بی جے پی اقتدار کے بعد

بی جے کے اقتدار میں آتے ہی ، جو تبدیلیاں سامنے آئی ہیں ، اس سے یہ نہیں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے کوئی کام کیا جا رہا ہے یا کوئی ایجنڈا ہے ۔ غور کیا جائے ، تو اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بہت شدت اور تیزی کے ساتھ آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل کرنےکی مہم شروع کر دی گئی ہے ۔ کیونکہ نتائج سامنے آتے ہی آدتیہ ناتھ جیسی نفرت انگیز بیانات دینے والی شخصیت کو بر سر اقتدار کر دیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی ترقیاتی ایجنڈہ کی بجائے مذہبی نوعیت کے متنازع مسائل کی بنیاد پر ہی اکثریت حاصل کررہی ہے اور کرنا چاہتی ہے ۔ وہ عوام کو مندروں اور مسجدوں کے مسئلہ میں ذہنی طور پر الجھائے رکھنا چاہتی ہے ۔
ذبیحہ خانے بند کروانے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں ، بلکہ یوپی میں کئی ذبیحہ خانے بند ہونے سے اس سے وابستہ افراد بے روزگار ہو گئے ہیں ۔ گزشتہ دنوں  بابری مسجد کے تعلق سے عدالت کا مشورہ ہے کہ معاملہ آپسی گفتگو سے عدالت کے باہر حل کر دیا جائے کیونکہ یہ بہت حساس معاملہ ہے اور اسے لوگوں کے مذہبی جذبات اور عقائد وابستہ ہیں ۔
ان دنوں یہ معاملہ عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ عدالت کے باہر آپسی سمجھوتے سے کیا فیصلہ ہو سکتا ہے ؟ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ایک رکن سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ ‘بات چیت کا مطلب سرینڈر کر دینا ہے۔الیاس رسول نے مزید کہا کہ جب دوسرے فریق نے یہ کہہ رکھا ہے کہ یہ رام جنم بھومی ہے، یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، آپ اس کو چھوڑ دیں تو ہم آگے کیا بات کرسکتے ہیں ؟
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اور رام جنم بھومی معاملے میں وکیل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے آج کہا کہ اگر عدالت کے ذریعہ سے اس معاملے کا حل نہیں نکلتا ہے تو ۲۰۱۸؍میں قانون بناکر رام جنم بھومی پر عظیم الشان مندر کی تعمیر کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۸؍میں راجیہ سبھا میں مودی حکومت کو اکثریت مل جائے گی جس کے ضروری قانون بناکر رام مندر کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔
ایک طرف سماج میں ایودھیا مسئلہ پر تشویشناک صورت حال ہے، تو دوسری جانب بی جے پی لیڈر سبرامنین سوامی نے یہ تک اعلان کردیا ہے کہ ۲۰۲۴؍تک متھرا اور کاشی کو بھی آزاد کروالیا جائے گا ؟
سوال یہ ہے کہ کس سے آزاد کروا لیا جائے گا؟
اسی طرح اب جبکہ ایودھیا کا مسئلہمعلق ہے کہ متھرا اور کاشی کے مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ سماج میں نفرت اور خوف کو بڑھاوا دیاجائے تاکہ بی جے پی کی سیاسی دوکان اسی طرح چلتی ہے اور اسے ترقی ملتی ہے ۔اب اگر ایودھیا مسئلہ حل کیے بغیر ہی کاشی اور متھرا کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے ، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مذہبی جذبات کا استحصال کر کے سیاست چلائی جائے گی ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا ۔ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ واریت سے بچنے کی کوشش کی جائے اور ملک میں آپسی اتحاد و اتفاق کی فضا قایم رکھی جائے ۔ کیا ہر روز ایسے ہی سلگتے ہوئے معاملات پر بیان بازی کرنے سے ملک میں امن و امان قایم رہ سکتا ہے ؟ جو پارٹی بر سر اقتدار آئے اسے ملک کی ترقی کے ایجنڈے پر بات یا کام کرنا چاہیے ، تاکہ جب بھی چناؤ ہوں ، تو اس کی کامیابی یقینی ہو اور کامیابی کے لیے عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے یا فرقہ پرستی کی ہوا گرم کرنے کی نوبت نہیں آئے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں صرف ترقی ہی پر توجہ دی جاتی ہے ، فرقہ پرستی پر نہیں ۔ فرقہ پرستی کو ہوا دے کر یا کسی قسم کی دھاندلی کر کے چناؤ میں کامیابی حاصل کر لینے سے ملک کی ترقی ممکن نہیں اور نہ ہی معیار بلند ہو سکتا ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com