بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہرکس طرح حل کیا جائے؟

۶؍ دسمبر ۱۹۹۲میں سخت گیر کار سیوکوں نے منہدم کر دیا تھا۔مگر اس کی نوبت کیسے آئی ، اس پر ایک نگاہ ڈالی جائے ۔ سیکولر پارٹی کانگریس کے دور حکومت یعنی جس وقت پنڈت نہرو جی وزیر اعظم تھے ، بابری مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں ، انہیں اگر اسی وقت ہٹا دیا جاتا ، تو ؟ مگر ایسا نہیں ہوا ۔ اندراگاندھی جی کی دور حکومت میں بابری مسجد پر تالا لگایا گیا ، یعنی کانگریس ہی کا اقتدار تھا ، پورے ملک میں رتھ یاترا نکالی گئی ، جسے صرف بہار میں لالو پرساد یادو نے روکنے کی جرات کی اور اس کا ساتھ نہیں دیا ۔ راجیو گاندھی کے دور میں شیلا نیاس کیا گیا ۔ کانگریس ہی کے دور اقتدار میں یعنی نرسمہا راؤ کے دور میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا اور ملک کی سیکولر پارٹی بر سر اقتدار ہوتے ہوئے کچھ نہیں کر سکی ، بابری مسجد اس ملک کا تنازع بن کر سیکولرازم کی علامت بن گئی تھی ، پھر سیکولرازم کا دم بھرنے والے کہاں تھے ؟
۲۰۱۰؍ میں  الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ جس جگہ پر رام کی مورتی رکھی ہے وہ وہیں رہے گی اور باقی زمین کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک حصہ رام مندر کے لیے ایک بابری مسجد کے لیے اور ایک حصہ کو فلاحی ادارے کے لیے مختص کر دیا جائے گا ۔ دراصل ۲۰۱۰؍ میں یہ فیصلہ سنا دیا گیا تھا ، مگر انصاف نہیں ہو سکا تھا ۔ اس فیصلے سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہو گئی تھی ۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ مذہب اور عقیدے سے وابستہ ‘حساس اور جذباتی معاملہ ہے، اسے آپسی بات چیت سے عدالت کے باہر نمٹادیا جائے ۔
چیف جسٹس جے ایس كھیر نے سماعت کے دوران کہا کہ اس طرح کے مذہبی مسئلے بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں اور انھوں نے اس معاملے کے قابل قبول حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی۔
ایودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد تنازع پر سپریم کورٹ کے تازہ مشورے کو بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے قبول نہیںکیا ہے جبکہ وزیر قانون اور وشو ہندو پریشد نے اس مشورے کا خیر مقدم کیا ہے۔
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ایک رکن سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ ‘بات چیت کا مطلب سرینڈر کر دینا ہے۔الیاس رسول نے مزید کہا کہ جب دوسرے فریق نے یہ کہہ رکھا ہے کہ یہ رام جنم بھومی ہے، یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، آپ اس کو چھوڑ دیں تو ہم آگے کیا بات کرسکتے ہیں ؟
۲۰۱۰؍میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ جس جگہ پر رام کی مورتی رکھی ہے وہ وہیں رہے گی اور باقی زمین کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔اس میں سے ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اگر بابری مسجد تنازع کو ہندو مسلمانوں کو مل کر عدالت کے باہر نمٹانے کا مشورہ دیا گیا ہے ، تو یہ بھی دیکھیے کہ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر محمد اعظم خاں نے رام مندر معاملے میں علماء کونسل، شاہی امام اور مولانا اویسی پر طنز کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ ہی اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ کرا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کی طرف سے رام مندر معاملے میں کیے گئے تبصرہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اعظم خان نے تلخ انداز میں کہا کہ یہ ایک اچھی پہل ہے کیونکہ مذہبی لوگوں نے شروعات کی ہے۔ظاہر ہے مذہبی لوگ ہی اس میں سمجھوتہ بھی کرا سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر تمام فریقین چاہیں تو عدالت پرنسپل مذاکرات کار مقرر کرنے کے لیے تیار ہے۔
تین رکنی بینچ نے مسٹر سوامی سے کہا کہ وہ اس بارے میں فریقین سے بات کر کے عدالت کو ۳۱؍ مارچ تک آگاہ کریں۔
متنازع رام جنم بھومی کے اہم پجاری آچاریہ ستیندر داس نے مندر مسجد تنازع کو سپریم کورٹ کی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔
آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اقدامات خوش آئند ہیں۔ہندو اور مسلم فریقین کو بیٹھ کر اس کا حل تلاش کر لینا چاہیے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اور رام جنم بھومی معاملے میں وکیل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے آج کہا کہ اگر عدالت کے ذریعہ سے اس معاملے کا حل نہیں نکلتا ہے تو ۲۰۱۸؍میں قانون بناکر رام جنم بھومی پر عظیم الشان مندر کی تعمیر کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۸؍میں راجیہ سبھا میں مودی حکومت کو اکثریت مل جائے گی جس کے ضروری قانون بناکر رام مندر کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔
ان حالات میں ملک کا مستقبل سامنے ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ متحد ہو جائیں ۔ اعظم خان نے جس طرح طنز کیا ہے اس سے آپسی اختلاف کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ وقت ایک دوسرے پر طنز کرنے کا نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر آپسی گفتگو سے حل نکالنے کا ہے ۔ ورنہ اس ملک میں وہی ہوگا ، جو ڈاکٹر سبرا منیم سوامی کہہ رہے ہیں ۔ کیونکہ وہ اپنے نظریہ کے مطابق خوش آئند مستقبل دیکھ رہے ہیں ۔ بقول بی جے پی ’’ اچھے دن آئیں گے ۔ ‘‘ تو انہیں اپنے اچھے دن نظر آ رہے ہیں ، اس صورت میں  دوسرے فریق کے ضرور برے دن ہوں گے ۔ کیونکہ جب کسی تنازع کا فیصلہ ہوتا ہے ، تو وہ کسی ایک کے حق میں ہوتا ہے اور دوسرا اس سے محروم ہو جاتا ہے ، یہی صورت حال یہاں بھی ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com