خواتین ذہنی تناؤ سے نجات حاصل کر سکتی ہیں

 تیز رفتار مصروف ترین دور میں آج مردوں کے بہ نسبت خواتین بہت زیادہ ذہنی دباؤ و کرب میں مبتلا نظر آتی ہیں ۔ کیونکہ بچوں کی تربیت ، معاشیپریشانی اور دیگر مسائل سے اکثر ذہنی دباؤ میں رہنے لگتی ہیں ۔ انسانی زندگی میں ذہنی سکون کی اہمیت ہے ، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔خواتین کو ذہنی سکون حاصل نہیں ہونے کی وجہ سے اکثر وہ بے خوابی اور دیگر امراض کا شکار ہوسکتی ہیں ۔ عموماً خواتین بہت زیادہ ٹینشن لینے لگتی ہیں اور وہ ارد گرد کے ماحول ، لوگوں ، رشتہ داروں اور دیگر افراد کے رویہ سے اکثر پریشان رہنے لگتی ہیں ۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین کو صنف نازک کہا جاتا ہے اور پھر وہ نا محسوس طور پر خود کو صنف نازک ہی سمجھنے لگتی ہیں ، جس کی وجہ سے چھوٹے موٹے معاملات سے پریشان ہونے لگتی ہیں ۔ ایسے میں انہیں حوصلے سے کام لینا چاہیے ۔
بچوں کی اعلا تعلیم کا انتظام ، بچوں کی نمایا کامیابی کی فکر ، لڑکے کے بر سر روزگار ہونے کی فکر ، لڑکی کی شادی کی فکر اور اس سے کہیں زیادہ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ہونے والی مقابلہ آرائی ۔ زیور ات ، لباس اور گھر کے دیگر آرائشی سامان کی فکر لاحق ہو جاتی ہے ۔زیادہ ذہنی دباؤ سے صحت متاثر ہونے لگتی ہے ۔
اگر خواتین ذہنی سکون چاہتی ہیں تو پھر کسی بھی مسئلہ پر زیادہ غور و فکر کرنا چھوڑ دیں ۔ ہمیشہ اللہ پر توکل کریں ۔آمدنی کے مطابق اپنے اخراجات طے کریں ، اپنے سے کم آمدنی والے لوگوں کو دیکھیں کہ وہ کس طرح خوش رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اچھی کوشش کریں اور نتائج کو حالات پر چھوڑ دیں ۔ کوشش کریں کہ قرض لینے کی نوبت نہیں آئے ۔ہمیشہ یہ سوچ کر چلیں کہ جب جب جو جو ہونا ہے ، تب ہی وہ سب ہوتا ہے ۔ خومخواہ پریشان ہونے سے حالات بدل نہیں سکتے ، اس سے حالت خراب ہو سکتی ہے اور مستقبل بگڑ سکتا ہے ، ہر دن کو خوشی سے استقبال کریں اور خوش رہنےکی کوشش کریں ۔
 ذہنی تناؤ میں رات میں بستر پر سیل فون نہ دیکھیں ۔ واٹس اپ اور کمپیوٹر کا استعمال نہ کریں ۔ اس سے نیند ختم ہوجائے گی اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجائے گی ۔ جب ذہنی دباؤ میں ہوں تو اپنے بچوں سے باتیں کریں ۔ ان کے ساتھ گفتگوکریں ، کیونکہ بچے ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جن سے آپ کی ہنسی نکل جاتی ہے ۔ اس سے آپ کا ذہنی بوجھ کسی قدر کم ہوجائے گا ۔
کئی خواتین ایسی ہوتی ہیں جن کو اگر چھوٹے موٹے نقصان ہوجائیں تو وہ سر پکڑے بیٹھی رہتی ہیں، ان کی راتوں کی نیند اُڑجاتی ہے، وہ ہر وقت افسردہ سی نظر آتی ہیں۔
لوگ ان کی حالت دیکھ کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ان کی خراب حالت کو دیکھ کر لوگ یہ تک کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کسی ماہر نفسیات کو دکھا دو تاکہ وہ سکون کی گولیاں دے اور ذہن کو سکون مل سکے۔زندگی میں جہاں کئی چیزیںخریدتے وقت فائدے ہوجاتے ہیں، وہیں کچھ چیزوں کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لئے ذہن کو اس چیز کے لیے بھی تیار رکھیں کہ فائدہ اور نقصان زندگی کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان ہی باتوں کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاری جائے۔، تومنفی باتیں  ذہن پر اثر انداز نہیں ہوں گی کہ وہ راتوں کی نیندیں اڑا دے اوران چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے  خود کو ذہنی اذیت میں مبتلاکیا جائے،اس سے بڑا نقصان اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی ان چھوٹے نقصانات کی وجہ سے اپنی ذہنی و جسمانی صحت کھو بیٹھتا ہے ۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com