سیاست اور کالادھن

Economics & Political Weekly

انگریزی سے ترجمہ

پرنجوائے رائے گوہا ٹھاکر

اکانامکس اینڈ پالیٹٰکل ویک لی
حکومت کا سیاسی پارٹیوں کے غیر قانونی فنڈ کے استعمال پر زبانی جمع خرچ:
نوٹ بندی کے ہا ہا کار کے درمیان، سیاساستدانوں کاانتخابی مہم کے دوران کالادھن کا استعمال کا مسئلہ کہیں پیچھے ر ہ گیا ہے ،جو غیر قانونی فنڈ سیاسی پارٹیا ںاپنے امیدواروں کو میدان میں کھڑا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں وہ کسی سے چھپا نہیں ہے اور حقیقت میں کبھی کبھار ہی کوئی الیکشن لڑتا ہے،حقیقتاً یہ ایک سیاسی تجارت اورمجرمانہ گٹھ جوڑ ہے جہاں کالےدھن کے استعمال کی سہولت ہوتی ہے۔ انتخابات میںکالادھن کا استعمال ہی ملک میںبد عنوانی کی بنیاد اور سر چشمہ ہے انڈین انالوجی کے حساب سے یہ بدعنوانی کی گنگوتری ہے ۔جب غیر قانونی دھندہ کرنے والے افرادیا جرائم پیشہ افراکسی ساستداں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تووہ اس سے منافع کی امید بھی رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے پورے سیاسی نظام کو بدعنوان بنا دیتے ہیںاس ملک میں یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے ۔
نوٹ بندی کی وجہ سے بد عنوانی ختم کیے جانے کے جو بلند بانگ دعوی کیےجا رہے ہیں ،تو کیا نوٹ بندی سے سیاستدانوں کا انتخابات میں کالادھن کاستعمال ختم ہو جائے گا ۔ کچھ قیاس تو لگائے جا سکتے ہیں جیسے آٹھ نومبر کو نوٹ بندی کے فیصلے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نوٹ بند ہوگئے اور لین دین پر اس کا بہت اثر پڑا تو کیا یہ اتر پردیش کے الیکشن کے مد نظر بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالف پارٹیوں کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے لیا گیا فیصلہ تھا؟
نوٹ بندی کے دنوں میں چیف الیکشن کمیشنر نسیم زیدی نے حکومت کو لکھ کر کو الکٹورل ریفارم کی صلاح دی کہا کہ اس وجہ سے انتخابات میں کالےدھن کے استعمال میں کمی واقع ہوگی ۔انھوں نے بحث کی ہے کہ رشوت خوری اور ـ’’پیڈنیوز‘‘کو ایک جرم قرار دیا جا سکتا ہے انھوں نے یہ مشورہ دیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ( ای سی آئی) کو یہ حق دیا جائے کے وہ سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کو رد کر سکے ۔حال میں ۱۹۰۰ سیاسی پارٹیاں آڈ رجسٹڑڈ ہیں اور ۴۰۰ سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جن کے امیدوار پچھلے دس سالوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اور ایسی پارٹیاں جن کا انداراج الیکشن کمیشن آف انڈیانے کیا ہے ایسی پارٹیاں نقلی پارٹیاں ہوتی ہیں کیونکہ ڈونیشن سے حا صل کی گئی رقم پر کوئی ٹیکس نہیںہوتا۔
اور بہت سارے لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ بے شمار ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جو کالےدھن کو سفید کرنے کے لیے ہی بنائی گئی ہیں ۔زیدی نے اس بات پر بحث کی ہے کہ حکومت کو ۲۰۱۵ کی لاء کمیشن کی سفارشات کو قبول کرلینا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی کل آمدنی کا پانچواں حصہ یا ۲۰ کرورڑ روپیئے(ان میں سے جو بھی لوور انکم ہو) کو ہی ڈونیشن ماننا چاہیے۔فی الحال تو سیاسی
پارٹیوں پر ڈونیشن کا ذریعہ بتانے کی کوپابندی نہیں ہے اگر یہ ۲۰۰۰۰ روپیوں سے کم ہے تو اس پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا
سیاسی پارٹیاں ایسے آڈیٹر کو منتخب کرتی ہیں جو ان کی اکاونٹ بک کو منظوری دے دیں۔
اس طرح قانون کمزور ہونے سے سیاسی پارٹیوں کو یہ فائدہ ہو جا تا ہے کہ انھیں یہ بتانا نہیں پڑتا کہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے انتخابی مہم میں کتنے پیسے خرچ کیے ہیں۔اور سیاسی پارٹیوں پر کسی بھی طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی لاء کمیشن ا ور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سفارشات کو سرد خانوں میں ڈال دیا گیا ہے ۔ لا منسٹری میں ان سفارشات کا مشاہدہ ٹاسک فورس کے ذریعے کیا جا رہا ہے ۔
فائنانس ایکٹ ۲۰۱۶ ایکٹ کے مطابق کچھ خاص طرح کے ڈونیشن جو سیاسی پارٹیوں کو ملتے ہیں انہیںقانونی حیثیت دے دی گئی ہے ۔ وزیر مالیات ارون جیٹلی نے فارن کنٹری بیوشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے سیکشن ۲۳(۱) ترمیم کرنے میں بہت دلچسپی دیکھائی ہے اس کے مطابق فارن شیئر ہولڈنگ بڑھ کر ۵۰ فیصدہوگئی ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا مارچ ۲۰۱۴ میں الیکشن سے کچھ پہلے جب دہلی ہائی کورٹ نے کانگریس اور بی جے پی کو ملنے والی بیرونی امداد کو غیر قانونی قرار دیا تھاَاور اس کیس میں ویدانتا اسٹرلائٹ اور سیسا گوا مائنگ کی نگرانی انل اگروال کر رہے تھے
بی جے پی حکومت اور کانگریس دونوں نے غیر حکومتی اداروں کو ملنے والی بیرونی امداد سے جڑے اصولوں کو سخت کر دیا ہے، اس وقت ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں اپنی پٹیشن واپس لینے کے لیے ایک ساتھ آ گئی ہیں جو انھوں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ؛ سپریم کورٹ میں دائر کی تھیں جس میں ویدانتا گروپ سے لیے کیےگئے ڈونیشن کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
کانگریس اور بی جے پی کے وہی نمائندے جو ووڈا فون کیس کے دوران انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کی وجہ سے پریشان تھے، لیکن جب ایف سی آر اے میں ترمیم کی گئی تو ذرا بھی احتجاج نہیں کیا ۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے ایف سی آر اے بل منی بل کے ذریعے پاس کیا گیا تھا اور اس کے علاوہ یہ قانون ہوم منسٹری کے زیر انتظام تھا نہ کہ فائنانس منسٹری کے ۔
نوٹ بندی کے فیصلے ایک ہفتہ بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستوں کے الیکشن کی فنڈنگ اور ساتھ ہی ساتھ لوک سبھا الیکشن اور اور اسٹیٹ لیجیسلیٹیو اسمبلی کے ا نتخابات بھی ۔ اس کا مقصدالیکشن میں ہونے والے اخراجات میں کمی ا اور کالادھن کا استعمال نہ ہو ایسا پہلی بار نہیں ہے کے اس طرح کی تجویزپہلے پیش نہیں کی گئی دی ۱۹۹۸ میں ایک کمیٹی جو سابقہ ہوم منسٹر کے اندرا جیت گپتا کے زیر نگرانی تھی اس کمیٹی نے اس بات کی سفارش کی کہ الیکشن میں جزوی طور پر فنڈنگ حکومت کے ذریعے ہونی چاہیے جیسا کہ کئی ملکوں میں ہوتا ہےاور اسی طرح کی تجاویز ۱۹۹۹ میںالیکشن کمیشن نے پیش کی اور ۲۰۰۸میں ایڈمنسٹریٹیو ریفارم کمیشن نے بھی تجویز پیش کی ۔گورنمٹ آف انڈیا پہلے سے ہی الیکشن سے جڑے کچھ اخراجات اٹھاتی ہے ،جو فری براڈ کاسٹنگ فیسی لیٹی کے نام پر دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے دی جاتی ہے ۔ لیکن ریاستوں کی الیکشن میں مالی امداد سے الیکشن میں استعمال ہونے والے کالادھن کا استعمال کم نہیں کر سکتا
جب تک سیاسی پارٹیوں کے کاموں اور فنڈنگ کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاتا اور اسی طرح کی تجاویز ۱۹۹۹ میںالیکشن کمیشن نے پیش کی اور ۲۰۰۸میں ایڈمنسٹریٹیو ریفارم کمیشن نے بھی تجویز پیش کی ۔گورنمٹ آف انڈیا پہلے سے ہی الیکشن سے جڑے کچھ اخراجات اٹھاتی ہے جو فری براڈ کاسٹنگ فیسی لیٹی کے نام پر دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے دی جاتی ہے ۔ لیکن اسٹیٹ فنڈنگ کے باوجود الیکشن میں کالے دھن کا استعمال کم نہیں ہو سکتا جب تک ان تدابیر کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے کام اور فنڈنگ کے لئے قانون میں ترمیم نہیں کی جاتی۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com