کرنسی کا بحران اور غصے میں ابال

گزشتہ ایک ماہ سے   ملک کے عوام ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں، کیونکہ ملک کے وزیر اعظم نے ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کے بند کروانے کا اعلان اچانک ہی گزشتہ ماہ کر دیا۔ ملک میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ہی کرنسی کو منسوخ کرنے کافیصلہ کیا گیا ہو یا اعلان کیا گیا۔ جس وقت وزیر اعظم کی جانب سے ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کے منسوخ کر دیے جانے کا اعلان کیا گیا اس وقت دولت مندوں کی نیند حرام ہو گئی ، تو دوسری جانب پہلی بار غریبوں کو اس بات کی خوشی ہوئی کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں ۔ اوسط طبقے کے لوگ یوں بھی سیاست یا حالات کی مار زیادہ محسوس نہیں کرتے ۔ نوٹوں کے منسوخ کیےجانے کےاعلان کے بعد کئی افراد دل کے دورے کا شکار ہو گئے ۔
 کالے دھن کوباہر نکالنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ،لیکن کالے دھن والوں نے پچھلے دروازوں سے راہ فرار اختیار کر لی اور ہر ممکن اپنے بچاؤ کی کوشش کی، جبکہ متوسط طبقے کے سفید پوش افراد خون پسینہ کی کمائی والے افراد مصیبت میں پھنس گئے۔
بینک میں اپنی محنت کی رقم جمع کرنے والے آج اپنا ہی روپیہ حاصل کرنے کے لیے گدا گروں کی طرح قطار لگائے کھڑے ہیں ۔ یہ کون سا قانون  ہے کہ لوگ بینک کھاتے میں رقم جمع تو کرسکتے ہیں لیکن نکالنے کا اختیار نہیں۔کبھی یہ اعلان کیا جاتا ہےکہ ایک شخص کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ رقم نہیں ہونا چاہیے ، ورنہ اسے حساب دینا ہوگا ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ایک وقت میں دو ہزار روپے سے زیادہ رقم نہیں نکالی جائے ، کبھی یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ایک وقت میں پانچ ہزار سے زیادہ رقم جمع نہیں کی جاسکتی اور پھر یہ چھوٹ بھی دی جاتی ہے کہ جتنی چاہو رقم جمع کر سکتے ہو ۔ روز  روز کے بدلتے فیصلوں سے عوام تنگ آ گئے ہیں ۔ دو ہزار کے نئے نوٹ آ گئے ہیں ، مگر اسے کھلا کرنے کے لیے پانچ سو اور سو سو کے نوٹوں کی قلت ہے ۔اے ٹی ایم سے بھی دو ہزار سے زیادہ رقم نہیں نکالی جا سکتی اور پھر اے ٹی ایم مشینیں بھی اکثر خالی  رہتی ہیں ۔
بر سر اقتدار آنے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ملک کا ہر فرد  زیرو بیلنس پر اپنا اکاؤنٹ کھولے ، تاکہ اس کے اکاؤنٹ میں دو سے ڈھائی لاکھ روپے جمع کیے جائیں ۔ اس وقت یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ معاملہ کیا ہوگا ، ہاں مگر آج کتنے لوگوں کے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم جمع ہو گئی ۔
نقد کی قلت کی وجہ سے مزدور پیشہ افراد اور روزگار ریزگاری والے کس قدر پریشان ہیں ، اس کا اندازہ شاید ہی بر سر اقتدار لوگوں کو ہو ۔ بینک کے باہر قطار میں کھڑے رہنے والوں میں اکثر کی طبیعت خراب ہو رہی ہے ۔ ملک میں افرا تفری کا ایسا ماحول پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ بغیر نقد کے لین دین کا ماحول بنانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے ، اس میں کس حد تک کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ، یہ نہیں کہا جا سکتا ، ہاں مگر اس  وقت ملک کے عوام کے غصے میں ایسا ہی ابال آ رہا ہے، جیسے چائے میں ابال آتا ہے ۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com