بہنوں کا تحفظ

شکور تیسیکر

آسٹریلیا

بہنوں کا تحفظ

مہاتما گاندھی نے ایک بار کہا تھا ’’کسی ملک اور قوم کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں کے جانوروں کے ساتھ رویہ کیسا ہے ۔‘‘ان کے زمانے میں جرائم اتنے نہیں ہورہے تھے ، اس لیے انہوں نے جانوروں کے حوالے سے بات کی ، مگر آج اگر مہاتما گاندھی ہوتے ، تو ملک میں روز بروز خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم اور اور مظالم کو دیکھ کر کہتے کہ کہ کسی قوم اور ملک کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہاں کی خواتین کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کیا جاتا ہے ۔
بڑھتے ہو ئے جرائم :
بھارت سرکار کے اعداد و شمار کے مطابق ۳۳۷۹۲۲معاملات خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے درج ہوئے، یہ رپورٹ ۲۰۱۴ ؍ کی ہے، جب کہ اس کے مقابل ۲۰۱۳ ؍ کی خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار کا رکارڈ  ہے ۳۰۹۵۴۶ ؍ جس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰۱۴ ؍ کا رکارڈ دیکھتے ہیں ، تو ۲:۹ ؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے معاملات ۲۰۱۰ اور ۲۰۱۴ ؍ کے درمیان کافی اضافہ ہوا ہے ۔ ۲۰۱۰ ؍ ۲۱۳۵۸۵؍ معاملات درج ہوئے تھے ، مگر ۲۰۱۱ ؍ میں اس میں اضافہ ہوا ہے ، جس کے مطابق ۲۲۸۶۴۹ ؍ معاملات درج ہوئے ۔ جس میں بعد میں اضافہ ہوا ہے ۔ ۲۰۱۲ ؍ میں ۲۴۴۲۷۰ ؍ معاملات درج ہوئے ہیں ۔ ۳۰۹۵۴۶؍ معاملات ۲۰۱۳ ؍ میں درج کیے گئے ۔سب یہ جانتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور جرائم کے صحیح اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکتے کیوں کے بہت سی خواتین اس قسم کے معاملات میں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں  اور معاملہ پولس اسٹیشن تک نہیں جاتا ، جس کا کوئی رکارڈ نہیں بن پاتا ۔
بد قسمتی سے نربھیا حادثے کے بعد مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں نے اس تعلق سے قوانین میں ترمیم کی ۔ یہ مضمون اس لیے لکھا جارہا ہے کہ اس کے ذریعے ہماری بہنوں میں بیداری لائی جائے کہ وہ اپنا تحفظ کس طرح کر سکیں۔ بہنوں کو یہ بتایا جائے کہ کچھ موبائل ایپس ایسے بنائے گئے ہیں کہ جس کے استعمال سے خواتین اپنی حفاظت آپ کر سکتی ہیں ۔ سوشل ورکرس اور ایسے اداروں سے میری درخواست ہے کہ نربھیا فنڈ کو خواتین کے تحفظ کے اقدام کے لیے استعمال کریں ۔
موبائل ایپس کا مہاراشٹر میں خیر مقدم
اس ایپ کا استعمال مہاراشٹر کے کچھ علاقوں بشمول ممبئی استعمال کیا جا رہا ہے اور اب یہ کوشش جاری ہے کہ پورے مہاراشٹر میں اس کا استعمال آسانی سے کیا جا سکے ۔
اگر آپ ایپ پر نظر آنے والے’’ ایمر جنسی آئی کون ‘‘ پر اپنی انگلی رکھتے ہیں ، تو اس کی اطلا ع تین کلو میٹر کے اندر دس پولس والوں تک ہو جائے گی اور اس علاقے کے سنیئر انسپکٹر کو بھی اس کی اطلاع ہو جائے گی ۔ موبائل کا پیغام کوئی ذاتی طور پر دیکھے اس سے قبل ہی یہ پیغام پولس والوں تک پہنچ جائے گا اور محض ۷ ؍ منٹ میں مصیبت زدہ عورت کے پاس پولس پہنچ جائے گی۔ اس پورے معاملے کی اطلاع پولس کنٹرول روم کو ملتی رہے گی اور ساتھ ہی مصیبت زدہ عورت کو بھی ملتی رہےگی کہ پولس اب کہاں تک پہنچی ہے ۔
تھانے ٹریفک پولس نے محفوظ سفر کرنے کے لیے ’’ سیف جرنی موبائل ایپ ‘‘ متعارف کیا ہے خاص طور سے ان خواتین کے لیے جورکشا سے سفر کرتی ہیں ۔ یہ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد سیٹ کے پیچھے آر ٹی او سے ملا ہوا رکشا ڈرائیور کا بیچ اور دیگر تفصیلات کی تصویر موبائل میں محفوظ ہو جاتی ہے ، جسے سفر کرنے والی خاتون فوراً اپنے رشتے دار یا گھر کے لوگوں کو بھیج سکتی ہے ۔
چند ماہ قبل میں کرائم پیٹرول کا ایک ایپی سوڈ دیکھا ، جو حقیقی جرائم پر مبنی تھا ، چند نوجوانوں نے دو لڑکیوں کو پھانس لیا تھا ۔ ان لڑکیوں کے موبائل میں سیفٹی ایپ ڈاون لوڈ کیا ہوا تھا ۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ خطرے میں ہیں ، تو ان لڑکیوں نے اس ایپ کا آئی کون دبا دیا ، پولس بر وقت پہنچ گئی قبل اس کے کہ لڑکیوں کے ساتھ کچھ برا ہوتا ۔
جب کوئی حادثہ ہوتا ہے ، تو عام طور سے لوگ حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ، مگر جب حکومت حفاظتی انتظامات کی طرف عوام کو متوجہ کرتی ہے ، سہولت فراہم کرتی ہے ، تو کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا اور نہ ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ میں کیوں کرو ں اور ہر شخص کے ایسا سوچنے سے یہ ہوتا ہے کہ کوئی کچھ نہیں کرتا ۔ ہم کب بھارت کے ذمہ دار شہری بنیں گے ؟درج ذیل تحفظ کے اقدامات اوار نربھیا فنڈ کا اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا میرا نظریہ ہے ۔
’’ہندو‘‘ اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق ’’ خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے معاملے میں ریاست مہاراشٹر کا تیسرا نمبر آتا ہے ، مگر ریاست نے ایک سال قبل سیفٹی ایپ جاری کیا تھا ، اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے ۔ ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۶ میں مہاراشٹر پولس کے ذریعے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے تحفظ کے ایپ کو خاطر خواہ طریقے سے استعمال میں نہیں لایا گیا ۔ بہت کم اہمیت دی گئی ہے ۔ صرف ۱۲۷۵۲۶؍ خواتین ہی نے مختلف قسم کے چھ یا سات ایپ ڈاؤن لوڈ کیے تھے ۔ اس طرح کل ۷۳۶۸۱ ؍ نے ایپ کا استعما ل کیا تاکہ وہ شکایت کر سکیں یا الرٹ بٹ کی مدد لے سکیں ۔ گزشتہ ایک سال میں ان میں سے بھی صرف ۱۷۸۰۸ ؍ شکایات درج ہوئی تھیں ،وہ بھی الارم پر مبنی ایپس کے ذریعے۔ کیوں مہاراشٹر کی خواتین اس جانب پوری توجہ نہیں دے رہی ہیں ؟
بھارت میں اسمارٹ فون کی قیمت ہزار روپے سے بھی کم قیمت میں حاصل کیا جا سکتا ہے ، اس کا یہ مطلب ہے کہ غریب ہونے سے اسمارٹ فون استعمال نہیں کر سکتے ایسا بھی نہیں ہے ۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مہاراشٹر کی خواتین اس ایپ کا استعمال کیوں نہیں کر رہی ہیں ؟اس لیے میں نے کچھ خواتین سے معلوم کیا ، تو مجھے یہ پتہ چلا کہ کچھ خواتین کو یہ بھی علم نہیں کہ ایسا کوئی ایپ بھی ہوتا ہے اور جنہیں اس ایپ کے بارے میں علم ہے وہ سوچتے ہیں کہ ریاست مہاراشٹر خواتین کے لیے نہایت محفوظ جگہ ہے ۔ وہ نہیں مانتے کہ خواتین کے تحفظ کا مسئلہ جیسا دلی میں ہے ، ویسا ہی مہاراشٹر میں بھی ہے ، اس لیے وہ اس طرف سے لاپروا ہو جاتے ہیں ۔
دسمبر ۲۰۱۲ ؍ میں دلی میں دردناک حادثے کے بعد جو نربھیا کے نام سے جانا جاتا ہے ،بھارتی ہزار کروڑ نربھیا فنڈ ۲۰۱۳ میں جمع ہوا ۔ مگر اس میں ۸۰۰؍ کروڑ ضائع ہو گیا کیوں کے کوئی منسٹری یا سرکاری ادارہ نہیں تھا ، جو فنڈ کے استعمال کے لیے درخواست دے سکے ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ۱۶؍ مارچ ۲۰۱۵؍۸۰۰ ؍ کروڑ فنڈ ضائع ہو گیا ۔
صرف دو سرکاری اسکیمیں ہیں ، جوشمار کر رہی ہیں کہ ۲۰۰؍ کروڑ روپے فنڈ کا استعمال کس طرح کیا جائے ، جو نربھیا فنڈ میں جمع شدہ ہے ۔ ۵۰؍ کروڑ ’’خواتین کے تحفظ کی اسکیم اور پبلک روڈ ٹرانسپورٹ‘‘ کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔ اسے منسٹری آف روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی وے کے ما تحت منظم کیا جائے گا اور ۱۵۰؍ کروڑ ’’ گزشتہ دنوں آپسی اتفاق سے جو اسکیم تیار کی گئی تھی ‘‘ اس پر منسٹری آف ہوم افئیرس کی جانب سے عمل کیا گیا تھا ۔
ستمبر ۲۰۱۴ ؍ میں داخل کی گئی آر ٹی آئی سے جو راز کھل گیا ، اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جو دو سو کروڑ جمع ہوئے تھے ، مخصوص اسکیم کے لیے وہ بھی صحیح مد میں خر چ نہیں ہو سکے ۔ منسٹری آف روڈ ٹرانسپورٹ نے آرٹی آئی کا جواب کچھ اس طرح دیا ہے ، ہم نے اس مد میں ۳۲؍ لاکھ خرچ کیے ہیں ، جب کے انہوں نے جمع کیے تھےپچاس کروڑ ۔جو ۱۵۰؍ کروڑ فنڈ کا تذکرہ کیا گیا تھا ، اس کے استعمال پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ ۸۰۰؍ کروڑ فنڈ ضائع ہو گیا تھا ۲۰۱۱ ؍سے ۲۰۱۴ ؍تک ،۔سرکاری ایجنسیاں پبلک ٹرانسپورٹ اور خواتین کے تحفظ کے لیے کچھ کرنے سے قاصر رہے ۔
۲۰۱۵؍ میں ۲۰۰۰؍ کروڑ نربھیا فنڈ میں جمع ہوئے تھے اس کے لیے ایک ایسا پروجیکٹ تھا، جس سے نیشنل وہیکل سیکیوریٹی اور ٹریکنک سسٹم ۳۲۱ ملین بھارتی شہروں کے لیے تھا ۔ اس پروجیکٹ کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ سروس کے لیے ۳۲ منتخبہ شہروں کی گاڑیوں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ایسی گاڑیوں  میں خاص طور سے کیمرے لگائے گئےِ جن میں ۲۳؍ افراد سے زیادہ مسافر سفر کر سکتے ہوں ، جی پی ایس ڈیوائس اور پینک بٹن کا استعمال بھی شروع کر دیا گیا ۔ یہ الیکٹرانک ڈیوائس مرکزی کنٹرول روم اور پولس ڈپارٹمنٹ کے اہم لوگوں کے کنٹرول میں ہوگا۔
اس کے متوقع نتائج یہ ہیں کہ وہ پینک بٹن دبایا جائے گا تو سی سی ٹی وی کیمرے کا فوٹیج پولس کنٹرول روم میں براہ راست دکھایا جائے گا۔
تلخیص :
تمام سوشل ورکر سے درخواست :
سرکار ملازمت کرنے والی خواتین کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے ، تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی ان کا ساتھ دیں اس اہم کام میں ۔
سوشل ورکر کو بھی کچھ اقدام کرنے کے لیے آمادہ کرنا ہوگا۔ میری تمام سوشل ورکر سے درخواست ہے کہ ۲۰۰۰؍ کروڑ نربھیا فنڈ ، جو استعمال نہیں ہو سکا اسے مناسب انداز سے استعمال میں لانے کی کوشش کی جائے خواتین کے تحفظ کے لیے ۔
تمام بہنوں سے درخواست :
برائے مہربانی غیر ضروری خود اعتمادی کا شکار نہ ہوں ، جو خواتین حادثات کا شکار ہوئی ہیں ، انہوں نے بھی کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ ان کےساتھ بھی کوئی حادثہ ہو سکتا ہے ۔ معذرت سے احتیاط بہتر ہے ۔
یہ ایپ صرف دس منٹ میں ڈاؤن لوڈ ہو سکتا ہے ، اپنی زندگی میں اس دس منٹ کا نقصان برداشت کرنا اس سے بہتر ہوگا کہ دس منٹ میں اپنی زندگی کو نقصان پہنچایا جائے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com