کسانوں کے مطالبات اور سخت احتجاج

کسانوں کے مطالبات اور سخت احتجاج

گزشتہ کئی برسوں سے کسانوں کی خود کشی کی خبریں منظر پر آتی رہیں اور اس پر کبھی کسی سرکار نے نہ دکھ کا اظہار کیا اور نہ ہی کسی کسان کے پسماندگان کو کسی قسم کا معاوضہ دینے کی خبر آئی ۔ حالات سے مجبور ہو کر محنت کش کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے گزشتہ دنوں کسانوں نے ناسک سے ممبئی پیدل مورچے کا اعلان کر دیا ۔ان کا یہ مورچہ پیدل چ سفر کرتے ہوئے ممبئی پہنچ گیا ۔
مکمل قرض معافی کے مطالبے کو پورا کرنے کے علاوہ دیگر کئی مطالبات سمیت مہاراشٹر کے ناسک سے کسانوں نےممبئی تک کے اپنے طویل سفر کو جاری رکھا ، اس پیدل مورچے کے بھیونڈی پہنچنے تک تعداد بڑھ کر ۳۰۰۰۰؍ہو چکی تھی ۔ تیز دھوپ اور گرمی سے جوجھتے بدحال ہوتے کسانوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا سفر جاری رکھا ، اس دوران کتنے ہی کسان کمزوری اور دھوپ کی تمازت سے غش کھا رہے تھے ، راستے میں گر رہے تھے ، زخمی ہو رہے تھے ، مگر قدم سے قدم ملائے اپنا مورچہ آگے بڑھا رہے تھے ۔ جس تکلیف کو جھیل کر وہ اپنے مطالبات منوانے مہاراشٹر اسمبلی کا گھیراؤ کرنے جا رہے تھے ، اس سے ان کی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے ۔ آل انڈیا کسان سبھا کے اعلان پر یہ مورچہ نکالا گیا تھا ۔ تیز دھوپ اور گرمی کا مقابلہ کرتے ہوئے ۱۸۰؍ کلو میٹر کا سفر طے کرنا معمولی بات نہیں تھی ۔
۱۸۰؍کلومیٹر طویل سفر کا آغاز منگل کے روزناسک کے سی بی ایس چوک سے کیا گیا تھا ۔رات میں انہوں نے آرام کیا اور بدھ کو ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے پر اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اوار بالآخر ۱۲؍ مارچ کو ممبئی پہنچ گئے ۔ اس سے کسانوں کے عزم و حوصلے اور مطالبے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے یاد رہے کہ کسان قرض معافی کے ساتھ ہی بجلی کے بل معاف کروانے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں نافذ کروانے کا بھی ان کا مطالبہ ہے ۔کسانوں کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے رعایت دی جائے ۔
بات دراصل یہ ہے کہ کسان کو اپنی مٹی سے بے پناہ محبت ہوتی ہے ، وہ اسے ماں کا درجہ دیتے ہیں ۔ بہت ہی محنت کش اور محبت کرنے والا طبقہ کسانوں کا ہوتا ہے ، مگر آج ملک کا کسان مصیبت زدہ ہے ،وہ اپنی آواز سرکار تک پہنچانے کے لیے پیدل مارچ کا اعلان کرتا ہے ، اگر ہمارے لیڈروں کو ان سے ذرا سی بھی ہمدردی ہوتی ، تو انہیں پیدل مارچ کرنے سے روکتے اور ان کے مطالبات سنتے ۔ جن کے پاس ائیر کنڈیشندگاڑیاں ہیں ، انہیں اس سفر کی تکلیف کا کیا احساس ہوگا ، وہ تو ایسی گاڑیوں میں ایک گھنٹہ سفر کر کے بھی تھکن کا اظہار کرتے ہیں ۔ ریاستی حکومت کسانوں کے درد کو محسوس کرے ، تو ضرور ان کے مطالبات پر غور کر کے انہیں راحت پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com