ملک میں جب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عوام کشمکش کا شکار ہے، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم ہے

[vc_row][vc_column][vc_column_text]

اچانک ہی  ہندستانی کرنسی کے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰؍ کے نوٹ مسترد کر دیے گئے ، جس سےبہت سے لوگوں کے پاس موجود رقم بے حیثیت ہو گئی۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن ان کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے کی سی ہے ۔
 ہندستانی کرنسی پر پابندی کے بعد بینکوں میں افراتفریکا ماحول ، بازار میں ہڑکم اور عوام بے چینی کا شکار ،کرنسی نوٹوں کے منسوخ کرنے سے بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔
نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطار میں نظر آ رہی ہے۔ جبکہ کئی جگہ ہجوم پر قابو کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔
 سنیچر کو صبح سے ہی لوگوں کی قطاریں تمام چھوٹے بڑے بینکوں کے سامنے لگی ہیں ، بینک کھلنے کے مقررہ وقت سے چار گھنٹہ قبل ہی لوگ قطاروں میں نظر آرہے ہیں۔ کئی لوگ تو منھ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسے نہ ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے جس میں ایک ٹرینڈ مستقل نظر آ رہا ہے ’بینکوں میں قطار، مودی جی فرار۔‘
خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں کالے دھن پر اچانک حملے کی زد میں سب سے پہلے ملک کے غریب عوام ہیں، جبکہ نریندر مودی اپنے اعلان کے بعد جاپان کے دورے پر ہیں۔
 وزیر اعظم نریندر مودی جاپان کے دورے پر ہیں
سوشل میڈیا پر اس صورت حال کو وزیراعظم کے جاپان دورے کے تعلق سے پیش کیا جا رہا ہے۔
وکاس یوگی نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’صبح نہ دودھ، نہ شام کو کھانا آسان! صاحب کو کیا! وہ تو نکل لیے جاپان!‘
سمر نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’خط نہ کوئی پیغام، فون نہ کوئی تار، بینکوں میں لگی قطار، کہاں تم ہوئے ہو فرار۔
خیال رہے کہ وزیراعظم کے بہت قریبی اور بی جے پی کہ بہت سے لوگ انھیں صاحب کہتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم بغیر کیش کے بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com