میانمار پناہ گزین، کہاں جائیں ؟

ان دنوں رہنیا ، میانمار میں ہو رہے مظالم کی خبریں پوری دنیا میں پھیل رہی ہیں ، یہ سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے ۔ وہاں ہونے والی زیادتیوں اور مظالم کے پیش نظر عوام سرحد سے قریب دیگر ممالک میں پناہ لینا چاہتے ہیں ، اسی کے تحت اب تک تقریباً ۶۰؍ہزار مسلمان ملک چھوڑ کر فرارہو گئے ہیں اور جو وہاں رہ گئے ہیں وہ ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ۔ اب تک کئی لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔ خبروں کے مطابق دریائے ناف سے۱۲؍ ابچوں سمیت ۲۶؍پناہ گزینوں کی نعشیں برآمدہوئی ہیں ۔
ظلم آخر ظلم ہے ، خواہ وہ کسی کے ساتھ ہو۔ انسانوں پر ظلم ڈھانے والے وہی وہ سکتے ہیں ، جن میں انسانیت نہ ہو ۔ اگر اس دنیا میں انسان ہیں انسان پر ظلم ڈھانے لگ جائیں ، تو کل ظلم سہنے کی ہماری بھی باری آ سکتی ہے ۔ اس لیے بہتر ہے کہ انسانوں کے ہونے والے اس ظلم کو روکنے کی کوشش کی جائے ۔ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا بھی ظلم سے مقابلے کے ذیل میں آتا ہے ۔ اسے طاقت سے روکنے کی کوشش کی جائے ، اپنی آواز سے اور اتحاد سے روکنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی طاقت انسانوں پر ظلم ڈھارہی ہو یا انسانی بستیوں کو نیست و نابود کر رہی ہو ، تواس کے خلاف ضرور آواز اٹھنا چاہیے ۔ مائنمار میں انسانی حقوق کی ہونے والی سنگین پامالی کے خلاف اب چاروں طرف سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں ، مگر دیر ہو گئی ہے ۔ اگر کچھ پہلے توجہ دی گئی ہوتی ، تو بہت سے لوگوں کی جان بچ سکتی تھی ۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مائنمار کی ریاست رہینا سے اب تک ۶۰؍ہزار مسلمان جان بچاکر فرار ہوئے ہیں۔ ان کے علاقوں کو آگ لگادی گئی ہے اور تشدد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق سٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ مائنمار کی فوج اور انتہاپسندوں کے مظالم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ مائنمار سے جان بچاکر نکلنے والے ہزاروں مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی مسلمانوں کو پناہ گزین کیمپ میں رکھا گیا ہے۔
نومبر ۲۰۱۵؍ میں جمہوری انتخابات ہوئے اور نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن آنگ سانگ سوچی منتخب بھی ہوئیں ، وہ اس وقت کہاں مصروف ہیں ؟
اس تعلق سے سوشل میڈیا پر ظلم و تشدد کے ویڈیو پھیلانے سے بہتر ہے ، ہر فرد مظلوموں کی مدد کے لیے اپنا ذاتی تعاون پیش کرے ، ایسی تنظیموںسے رابطہ کیا جائے ، جو مظلوموں کے تحفظ اور بازآبادکاری کا کام کر رہی ہیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com