ڈیجٹل کارڈ اور پے ٹی ایم جیب میں ۔۔۔۔۔؟

ملک میں اچانک  بڑے نوٹوں کے بند کیے جانے کے اعلان سے گزشتہ دو ماہ سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ، اسی کے ساتھ  کالے دھن کو باہر لانے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ، جہاں سے کروڑوں روپے براآمد کیے جانے کی خبریں روز ہی آ رہی ہیں ۔ اس اعلان کے بعد ایک طرف غریبوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ، جس کے ضائع ہونے کا افسوس ہو ، تو دوسری جانب روزمرہ کی خریدار ی کے لیے کافی پریشانی کا سامنا رہا ۔ بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر لمبی قطار اور پھر کرنسی کے نہ ہونے کے اعلان سے لوگوں کو پریشان ہونا لازم بات ہے ۔
ہندستان میں بڑے کرنسی نوٹوں پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی پر احتجاج مستقل جاری ہے
نئے نوٹ دھیرے دھیرے لوگوں کی زندگی میں آرہے ہیں ، اس دوران ملک پوری طرح کیش لیس ہو چکا ہو۔ فی الحال صورت حال یہ ہے کہ ، اے ٹی ایم مشینوں کے باہر قطار یںلگی ہوئی ہیں لیکن پیسے نہیں ہیں۔
 ڈیبیٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور ڈیجیٹل والیٹ کا زمانہ ہے، لوگ اس کے استعمال کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں ۔
بہت سے پھل اور سبزی فروش اور پھیری والے بھی اب ‘ڈیجیٹل والیٹ سے پیسے لے رہے ہیں
بہرحال، حکومت اس وقت لوگوں کو کیش لیس کی طرف مائل کرنے کے لیے آمادہ کر رہی ہے، حکومت کی جانب سےجاری کیے جانے والے اشتہارات بھی ایسے ہی سنائی دیتے ہیں کہ آپکا فون ہی آپکا بینک بھی ہے اور بٹوا بھی۔
مختلف بینکوں نے بھی اب ڈیبیٹ کا رڈ جاری کر دیے ہیں ۔ اب اسمارٹ فون میں Paytmڈاؤن لوڈ کروا لیں یا ڈیبٹ کارڈ ساتھ رکھ لیں ، پھر بغیر رقم ساتھ رکھے رکشہ کا کرایہ دیں ، سبزی ترکاری ، پھل ، بریڈ بسکٹ خریدیں یا کپڑے ، زیور یا الیکٹرانک سامان خریدیں ۔
کچھ دنوں بعد لوگ یہ کہتے نظر آئیں گے :
ڈیجٹل کارڈ اور پے ٹی ایم جیب میں بھر
’’ نہ چوروں کا خطرہ نہ ڈاکو کا ڈر ‘‘
بڑے شہروں میں لوگ تیزی سے ڈیجیٹل ادائیگی کی جانب مائل ہو رہے ہیں، بہت سے پھل اور سبزی فروش بھی ‘ڈیجیٹل والیٹ سے پیسے لے رہے ہیں ۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com