بھارت کی پہلی خاتون ڈاکٹر آنندی گوپال راؤ جوشی

بھارت کی پہلی خاتون ڈاکٹر آنندی گوپال راؤ جوشی

آنندی گوپال جوشی بھارت کی پہلی خاتون ڈاکٹرہیں جو اعلا تعلیم اور طب کے میدان میں بھارتی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں ۔
آج ان کی ۱۵۱؍ ویں سالگرہ ہے ۔آنندی گوپال ورما ۳۱؍ مارچ ۱۸۶۵؍ کلیان ضلع تھانہ ، مہاراشٹر میں پیدا ہوئی تھیں ، اس وقت یعنی انگریزوں کے دور حکومت میں مہاراشٹرریاست کاوجود نہیں تھا ، اس لیے یہ پورا علاقہ بومبے کہلاتا تھا ۔آنندی کی پیدائش پر ان کے والدین نے ان کا نام یمنا کھا تھا اور شادی کے بعد گوپال راؤ نے انہیں آنندی نام دیا ، اس طرح وہ آنندی بائی گوپال راؤ کے نام سے جانی جاتی ہیں ۔
یمنا یعنی آنندی کے والدین انگریزوں کے زمانے میں زمیندارتھے ، مگر بہت ساری زمین کے وقت پر ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ لوگ بہت مصیبت میں آ گئے تھے اورآنندی کے ولدین پریشان حال تھے ۔ اسی دوران جب یمنا یعنی آنندی ۹ ؍ برس کی تھی ، اس وقت ان کی شادی ۳۰؍ سال کی عمر کے گوپال راؤ جوشی سے کر دی گئی ، جن کی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا ۔گوپال جوشی پوسٹل کلرک تھے ۔
۱۴؍ سال کی عمر میں آنندی کے یہاں پہلابچہ پیدا ہوا اور صرف دس دن کی عمر میں اس بچے کا انتقال ہو گیا ۔ اس وقت آنندی گوپال جوشی کو یہ احساس ہوا کہ طبی سہولت کے فقدان سے ان کے بچے کی موت ہو گئی ، اس بات کو محسوس کرتے ہوئے آنندی نے اپنے شوہر گوپال راؤ جوشی سے درخواست کی کہ وہ آگے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں ، تاکہ طبی سہولت یا معلومات کی کمی کی وجہ سے کو ئی بے موت نہ مارا جائے ، وہ چونکہ اپنی پہلی اوالاد کو کھو چکی تھیں ، اس لیے نہیں چاہتی تھیں کہ ایسا حادثہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو ۔ گوپال راو جوشی ترقی پسند انسان تھے اور تعلیم نسواں پر زور دیا کرتے تھے۔ انہوں نے آنندی کی بات مان لی اور میڈیکل کی تعلیم کے لیے انہیں بھر پور ساتھ دیا ۔ انہوں نے امریکی مشنری کو ایک خط لکھا ، جس میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ آنندی امریکہ سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرناچاہتی ہیں ۔
آنندی کے شوہر نے امریکی مشنری کو ایک خط لکھا تھا اگرآنندی جوشی اپنی تعلیم ریاستہائے متحدہ میں حاصل کر سکیں ، انہوں نے اپنی بیوی آنندی کو امریکہ میں اعلا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتےہوئے کہا کہ تمہارے تعلیم حاصل کرنے سے ہمارے ملک کی خواتین کا بھی حوصلہ بڑھے گا اور انہیں ایک نئی راہ مل جائے گی ۔
اس کے بعد آنندی نے نے ومینس میڈیکل کالج آف پینسلوانیہ میں داخلے کے لیے عرضی دی ، جسے قبول کر لیا گیا اور انہیں وہاں داخلہ مل گیا ، جس کے لیے انہوں اس زمانے میں کلکتہ (کول کاتا) سے نیو یارک تک کا سفربذریعہ سمندری جہاز طے کیا۔۱۹؍ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی تھی ۔
تعلیم حاصل کرنے کے دوران آنندی کو امریکہ کی سرد آب و ہوا راس نہیں آئی اور وہاں کی غذا بھی ان کے بھارتی مزاج کے مطابق نہیں ہونے کی وجہ سے وہ تپ دق یعنی ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو گئیں۔ پھر بھی وہ میڈیسن میں ایم ڈی کرنا چاہتی تھیں ۔ان کے اس تعلیمی سفر اور حوصلے کے چرچے بھارتی اخباروں میں ہونے لگے ،اس دوران ملکۂ وکٹوریہ نے انہیں مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا ۔
جب وہ اپنا تعلیمی سفر مکمل کر کے ڈاکٹر بن کر ۱۸۸۶؍میں بھارتلوٹیں تو، ان کا پر جوش استقبال کیا گیا ۔ اسی کے ساتھ ان کا بحیثیت انچارج ڈاکٹر’’ البرٹ ایڈورڈ ہاسپٹل‘‘ کولہا پور( مہاراشٹر) تقررہوا ۔
۲۶؍ فروری ۱۸۸۷؍ کو جب ان کی عمر ۲۲؍ سال مکمل ہونے میں صرف ایک ماہ باقی تھا ، وہ ٹی بی جیسے مہلک مرض سے جانبر نہ ہو سکیں ، اس دور میں ٹی بی کو مہلک مرض مانا جاتا تھا کیونکہ اس کا کوئی مکمل علاج نہیں ہوا کرتا تھا ۔ آنندی بائی گوپال راؤ نے خواتین کا میڈیکل کالج بنانے کا خواب دیکھا تھا ، جو ان کے جیتے جی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا ۔ ان کی موت کی خبر تمام اخبارات کی سرخیاں بن گئی تھی۔آج بھی آنندی بائی کا نام زبان پر آتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنا مشکل ہے اور نہ ہی نا ممکن ، بس حوصلہ ہونا چاہیے آنندی بائی جیسا اور شوہر ہونا چاہیے گوپال راؤ جوشی جیسا روشن خیال انسان ۔ کہتے ہیں ’’ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔‘‘ مگر کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کا ہاتھ کسی خاتون کی کامیابی کے پیچھے ہوتا ہے ۔ ان میں سے ایک گوپال راؤ جوشی بھی ہیں۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com