قومی سطح پر ایک متحدہ پلیٹ فارم کی ضرورت : شمشیثر خان پٹھان

یو پی الیکشن کے نتیجے ای وی ایم مشین گھوٹالے کی ایک مثال اور مسلمانوں کے خطرے کی گھنٹی
ممبئی: ۲۰۱۴؍سے مرکز میں حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے ان ڈھائی برسوں میں ملک اور عوام کی ترقی کے لیےکوئی بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا بلکہ مہنگائی آسمان پر پہنچ گئی اور ایک عام آدمی کا جینا دشوار ہو گیا ۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں بی جے پی نے اپنے لوگوں کے ذریعے نفرتوں کے بازار کو گرم رکھا او نوٹ بندی کا اعلان کر کے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ فیصلہ ایک دن میں لیا گیا جس کی وجہ سے آج تک عوام پریشان ہیں اور اپنے خود کے پیسے نکالنے کے لیے ۲۰۰؍سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان دی لیکن ملک کے وزیر اعظم نے کسی ایک موت پر آنسو نہیں بہایا اور آج تک یہ نہیں کہا کہ کتنا بلیک منی کو ردی بنا دیا گیا جبکہ یہ دیکھا گیا کہ جتنا نقد لوگوں کے پاس تھا اتنا نقد دوبارہ بینکوں میں آگیا اور کوئی بھی بلیک منی کسی کے گھر میں خراب نہیں ہوئی ۔ نوٹ بندی کے بعد ۵۰؍دن میں حالات بحال کرنے کی بات کرنے والے وزیر اعظم اپنی اسکیم میں فلاپ ہو گئے اور ملک کی معاشی حالت خراب ہو گئی اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے ۔ ان تمام وجوہات کی بنا ٔ پر یہ بات طئے تھی کہ یو پی کے الیکشن میں بی جے پی کا صفایا ہو جائے گا لیکن بی جے پی کو دو تہائی اکثریت سے یو پی اسمبلی میں کامیابی ملی۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا اتحاد جس طرح سے ہارا اور مایاوتی جس طرح سے حاثیہ پر چلی گئیں ۔ حالانکہ نتیجہ کے بعد مایاوتی نے خود کہا کہ بی جے پی کی جیت کی وجہ مشینوں کا گھوٹالا ہے اور عوامی وکاس پارٹی کا بھی یہی کہنا ہے کہ بی جے پی کی یو پی کی جیت ای وی ایم کے بدولت ہی ہوئی ہے ۔ بی جے پی کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں نے ای وی ایم مشینوں پر شک ظاہر کیا ہے اس لیے عوامی وکاس پارٹی بھی اس بات کو الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ کر آنے والے چناؤ میں الیکشن ای وی ایم مشین سے نہ کرتے ہوئے بیلیٹ پیپر سے کرائے جانے کے لیے مطالبہ کرے گی ۔ عوامی وکاس پارٹی کے علاوہ سبھی جماعتیں اس بات پر اتفاق رائے رکھتی ہیں تو بی جے پی نے قانون میں ترمیم کر کے آنے والے الیکشن بیلیٹ پیپر سے کرانے کی بات کریں ۔
عوامی وکاس پارٹی کے قومی صدر شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ یو پی کے انتخاب صحیح طریقہ سے ہوئے ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس ریاست میں مسلمانوں کی آبادی ۲۴؍فیصد ہوتے ہوئے بھی مسلمان امیدوار کی ہار کا ذمہ دار کون ہے ۔ یو پی کے مسلمان چاہتے تھے کہ ایک مضبوط متحد نعم البدل مسلم قیادت کی شکل میں ان کے سامنے پیش ہو تا کہ وہ یک طرفہ ووٹ کریں لیکن یو پی کے مسلمانوں کی بدقسمتی ایسی رہی کہ مسلم قیادت والی سیاسی جماعتوں کی کوششوں کے باوجود ایک پلیٹ فارم پر نہیں آ سکے اور مسلمانوں کے سامنے نمبر ایک پیس پارٹی ، نمبر ۲؍ایم آئی ایم ، نمبر ۳؍یو پی اتحاد فرنٹ ، نمبر ۴؍راشٹریہ علما ٔ کونسل اور دیگر متبادل کھڑے ہو گئے ۔ حالانکہ مسلمانوں نے ان تمام متبادل کو ٹھکرا دیا اور ساتھ ہی ان کے ووٹ کسی ایک مضبوط سیکولر پارٹی کی طرف نہ جاتے ہوئے بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی اور کانگریس اتحاد میں تقسیم ہو گئے جس کی وجہ سے بی جے پی ان پر مسلط ہو گئی ۔ بہر حال یو پی کے یہ نتائج مسلمانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اس لیے ۲۰۱۹؍کے لوک سبھا چناو ٔ میں مسلم قیادتیں قومی سطح پر اگر ایک پلیٹ فارم پر نہیں آتی ہیں تو مسلمانوں کا اس سے برا حال ہو گا اور اس تعلق سے تمام علمائے دین اور مختلف تنظیموں کے سربراہان کا ایک سیاسی متحد پلیٹ فارم بنانا ضروری ہو گیا ہے اور عوامی وکاس پارٹی ایسی کوششوں میں قومی سطح پر کام کرنے کو تیار ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com