مسلمان ووٹ تقسیم ہونے نہ دیں: مایا وتی

مسلمان ووٹ تقسیم ہونے نہ دیں: مایا وتی

نئی دہلی: ایک دن قبل ہی سپریم کورٹ نے اپنے احکامات میں مذہب‘ ذات پات کے نام پر ووٹ مانگنے کو غیر قانونی قراردیاہے ،اس کے باوجود بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے گزشتہ روز مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ووٹوں کی تقسیم نہ ہونے دیں‘‘۔
سماج وادی پارٹی کے آپسی انتشار سے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی ایس پی سربراہ نے ۹۷؍مسلم امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ،جس سے سال ۲۰۱۲؍کی فہرست کے مقابلے اقلتی فرقے یعنی مسلمان امید واروں کا دودرجن سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اوردلچسپ بات یہ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی جس دلت سماج کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے ،ان سے بھی دس نام زیادہ ہیں جو انتخابی میدان میں اترے ہیں۔مایاوتی نے وضاحت کر دی کہ یہ پارٹی کا قطعی فیصلہ اورفہرست ہے ، لہٰذا اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ہم مقابلے کے لیےپوری طرح تیار ہیں‘‘ مسلمانوںسے زیادہ چوکنا رہنے کو بھی کہا۔مایاوتی نے لکھنو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ’’ اترپردیش کے مسلمانوں کو زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ‘ سماج وادی پارٹی دوٹکڑوںمیں تقسیم ہو گئی ہے ‘ مسلمان زیادہ چوکنا رہیں ‘ وہ کسی بھی صورت میں اپنے ووٹ تقسیم ہونے نہ دیں۔
ذات پات کی سیاست پر بھروسہ نہ کریں‘‘۔ مایاوتی نے ذات پات کی سیاست پر بھروسہ کرنے کے الزامات کومستردکرتے ہوئے کہاکہ’’ہم تمام کی ترقی کے نظریہ پر گامزن ہیں اور اس لئے تمام طبقات کو نمائندگی کا موقع دیا ہے‘‘۔انہوں نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہاکہ پچھلے انتخابات میں کتنی ذاتوں او رمذاہب کے لوگوں کے ٹکٹس ملے تھے۔
کل ۴۰۳سیٹوں پر مقابلے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مایاوتی ۶۳؍سیٹ برہمن۳۶؍شتریہ اور گیارہ سیٹو ں پر اعلا ذات والوں کوٹکٹ دیے ہیں۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com