چناؤ میں کامیابی اور ناکامی، بی جے پی لہر

اترپردیش اور اتراکھنڈ میںبی جے پی نے حیرت انگیز فتح حاصل کر لی اور اپوزیشن کا شیرازہ منتشر کر دیا۔ حزب مخالف کو یہ خوش فہمی تھی کہ نوٹ بندی کا عمل وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو کم کردے گا، بڑھتی ہوئی مہنگائی بی جے پی کے لیے داغ بن جائے گی ، مگر اس کے باوجود بی جے پی نے گوا اور منی پور میں کانگریس کے ساتھ سخت مقابلہ کیا ۔
بی جے پی اترپردیش میں 14 سال کے بعد زبر دست کامیابی کے ساتھ اقتدار حاصل کر لیا۔ گزشتہ ۱۴؍ سال علاقائی جماعتوں جیسے ایس پی اور بی ایس پی کی حکمرانی رہی۔
بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے مودی اور اُن کی پالیسیوں کو اِس فتح کا سبب قرار دیا۔ امیت شاہ نے ٹوئٹ کیاکہ یہ کرپشن سے پاک حکمرانی اور مودی کی قیادت میں موافق غریب پالیسیوں کی فتح ہے۔ پارٹی صدر امیت شاہ کے قول میں کس حد تک صداقت ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے ۔اس فتح و کامیابی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟
اس کے بر عکس منی پور میں سولہ سال تک مزاحمت کرنے والی بھوک ہڑتال کرنے والی اروم شرمیلا نےاپنی بھوک ہڑتال توڑی اور پھر انتخابات میں شامل ہوئيں، تو انہیں صرف ۹۰؍ ووٹ حاصل ہوتے ہیں ۔
ارون شرمیلا شاید نہیں جانتی تھیں کہ صرف لڑنے سے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی، فتح یاب ہونے کے لیے حکمت عملی بھی چاہیے،جو ان کے پاس نہیں تھی۔ خبروں کے مطابق ان کی انتخابی مہم میں حامیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی، تقریر سننے یا ملنے والوں کی بھیڑ کا دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا اور جو نظر بھی آتے ان میں سے زیادہ صرف وہ لوگ ہوتے ، جو۱۶؍سالوں تک بھوک ہڑتال کرنے والی ’دیوی‘ شرمیلا کو دیکھنے کے لیے آتے۔۴۴ ؍ سالہ خاتون جو گزشتہ سولہ برس سے انسانی حقوق کی خاطر لڑ رہی تھی اور بھوک ہڑتال پر تھی ، اس کے اس جذبے اور قربانی کی کسی کے دل میں کوئی قدر نہیں ، اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کسی لیڈر میں کیا خوبیاں ہونا چاہیے ۔رائے دہندگان میں ابھی تک سیاسی شعور بیدار نہیں ہو سکا ۔ یا پھر سیاسی پارٹیوں نے عوام کو اچھی طرح بے وقوف بنانے کے حربے استعمال کر لیے ۔یو پی چناؤ میں کامیابی کے تعلق سے بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے شک ظاہر کیا ہے کہ اے وی ایم مشینوں کےساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور ایسے ہی خیال کا اظہار عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے بھی کیا ہے ۔ ہمارے ملک میں سیاسی لیڈروں کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑتا ہے ، کوئی سماجی خدمت گار یا انسانی حقوق کا علم بردار عوام کا دل نہیں جیت سکتا اور نہ ہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔ ارون شرمیلا نے جو کچھ کیا ہے ، اس کے بعد اگر اسے صرف ۹۰؍ ووٹ ملتے ہیں ، تو یہ اس کی کمزوری نہیں رائے دہندگان کا سیاسی شعور کمزور ہے ۔ اسی طرح پانچ ریاستوں میں دیگر سیاسی پارٹیوں کو جس طرح سے شکست ہوئی ہے ، اس سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں بی جے پی لہر چل رہی ہے ، عوام اس لہر کی زدمیں ہیں یا پھر بی جے پی کی ٹھوس حکمت عملی ہے ، جہاں کسی کی خدمت ، احتجاج ، گزشتہ کئی برسوں کی حکومت کچھ بھی نظر نہیں آیا ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com