ملک میں قومی سطح پر متبادل پارٹی کی تلاش؟؟

ہندستان کی آزادی کے بعد سب سے زیادہ بر سر اقتدار رہنے کا موقع سکیولر چہرے والی پارٹی کانگریس کو  ملا ، اس کے بعد بی جے پی ، جنتا دل وغیرہ وغیرہ ۔ اگر گزشتہ ۶۷؍ برسوں کا جائزہ لیا جائے ، تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ملک کی اقلیتوں کا حال بد سے بد تر ہوتا گیا ۔ خاص طور سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی ملک کی دوسری بڑی اکثریت مسلمان تو حاشیے پر آ گئے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کی ذمہ داری صرف سیاسی پارٹی پر نہیں جاتی ، اس کے لیے عوام بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں ۔ کہتے ہیں ’’ مومن کو ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا ــ‘‘ مگر اس ملک کے عوام بار بار آزمائے ہوئے کو آزماتے رہے ، اس کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ملک میں قوقومی سطح پر کوئی سیاسی پارٹی نہیں تھی اور ایک سوال منہ پھاڑے سامنے رہتا ’’ کانگریس نہیں تو پھر کون ؟‘‘ اس دوران کئی سیاسی پارٹیوں نے سر ابھارنے کی کوشش کی ، مگر کہیں نہ کہیں وہ دباؤ میں آ کر کسی نہ کسی پارٹی میں ضم ہو کر اپنی شناخت ختم کر چکی ۔ عآپ پارٹی بھی جس قدر شان و شوکت سے ابھری تھی اب اتنی ہی پیچھے جا رہی ہے ۔ آج سے چار سال قبل ممبئی سے ’’ عوامی وکاس پارٹی‘‘ نے اپنے نام اور مقاصد کا اعلان کر دیا ، جس کے قومی صدر شمشیر خان پٹھان ہیں ۔ ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والے وہ لوگ ، جن کا کہیں مفاد وابستہ تھا ، دھیرے دھیرے انہیں چھوڑ کر چلے گئے ، مگر شمشیر خان پٹھان اپنی پارٹی کا بینر اور مقصد سنبھالے وہیں ڈٹ کے کھڑے ہیں اور اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ لوگوں نے ان کے نظریات کو سمجھنا شروع کر دیا ہے اور بہت جلد لوگ اس سے وابستہ ہو کر پارٹی کے ذریعے اپنا ہاتھ مضبوط کریں گے ۔ جمہوریت میں سر گنے جاتے ہیں ، تولے نہیں جاتے ۔ اگر پارٹی کا مقصد اقلیتوں کے سمجھ میں آ گیا ، تو رفتہ رفتہ کامیابی یقینی ہو جائے گی اور اپنی بات رکھنے یا منوانے کے لیے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے ۔ یہ بات اس لیے بھی کہنی پڑی کہ گزشتہ دنوں بالاپور نگر پالیکا اکولہ کے ۷؍میونسپل کارپوریٹر عوامی وکاس پارٹی میں شامل ہو گئے ۔ ایسے ہی اگر ہر ضلع سے لوگ شامل ہونے لگے تو وہ دن دور نہیں کہ ملک کی اقلیت کے سامنے ایک مضبوط متبادل    ہوگا اور یہ سوچنا نہیں پڑے گا کہ  ہمارا خیر خواہ کون ہےاور متبادل پارٹی کون ہے ؟

IMG-20170407-WA0025

خبر ملاحظہ فرمائیں 

بالاپور نگر پالیکا اکولہ کے ۷؍میونسپل کارپوریٹر عوامی وکاس پارٹی میں شامل
ودربھ کی مجلس اتحادالمسلمین کی پوری ٹیم بھی عوام وکاس پارٹی میں شامل ہو گئی
ممبئی: حال ہی میں ہوئے بالا پور ضلع اکولہ کے میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں کونسلر غلام عقیل مصطفی پنجابی جنہوں نے پریورتن منچ بنا کر الیکشن لڑا اور ان کے منچ سے ۷؍کارپوریٹر کامیاب ہو کر اا گئے اور پریسیڈنٹ کی سیٹ بھی وہ محض ۵۰۰؍ووٹوں سے ہار گئے ۔ جناب غلام عقیل مصطفی پنجابی صاحب نے بلڈھانہ کے ڈاکٹر نوید دیشمکھ اور ان کی ٹیم کے ساتھ عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان سے ملاقات کی اور عوامی وکاس پارٹی میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ۔ ڈاکٹر نوید دیشمکھ جنہوں نے بلڈھانہ اور ودربھ میں بڑے پیمانے پر ایم آئی ایم کو آگے بڑھایا لیکن ایم آئی ایم کی فرقہ وارانہ سیاست سے تنگ آ کر انہوں نے تمام عہدیداروں کے ساتھ استعفی دے دیا اور کئی دنوں سے وہ ایک مضبوط قیادت والی سیکولر پارٹی کی تلاش میں تھے ۔ عوامی وکاس پارٹی کے ایجنڈے کو انہوں نے پسند کیا اور عوامی وکاس پارٹی کے سیکولر ڈھانچہ کو انہوں نے اپنایا اور اپنے ہزاروں حمایتیوں کے ساتھ عوامی وکاس پارٹی میں شمولیت اختیار کیا۔ ڈاکٹر نوید دیشمکھ کو ودربھ حلقہ کا صدر منتخب کیا گیا اور نگر سیوک غلام احمد مصطفی پنجابی کو بلڈھانہ صدر بنایا گیا ہے جو ان کے اور ۶؍نگر سیکوک کے ساتھ عوامی وکاس پارٹی میں شامل ہوئے ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ مسلسل عوامی وکاس پارٹی کی کارکردگی دیکھ رہے ہیں اور جس طرح سے عوامی وکاس پارٹی سیکولر طریقے سے مسلمانوں کے حق اور ان کے اوپر ہونے والی ناانصافی کے خلاف لڑر ہی ہے اسے انہوں نے پسند کیا اور سب سے اچھی بات انہیں یہ لگی ہے کہ عوامی وکاس پارٹی کسی بھی مذہب کے مخالف بات نہیں کرتی ہے بلکہ جو بھی بات کرتی ہے وہ مدعوں اور پالیسی پر ہی کرتی ہے اور اسی سیکولرزم ایجنڈے کی وجہ سے انہوں نے عوامی وکاس پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان سے کہا ہے کہ ۲۰۱۹؍کے اسمبلی انتخاب میں وہ بالاپور یا پھر آکوٹ اسمبلی حلقہ سے انتخاب لڑیں انشا اللہ وہ اور ان کی پوری ٹیم شمشیر خان پٹھان کو رکن اسمبلی میں کامیابی کیلئے پوری طاقت لگا دیں گے اور انشا اللہ شمشیر خان پٹھان کو کامیابی ملے گی تا کہ شمشیر خان پٹھان کے ذریعے مسلمانوں کی آواز مہاراشٹر کے ایوان اسمبلی میں گونجے ۔ شمشیر خان پٹھان نے اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ وہ بہت جلد ودربھ کا دورہ کریں گے اور آکوٹ اور بالاپور و اطراف کے لوگوں سے ملاقات کریں گے اور حالات سازگار دکھائی دیئے تو انشا اللہ ان کے اسرار پر بالاپور یا آکوٹ سے الیکشن لڑنے کے تعلق سے ضرور غور کریں گے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com