مہاراشٹر میں کسانوں کا احتجاج

مہاراشٹر میں کسانوں کا احتجاج

ابھی ریاستی اسمبلی کا بجٹ اجلاس چل رہا ہے اور ناسک سے کسان سبھا تقریباً ۲۵؍ ہزار کسانوں کا مورچہ لے کر چل پڑی ، سنیچر کے روز یہ کسان بھیونڈی پہنچ چکے تھے ، یہاں آنے تک مزید کسان اس مورچے میں شامل ہوتے گئے اور یہ تعداد بڑھ کر قریب ۳۰؍ ہزار ہو گئی تھی ۔کسانوں نے تقریباً ۱۸۰؍ کلو میٹر کا سفر طے کیا ۔ناسک ، تھانے اور پال گھر سے نکلے یہ کسان اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔
بی جے پی سرکار کے قرض معافی وعدے کے خلاف آل انڈیا کسان سبھا سمیت کسانوں کی دیگر کئی تنظیموں نے مل کر ناسک سے ممبئی تک یہ مورچہ نکالا ، کسانوں  کامطالبہ ہےکہ مکمل قرض معاف کیا جائے اور کسانوں کے مطالبات ہیں کہ زرعی پیداوار کی انہیں مناسب قیمت ملے ، سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات اور جنگلات کے قانون پر عمل درآمد ہو ۔
ہو سکتا ہے کسانوں کا یہ اتحاد رنگ لائے اور ان کے مطالبات پورے کیے جائیں ، ہاں مگر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مطالبات کن شرائط پر پورے کیے جائیںگے ؟کیونکہ جب قرض معافی کا اعلان کیا گیا تھا ، تو ایسی شرائط نافذ کی گئی تھیں کہ کسان مزید پریشان ہو گئے تھے ۔
ہندستان میں چناؤ ہوتے رہتے ہیں ، مرکزی اور ریاستی سرکاریں بدلتی رہتی ہیں ، مگر کسانوں کی حالت کبھی نہیں بدل سکی ۔ ہرپارٹی کے دور میں کسانوں کی خود کشی کی خبریں آتی رہیں ۔ اس ملک کا کسان اس قدر بد حال کیوں ہو گیا ہے ؟ ہر حکومت نے کسانوں کو خوش کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی وعدے کیے ، مگر یہ وعدے کبھی پورے ہوتے دکھائی نہیں دیے ۔ مہاراشٹر میں قدرتی طور پر جن راستوںسے کسانوں کو پانی ملتا تھا ، ان راستوں سے گزرنے والے پانی کو ڈیم کی شکل دے دی گئی ، اس کے بعد کسانوں کو کاشت کاری کے لیے پانی کے ٹینکروں پر انحصار کرنا پڑا، خریدے ہوئے پانی سے کھیتی کرنا مہنگا پڑنے لگا ، بجلی کے بلوں کی ادائیگی کسانوں کے بس میں نہیں تھی ، بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا سود یا اصل ادا کرنے کی ان کی حیثیت نہیں رہی ، جب بھی کوئی کسان حالات سے لڑتے لڑتے تھک گیا ، تو اس نے خود کشی جیسا بھیانک قدم اٹھایا اور اس کے پسماندگان بے یار و مددگار رہ گئے ۔اب دیکھنا ہے ، کسانوں کے اس احتجاج سے ان کے مسائل حل ہوتے ہیں یا نہیں ؟

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com