اینٹی رومیو اسکواڈ ، گیہوں کے ساتھ گھن بھی ؟

خبروں کے مطابق ریاست اترپردیش کے نئے وزیراعلی آدتیہ ناتھ نے ضلع کے ہر تھانے میں اینٹی رومیو اسکواڈ بنانے کا حکم دے دیا ہے۔
خواتین کے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے بنائے گئے بی جے پی کے اینٹی رومیو اسکواڈ کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اینٹی رومیو اسکواڈ کی آڑ میں غنڈہ گردی ہو رہی ہے ۔
بی جے پی کے ارکان پارکوں اور دیگر تفریحی مقامات پر سرعام شہریوں پر تشدد کرنے لگے۔ اس کے علاوہ پولیس نے وارانسی کے گرلز کالج کے باہر آوارہ گردی کرنے والے منچلوں کو پکڑنے کی مہم شروع کر دی۔ اس مہم میں کوئی من چلا عاشق تو پکڑا نہیں گیا ، مگر افراتفری پھیل گئی۔اینٹی رومیو اسکواڈ پارک اور بس اسٹاپ سمیت بازاروں میں بھی کارروائیاں کرے گا۔اینٹی رومیو اسکواڈ کے تعلق سے لڑکیوں کا کہنا ہے کہ اسکواڈ کی شروعات تو اچھی ہے لیکن اس پر مستقل عمل یقینی بنایا جائے۔
خبروں کے مطابق رامپور اترپردیش میں پولیس کی اینٹی رومیو مہم کے دوران حراست میں لے گئے ایک نوجوان اور اس کے رشتہ دارلڑکی کی رہائی کے لیے ان کے والدین سے رشوت مانگنے اور ہراساں کرنے کے الزام کے تحت دو پولیس والو ں کو برطرف کردیاگیا ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اینٹی رومیوں اسکواڈ کے ذریعے رشوت حاصل کرنے کا ایک اور ذریعہ پولس والوں کو فراہم کر دیا گیا ہے ۔ یہ درست ہے کہ لڑکیوں کے کالجوں کے باہر ، بازاروں ، پارک اور سنیما گھروں میں کچھ بد تمیز قسم کے افراد خواتین کے ساتھ بد تمیزی یا چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص اسی زمرے میں آتا ہے ۔ رامپور میں جس لڑکا اور لڑکی کو پولس نے حراست میں لیا تھا وہ آپس میں رشتے دار تھے اور ساتھ ہی کسی میڈیکل اسٹور سے دوا لے رہے تھے ، وہاں چھیڑ چھاڑ والی کوئی بات ہی نہیں تھی اور دونوں کے والدین نے پولس اسٹیشن جا کر اس بات کی تصدیق بھی کر دی کہ دونوں آپس میں رشتہ دار ہیں اور ان کے ساتھ میں ہونے کا علم والدین کو بھی تھا ، مگر اس موقع پر پولس اہلکار نے دونوں کو رہا کرنے کے لیے ۵۰۰۰؍ روپے کا ان کے والدین سے مطالبہ کر دیا ، والدین نے یہ رقم دیتے ہوئے ، اس کی فلم بنائی اور پولس اہلکار معطل کر دیا گیا ۔ بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی ، بلکہ بات تو اب شروع ہوئی ہے کہ اب کسی کو بھی گرفتار کر کے اسے تنگ کیا جائے گا یا رشوت طلب کی جائے گی ، تو اینٹیرومیو اسکواڈ کا مطلب کیا ہوا؟
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے اینٹی رومیو اسکواڈ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا ہماری تہذیب اور اخلاقی قدریں اس قدر پستی کی طرف مائل ہیں کہ اینٹی رومیوں اسکواڈ بنا کر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا اقدام کیا گیا ۔ اس خبر سے دیگر ممالک کے سامنے ہمارے ملک کی تہذیب اور اخلاقی قدروں کی قلعی کھل رہی ہے ۔ اینٹی رومیوں اسکواڈ جب سے شروع ہوا ہے یوپی میں نوجوانوں کے لیے گھر سے نکلنا دوبھر ہو گیا ہے ۔ کیا یہ مناسب ہے کہ صنف نازک کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے مخالف صنف کو ہراساں کیا جائے ۔ جو قصور وار ہیں ، انہیں واقعی سزا ملنا چاہیے ، مگر جو بے قصور ہیں ، وہ تو گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح پس رہے ہیں ، کیونکہ یو پی پولس سب کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے۔

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com