بھی رہی ہے ۔اسی ریاست کی مہربانیاں ہیں کہ ملک میں بے جے پی بر سر اقتدار ہے ۔
اتر پردیش میں بر سر اقتدار سماجوادی پارٹی میں انتشار پیدا ہوچکا ہے ، مگروہ یہاں اپنے اقتدارکو بچائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی دو بارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیےایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، تو کانگریس بھی ریاست میںاپنا مقام بنانے کی کوشش میں جد وجہد کر رہی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار ہونے والے انتخابات کے نتائج زیادہ ہی اہمیت کے حامل ہوں گے ۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جتنے اہم انتخابات ہیں اور جس قدر اہم اس کے نتائج ہو سکتے ہیں ، اس کا احساس سیاسی پارٹیوں کو تو ہے ، مگر رائے دہندگان کو نہیں ہے ۔ انتخابات کے موقع پر وہ اکثر غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور پھر پانچ سال تک غلطیوں کا خمیازہ بھگتتے رہتے ہیں ۔ رائے دہندگان میں ابھی وہ سیاسی شعور نظر نہیں آتا ، جو انہیں صحیح فصلہ کرنے پر آمادہ کر سکے ۔
بی جے پی اچھی طرح سمجھ رہی ہے کہ اس کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اسے اترپردیش میں اقتدار حاصل کرنا ہوگا ۔ فی الحال ، جو صورت حال اتر پردیش کے سیاسی ماحول کی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے ، کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی ۔
نتائج کا انحصا ر رائے دہندگان کی سیاسی بصیرت اور سوجھ بوجھ پر ہے ۔ رائے دہندگان کو چاہیے کہ وہ اپنے ووٹوں کو تقسیم نہ ہونے دیں ، ضائع نہ ہونے دیں اور نہ ہی کسی فرقہ پرست پارٹی کی حمایت میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں ۔ کیونکہ اتر           پردیش کے انتخابات کے نتائج کا اثر پورے ملک پر ہو سکتا ہے۔

 

 

عارف لطیف

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com