غیر مسلم لیڈران مسلمانوں کی آنکھ کا سرمہ قوم کا المیہ مسلم قیادت کا فقدان

اکثر ہم یہ رونا روتے ہیں کہ مسلم قیادت کا فقدان ہے ، مگر ایسا نہیں ہے ۔ ہندستان کی جنگ آزادی کی قیادت مسلم رہنماؤں ہی نے سنبھالی تھی ۔ہندستان کی جنگ آزادی کا پہلا شہید نواب سراج الدولہ اور اسو کے بعد شہادت نصیب ہوئی ٹیپو سلطان کو ۔ ملک کی آزادی کے لیے جد و جہد کر نے والی کئی مسلم تنظیمیں قیادت سنبھالے ہوئے تھیں ۔ اسی دوران خلافت کمیٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ علی برادران اور مولانا ابوالکلام آزاد کا نام فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ تقسیم کے بعد کچھ مسلم لیڈران سرحد پار چلے گئے ، مگر جنہیں ہندستان کی مٹی سے محبت تھی وہ یہیں رہ گئے ۔
آزادی کے بعد ملک میں کانگریس نے سیکولر پارٹی کی حیثیت حاصل کر لی اس دوران مسلم لیگ کی بھی اپنی حیثیت تھی ۔ کانگریس کا سیکولر چہرہ اور مرکز میں اقتدار دیکھتے ہوئے بہت سے مسلم لیڈر اس میں شامل ہونے لگےا ور رفتہ رفتہ مسلم لیگ لیڈروں سے خالی ہوگئی ۔
دراصل ہمارے یہاں قیادت کا فقدان نہیں ہے ، فقدان ہے تو سیاسی شعور کا سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا ۔ ہماری قوم سے جب بھی کسی لیڈر نے ابھرنے کی کوشش کی اور اسے عوام کی حمایت بھی حاصل رہی ، تو بد قسمتی سے اسے توڑ لیا گیا یا توڑ دیا گیا ۔ جن لیڈروں کو توڑ دیا گیا ان کا تو نام و نشان مٹ گیا ، مگر جنہیں توڑ ا گیا ، وہ قوم کے رہنما ، ہمنوا اور ہمدرد ہونے کے بجائے اس سیاسی پارٹی کے ہمنوا  ہمدرد بن گئے جس نے انہیں کچھ رتبہ یا حیثیت دے کر توڑ اورلیا ۔
یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر مسلم امید وار کامیابی حاصل کر کے مسلط ہو جاتے ہیں ۔ در اصل انہیں اپنے رائے دہندگان سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں اس علاقے کی ترقی سے کوئی سروکار ہوتا ہے ، وہ محض اس لیے چناؤ میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں کہ مسلم اکثریتی علاقے سے کوئی مسلم لیڈر ابھر کر نہ آئے ۔ ایسے میں وہ لیڈران اکثر مسلمانوں جیسی ٹوپی پہن ’’ رمضان مبارک ، عید مبارک ، کے بینر پوسٹر لگا لیتے ہیں یا پھر جلوس عید میلاد النبی ﷺ کی قیادت کر کے مسلمانوں کو خوش کر دیتے ہیں ۔ کہیں کسی مسلم خاتون کی آبرو ریزی کے معاملے کے خلاف آواز اٹھا کر عدالت کا دروازے تک پہنچ جاتے ہیں اور روزانہ اخبارات میں خبریں شائع کروا کے قوم کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کبھی مسلمانوں کو کمیونٹی ہال ، مسلم کلچرل ہاؤس ، اردو کتاب گھر ، اردو لائبریری ، مولانا آزاد کا مجسمہ لگانے کا وعدہ کر کے، بینک سے قرض دلوانے کا وعدہ کر کے روزگار میلہ لگا کرنوجوانوں کی ملازمت کے وعدے کر کے ان کا جذباتی استحصال کرتے ہیں ۔
ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردانہ حملہ ہو ، تو مسلم اکثریتی علاقوںمیں کامبنگ آپریشن شروع ہو جاتا ہے اور پھر نام نہاد لیڈران ایسے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے آنسو پوچھنے اور بڑی بڑی تقریریں کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ ایسا جھانسا دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان سے بہتر کوئی لیڈر ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ لیڈران مسلمانوں کی آنکھ کا سرمہ بن جاتے ہیں اور انہیں اندھا کر دیتے ہیں ، تاکہ وہ اپنی قیادت کی جانب دیکھ نہ سکیں ۔
آج بھی ہمارے درمیان کئی لیڈران ابھر کر آئے اور انہوں نے اپنی بساط بھر عوامی خدمات بھی انجام دیں ، مگر کہیں نہ کہیں وہ بھی سیاسی سازش کا شکار ہو کر رہ گئے ۔ اگر ملک کے مسلمان متحد ہو کر اپنی قیادت کا انتخاب کر لیں ، تو ایک طاقت کی طرح سامنے آ سکتے ہیں ۔ یہ ووٹ منتشر ہو رہے ہیں ، اس لیے قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہے ۔ بی جے پی کی کامیابی اور اقتدار میں مسلمانوں کی بڑی مدد شامل ہے ۔ مسلمان ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہیں، اگر ایک جانب ہو جائیں ، تو وہی جماعت اقتدار میں آ سکتی ہے ، جسے اکثریت کی حمایت حاصل ہو ۔ مگر چناؤ کے دوران اکثریت چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر منتشر ہو کر اپنی طاقت اور وقار کھو دیتی ہے ۔ زیادہ نہیں ، تو کسی بھی مسلم اکثریتی علاقے میں مسلم نمائندے منتخب ہونے لگ جائیں ،تو رفتہ رفتہ استحکام آ سکتا ہے ۔ اگر یہ کہتے ہیں کہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک جیسی ہیں ، تمام لیڈران ایک جیسے ہیں ، کوئی اچھا نہیں ، قابل اعتبار نہیں ، تو اس صورت میں بروں میں جو کم برا ہو اس کا انتخاب کیا جائے ، مگر اپنی حکمت عملی طے کی جائے۔
آ ج بی جے پی کو زبردست کامیابی ملی ہے ، وہ یوں ہی نہیں ہو سکا ، اس کے لیے گزشتہ ۶۵ ؍ سال سے تیاری کی جا رہی تھی ، حکمت عملی طے کی گئی تھی ۔ جن گاؤں میں بجلی نہیں ، ٹی وی اور اخبار نہیں موبائل نہیں وہاں بھی ایل ای ڈی وین کے ذریعے تشہیر کی گئی ، تمام ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا گیا ، ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا اور یہ کامیابی حاصل کر لی گئی ۔ ہم صرف سیکولر پارٹی اور سیکولر لیڈر کا چہرہ تلاش کرتے رہ گئے ۔ آج سکولر کہلائی جانے والی پارٹیوں کا صرف نام سیکولر ہے ، چہرے سے نقاب ہٹا دیا جائے ، تو وہی فرقہ پرستی نظر آئے گی ۔ فرقہ پرست پارٹیوں کا مقصد کھلا ہے ، وہ کھل کر اپنے عزائم کا اعلان کرتے ہیں ، مگر سیکولر مکھوٹے کے پیچھے فرقہ پرستی کا اصل چہرہ دیکھنے کی کوشش کرنا ضروری ہے ، یا پھر کسی ایسی پارٹی یا قیادت کا استقبال کرنا چاہیے ، جو واقعی سیکولر ہو صرف مسلمانوں ہی کی نہیں عوام کی ہمدرد ہو ، جسے ملک و قوم کی فلاح سے دلچسپی ہو ، جو فرقہ پرستی کو ہوا دے کر یا مذہبی جذبات کا استحصال کر کے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے ۔
سیاسی جماعتوں کے مختلف حربوں نے لیڈروں میں بھی ایسے ایسے گن پیدا کر دیے ہیں کہ تعریف کرنے کا جی چاہتا ہے ۔ ہمارے رائے دہندگان ایسے کسی لیڈر کو ووٹ نہیں دیتے ، جو قوم کا ہمدرد ہو ، ایماندار ہو ، ابن الوقت نہ ہو ، طوطے کی طرح آنکھ نہ پھیرتاہو ، گرگٹ کی طرح رنگ نہ بدلتا ہو ، تو اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے ، یہ کلیہ نہیں ہے ۔جسے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور سبز باغ دکھانا آ گیا ، کامیابی اسی کے ساتھ ہوتی ہے ، اس میں قصور لیڈر کا نہیں ، ان رائے دہندگان کا ہے ، جنہیں سیاسی شعور نہیں ، جن میں سیاسی بصیرت نہیں اور نہ ہی وہ اپنے ووٹ کی قدر و قیمت سے واقف ہیں ۔
سب نعرہ لگاتے ہیں ،اتحاد کا مگر متحد کوئی نہیں ہوتا ۔ جہاں کسی معاملے میں مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو ، کہ انہیں منتشر کرنے کے لیے ان ہی میں سے باغی پیدا کر لیے جاتے ہیں ۔ بغاوت کے بعد انتشار شروع۔ایسا کئی بار ہو چکا ہے ، مگر اس سے بھی سبق حاصل نہیں ہو سکا ۔ اب بھی غور کیا جائے اور اپنی طاقت کو مجتمع کیا جائے ، تو بات بن سکتی ہے ، مگر قدم اٹھانے کی بات ہے ۔

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com