حاملہ خواتین کے لیے احتیاطی تدابیر اور ٹیکے

شادی کے بعد ہر عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ماں بن جائے ، مگر اسی کے ساتھ حمل کا دور جب شروع ہو جاتا ہے ، تو وہ بہت سی مختلف قسم کی ذہنی الجھنوں اور جسمانی تبدیلیوں کا سامنا کرتی ہے ۔ حمل ٹھہرنے کے ابتدائی دنوں میں عورت مختلف قسم کے وسوسوں اور تشویش میں مبتلا رہتی ہے ۔ کیا کھائیں کیا نہیں کھائیں ایسے بھی کئی سوالات ذہن میں ہوتے ہیں ۔
خاص طور سے پہلی بار ماں بننے جا رہی خواتی کو یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ مختلف اقسام کے ٹیکوں سے کہیں ان کی کوکھ میں پرورش پا رہے بچے کو نقصان نہ پہنچ جائے۔
 مگر یہاں یہ بتانا اہم ہے کہ حاملہ خواتین کے لیے دستیاب زیادہ تر ٹیکے نہ صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے مفید بھی ہوتے ہیں ۔
یو ایس سرکار کے سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول کے ساتھ وابستہ سوزا رائسم سین نے ایک رپورٹ میں کہا ’’ ٹیکے لگوانے سے نہ صرف یہ کہ حاملہ خاتون صحت مند رہتی ہے بلکہ پیدا ہونے والا بچہ بھی پیدائشی طور پر صحت مند رہتا ہے ۔
بھارت کے گائناکلوجکل اسوسی ایشن کی جانب سے سفارش کی جاتی ہے کہ چھ ماہ کی عمر کے بعد سبھی کو ابتدا ہی میں موسمی فلو کا ٹیکہ لگوانا چاہیے  ۔حاملہ خواتین کسی بھی وقت انفلوئنزا کا ٹیکہ لگوا سکتی ہیں ۔ فلو اور اس کی علامات حاملہ خواتین پر جلدی اور تیزی سے اثرانداز ہوتی ہیں ، جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔کبھی کبھی تو یہ جان لیوا بھی ہوتا ہے ۔ ایسے معاملات میں اکثر فلو سے حمل پر بھی اثر ہوتا ہے اور نتیجے میں بچے کا وزن کم ہونا یا وقت سے پہلے بچے کی پیدائش ہونا جیسے نتائج سامنے آتے ہیں ۔
چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو فلو کی وجہ سے تیز بخار مثلاً نمونیہ ہو سکتا ہے ۔ حاملہ خواتین اکثر اس ٹیکے کو نظر انداز کرتی ہیں ، مگر یہ انتہائی محفوظ ہے اور یہ آپ کو اور آپ کے بچے کو پیدائش کے چھ ماہ تک فلو سے محفوظ رکھتا ہے ۔ حالانکہ اس سے فلو ہونے کا امکان پوری طرح ختم نہیں ہو جاتا ، مگر خطرہ بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔
۱۵؍۲۰۱۴میں جب ایچ ون این ون سوائن فلو بری طرح پھیلا تھا ، تب مرکزی وزارت صحت نےایک حاملہ کے لیے ایک ویکسن کی سفارش کی تھی ۔ حاملہ خواتین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ انہیں ٹھنڈاموسم شروع ہونے اور فلو کی وبا پھیلنے سے پہلے ہی ویکسن لے لینا چاہیے ۔
ٹی ڈیپ : یہ ٹیکہ ٹیٹنس ، ڈپتھیریا اور پارٹیسیس سے حفاظت کرتا ہے۔ پارٹیسیس یا بلغم کی زیادتی ایک ایسا مرض ہے ، جو شدید ہونے پر سانس کی بیماری یا نمونیہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے ۔یہ وبائی مرض ہے اور اس کی اہم علامت بہت زیادہ کف ہونا ہے ۔صحت کے ماہرین ہر حمل کے موقع پر اس ٹیکے کے لگوانے کی سفارش کرتے ہیں ۔ یہ ٹیکہ حاملہ خواتین کو حمل کے تیسرے ماہ میں لگایا جانا چاہیے ، لیکن ۳۶؍ ہفتوں کے بعد نہیں ۔
ایک اور مشورہ اہم ہے ، اگر آپ اپنے بچے کو بیماریوں کے خطرے سے مزید بہتر انداز سے بچانا چاہتے ہیں ، تو کنبے کے دیگر افراد کے ٹیکوں کے تعلق سے بھی معلومات حاصل کریں ۔
اگر آپ اس تحریر میں دیے گئے مشوروں کو سراہتے ہیں ، تو برائے مہربانی فیس بک پر ہمارے پیج کو لائک اور شیئر کریں ، کیونکہ اس سے اوروں کو بھی آگاہ کرنے میں مدد ملے گی ۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com