بی جے پی حکومت میں ذبح خانوں پر پابندی ، ہزاروں لوگ بے روزگار

ریاستی حکومت نے تمام غیر قانونی مذبح خانوں کو بند کرانے کا حکم جاری کر دیا

خبروں کے مطابق ریاست اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
ریاست اترا کھنڈ کے معروف شہر ہری دوار میں بھی حکمراں جماعت بی جے پی نے ذبح خانوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وہاں کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے میونسپل علاقوں کی گوشت کی دکانوں کو بند کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذبیحہ پر پابندی لگ جانے سے گوشت کا کاروبار کرنے والے بےروزگار ہو گئے ، اسی کے ساتھ ، چمڑے کا کاروبار بند ہو گیا ، جن ہوٹلوں میں گوشت پکایا جاتا تھا ، ان کا کاروبار ٹھپ اکثر ٹھلیے ، چھابڑی اور چھوٹے بھٹیار خانوں میں بھی گوشت پکایا جاتا تھا ، جو سستی اور صحت بخش غذا کے طور پر عام آدمی استعمال کرتا تھا ، وہ بھی بند ہو گیا ۔
ایسا نہیں ہے کہ گوشت صرف مسلمانوں کی غذا ہے ۔ مسلمانوں کے علاوہ دیگر قومیں بھی گوشت کھاتی ہیں ۔ برہمن اور جین کے علاوہ بہت سی قومیں ہیں ،جن کی غذا میں گوشت شامل ہے ۔ چمڑے کی اشیا کا استعمال تو سبھی کرتے ہیں اور کاروبار بھی بہت سی قومیں کرتی ہیں۔ گوشت کی دوکانوں کے تعلق سے حکم نامہ کچھ اس طرح جاری کیا گیا ہے کہ بغیر لائسنس والی دوکانیں فوراً بند کر دی جائیں اور لائسنس والی دوکان والے گوشت کو کھلا نہیں رکھیں ، ڈھک کر رکھیں ۔ یہ صحیح ہے ، مگر ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ جن کے لائسنس نہیں ہیں ، انہیں لائسنس حاصل کرنے کا حکم دیا جائے یا ایک مدت طے کر دی جائے کہ وہ اس دوران لائسنس حاصل کر کے اپنا کاروبار جاری رکھیں ۔ کیونکہ اس ملک میں ہر شہری کو کسی بھی ریاست میں رہنے ، تعلیم حاصل کرنے ، ملازمت کرنے اور کاروبار کرنے کا یکساں حق حاصل ہے اور اپنی پسندیدہ غذا کھانے کا بھی حق حاصل ہے ، تو پھر اس طرح کے احکامات جاری کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں ؟؟کیا اس صورت میں ریاستی حکومتیں جنہوں نے ذبیحہ پر پابندی لگا دی ہے ، وہ گوشت کی برآمد( ایکسپورٹ ) پر بھی پابندی لگا سکتی ہیں ؟ جب بند کرنا ہے ، تو برآمد بھی بند کر دیا جائے ۔
خبروں کے مطابق ریاستی حکومتوں کے اس فیصلے کا اثر ملک کے مختلف علاقوں پر پڑ رہا ہے۔ اس سے گوشت کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں بڑے ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اسی لیے دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تاجروں کا ایک طبقہ معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔
کیا زندگی کی ہر ضرورت کے لیے ملک کے شہریوں کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا ؟ اور فیصلہ ہونے تک انتظار کرنا ہوگا ؟؟ بر سر اقتدار حکومت کو کیا جمہوری حقوق کے تعلق سے بار بار یاد دہانی کرانی ہوگی ؟ یا کہیں یہ سیکولرازم اور جمہوریت کو ختم کرنے کا منصوبہ تو نہیں ؟یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے ، ملک کی ان تمام اقلیتوں کا ہے ، جو گوشت خور ہیں اور اس کاروبار سے وابستہ ہیں ، ان سب کو متحد ہو جانا چاہیے ، کہ اس مسئلے سے بہت سے انسان مصیبت میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ ملک میں عوام کی بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ، جہاں لوگ بے روزگار ہوں اور جہاں کی اقلیت پریشانی میں مبتلا ہو ۔ ملک کی ترقی کا دعوا کرنے والوں کو یہ بات پہلے سمجھ لینی چاہیے ۔ حکمراں جماعت کوئی بھی ہو ، اسے ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و راحت کا خیال رکھنا ہے ، نہ کہ فرقہ پرستی کا اظہار کر کے اپنا ووٹ بینک بنانا چاہیے ۔ کامیابی اچھے کام سے حاصل کی جا سکتی ہے ، ضروری نہیں کہ فرقہ پرستی سے کامیابی حاصل ہو ۔ ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد کو بے روزگار کرکے کامیابی حاصل کرنے کا خواب دیکھنا مناسب نہیں ہے ۔ جو حکومت بر سر اقتدار آئے عوام کو روزگار فراہم کرنے کے ذرائع پیدا کرنا چاہیے ۔ گوشت کھانے والی اور گوشت کے کاروبار سے وابستہ ملک کی تمام اقلیتیں ہیں اور اگر یہ اقلیتیں متحد ہو گئیں ، تو کیا ہوگا ۔ بر سر اقتدار جماعت اس بھرم میں ہے کہ وہ اکثریت میں ہے ، تو یہ بھرم ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔

  • شیریں دلوی
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com