دہلی گینگ ریپ – انصاف کے لیے انتظار ؟

دسمبر کا مہینہ  ممکنہ طور ہر کسی کو یاد ہو گا۔چار سال پہلے اسی دن دارالحکومت      دہلیمیں چلتی ہوئی بس میں اجتماعی عصمت دری کا وحشیانہ حادثہ ہوا تھا۔ اس شرمناک واقعے کی چوتھی برسی پر ایک بار پھر لوگ گاہے گاہے سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخرگناهگاروں کو اب تک سزا کیوں نہیں دی گئی؟ حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہا کہ اس نے تو اپنی طرف سے قصورواروں کو سزا دینے کے عمل کی پوری کوشش کر دی۔مطلب، دہلی پولیس نے مقررہ وقت میں کیس کی تحقیقات کر کے چارج شیٹ داخل کر دی۔اس کے باوجود انصاف نہیں ہو سکا۔
دراصل، چار سال پہلے دہلی گینگ ریپ کے ملزمان کو جلد سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ کا قائم کیا گیا تھا۔روہنی کی فاسٹ ٹریک کورٹ نے 173 دن یعنی چھ ماہ سے بھی کم وقت میں سزا سنا دی تھی۔بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی 180 دن یعنی چھ ماہ کے اندر پھانسی کی سزا پر مہر لگا دی تھی۔اس وقت جمہوریت کے تینوں ستونوں عاملہ (پولیس + حکومت)، مقننہ (پارلیمنٹ) اور عدلیہ (نچلی عدالت + دہلی ہائی کورٹ) کو متحرک دیکھ کر ایک بار پورے ملک کو لگا اور اعتماد بھی ہوا کہ پورانظام بدل جائے گا۔ایسے حالات ہو گئے ہیں کہ کوئی عصمت دری کی حماقت نہیں کرے گا۔خواتین پر جنسی حملہ کرنے والا ہر مجرم جیل میں ہو گا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔تمام کوششیںٹائیں ٹائیں فش ہو گئیں، کیونکہ ملک کا سب سے اہم مقدمہ 14 مارچ 2014 کی طرف سے یعنی قریب قریب تین سال (2 سال 10 ماہ) سے سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔اگر کہیں کہ اس تاخیر سے ملک میں کم سے کم عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو جلدی انصاف دلانے کی حکومت کی کوشش کی ہوا ملک کی سب سے بڑی عدالت میں نکل گئی تو مبالغہ نہیں ہوگا۔مطلب، آپ حکومت میں ہیں تو چاہے جتنا اچھل کود کریں، کمیٹی بٹھا لیں، تحقیقات کروا لیں اور فاسٹ ٹریک کورٹ بنا لیں، لیکن فیصلہ عدالت مقدمے کا عمل مکمل ہونے پر ہی دے گی۔اب نظام ہی ایسا ہے تو سپریم کورٹ کیا کرے۔
بہر حال، 16-17 دسمبر 2012 کی رات آٹھ سے نو کے درمیان پیرامیڈیکل اسکول کے چھ سات درندوں نے اتنا غیر انسانی سلوک کیا تھا کہ لڑکی کا جسم ہی تباہ ہو گیا۔بھارت میں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔بھارتی ڈاکٹروں کے ناکام ہونے پر اسے سنگاپور کے وشووكھيات ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال لے جایا گیا، پھر بھی اس کی جان نہیں بچائی جا سکی۔کہنے کا مطلب دو ہفتے موت سے نبرد آزما ہونے کے بعد 29 دسمبر کو وہ موت کے سامنے اسی طرح ہار گئی، جیسے دو ہفتے پہلے ےعصمت دری کرنے والوں سے لڑنے کے بعد ہار گئی تھی۔
اس اجتماعی عصمت دری (گینگ ریپ) کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی تھی۔ملک میں کہیں پرامن احتجاج تو کہیں غصہ کا اظہار بھی ہوا تھا۔دہلی میں عوام کے مشتعل ہونے پر میٹرو سروس بند کرنی پڑی تھی۔رائے سینا هلس روڈ پر تو دہلی پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کر دیا تھا۔واقعہ کے دو دن بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زوردار ہنگامہ ہوا تھا۔مشتعل پارلیمنٹ ارکان نے عصمت دری کرنے والوں  کے لئے پھانسی کی سزا طے کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سشيل كمار شندے نے پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو جلد سے جلد سزا دلوانے کی حکومت کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور دارالحکومت دہلی میں خواتین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جا رہے ہیں۔
وہ واقعہ کتنا اہم تھا اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرکز نے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے عصمت دری کے جرم کو روکنے کے لیے سخت قانون بنانے کا اعلان کیا۔لہذا، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے جسٹس جے ایس ورما کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی۔کمیٹی نے دن رات کام کیا، آکسفورڈ یونیورسٹی سمیت ملک و بیرون ملک سے قریب 80 ہزار تجاویز ملیں۔کمیٹی نے ریکارڈ 29 دن میں 630 صفحات کی رپورٹ 23 جنوری 2013 کو حکومت کے حوالے کر دی۔
کمیٹی کو خواتین پر جنسی تشدد کا نشانہ کرنے والوں کو سخت سزا دینے کی سفارش کرنی تھی۔لوگوں کو امید بھی تھی کہ جنسی تشدد کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دینے کا انتظام کیا جائے گا۔مگر کمیٹی کی رپورٹ انتہائی مایوس کن رہی۔رپورٹ میں کمیٹی نے عصمت دری کے اس کیس کو غیر معمولی کیس مانا ہی نہیں، جبکہ ملک کی پوری قیادت عصمت دری کرنے والوں کو سخت سزا دینے کے حق میں تھی۔اسی لیے، ورما کمیٹی کی رپورٹ پڑھ کر کئی خواتین تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ مردوں کا غلبہ معاشرے میں پلے بڑھے اور انصاف کے نظام کو منظم کرنے والے جسٹس ورما ممکنہ طور متاثرہ عورت کے مصائب محسوس کرنے میں ناکام رہے، دوسری صورت میں وہ عصمت دری کرنے والوں کے لیے پھانسی کی سزا کی ضرور سفارش کرتے ۔
عملی طور پر کمیٹی نے جنسی تشدد کے بعد لڑکی کے قتل یا موت کو غیر معمولی کیس ضرور مانا اور قاتلو عصمت دری کرنے والوں کے لئے موت کی سزا کا کیا اہتمام بھی کیا۔اس کے علاوہ جسٹس ورما نے جنسی جرائم کرنے والوں کو سخت سزا کے بارے میں کہا،جس کی وجہ ترون تیج پال جیسے نام نہاد دانشور پولیس کی گرفت میں آئے۔بہر حال، 21 مارچ 2013 کو لوک سبھا نے عصمت دری مخالف بل پاس کر دیا اور اس قانون کو کریمنل لاء ترمیمی ایکٹ 2013 کہا گیا۔
دہلی گینگ ریپ پر بی بی سی کے لئے فلم ساز لیسلی ایڈون نے’’ انڈیاز ڈاٹرز‘‘ کے عنوان سے دستاویزی فلمیں بنائی تھی جس میں انہوں نے ملک میں خواتین یا لڑکیوں کے تئیں مردوں کی ذہنیت کو بتانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔اس کے لیے انہوں نے تہاڑ جیل میں ایک ملزم کا انٹرویو بھی لیا تھا۔اس انٹرویو کی وجہ سے یہ دستاویزی فلم تنازعہ میں آ گئی۔اس پر نشر سے پہلے ہی پابندی لگ گئی۔حکومت ہند کے سخت ہونے پر دستاویزی فلم کے مواد کو یو ٹیوب سے بھی ہٹانا پڑا۔
اس درمیان دہلی گینگ ریپ کے اہم ملزم ڈرائیور رام سنگھ نے عدلیہ سے پہلے خود کو سزا دے دی اور 11 مارچ 2013 کی صبح تہاڑ جیل میں خودكشي کر لی۔گزشتہ سال برسی کے دو دن بعد یعنی 16 دسمبر کی رات
متاثرہ لڑکی پر سب سے زیادہ حیوانیت کرنے والا ملزم محمد افروز بھارتی انصاف کے نظام پر ہنستا ہوا جیل (سدھار گھر) سے باہر آیا، کیونکہ جنسی تشدد کرتے وقت اس کی عمر 18 سال سے کچھ دن کم تھی یعنی وہ نا بالغ تھا۔
دہلی گینگ ریپ کے باقی چار ملزمان مکیش سنگھ، اکشے ٹھاکر، ونے شرما اور پون گپتا کو خصوصی فوری عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے بے شک عدلیہ کے پاس استعداد زیادہ کام کا بوجھ ہے۔جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج دو سال پہلے حیدرآباد میں ایک سیمینار میں کہہ چکے ہیں کہ ملک میں 65 ہزار (64،919) مجرمانہ مقدمے زیر التوا ہیں۔ویسے پورے ملک میں تین کروڑ مقدمے انڈرٹرايل ہیں۔اس کے باوجود دہلی گینگ ریپ کی سماعت ہو جانی چاہیے تھی۔
جو بھی ہو، نیا جرم قانون کے بنے قریب تین سال ہونے والے ہیں، لیکن اس کے تحت ابھی تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ایک لڑکی کے ساتھ عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے كولكالا کے گارڈ دھننجے چٹرجی کو 14 اگست 2004 کو پھانسی دی گئی تھی۔موت کی سزا پانے والا دھننجے اب تک واحدجنسی تشدد کا مجرم ہے۔نئے قانون کے بعد دہلی کے علاوہ ممبئی شكتی مل کمپاؤنڈ گینگ ریپ سمیت کئی عصمت دری کے ملزمان کو نچلی عدالتوں کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے، لیکن تمام مقدمے اوپری عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
ممکنہ طور پر یہی وجہ ہے کہ تمام کوشش کے باوجود جنسی تشدد کی وارداتیں روکے نہیں رک رہی ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، گزشتہ سال عصمت دری کے 32394 مقدمے درج ہوئے۔اسی طرح 2014 میں 36735 خواتین عصمت دری کی شکار ہوئیں۔2013 میں ریپ کے 33707 اور 2012 میں 24923 معاملے درج ہوئے تھے۔2014 میں روزانہ 101 عصمت دری کی وارداتیں درج ہوئی۔یعنی 14 منٹ میں ایک خاتون اپنی عزت گنوا بیٹھتی ہے۔سن 2012 کے بعد عصمت دری کے واقعات میں سات فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔دہلی اور ممبئی خواتین کے محفوظ مانی جاتی ہیں، لیکن یہاں عصمت دری کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہے۔اکیلے دہلی میں روزانہ چار خواتین عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں۔
اردو کے مشہور شاعر خواجہ حیدر علی ‘آتش کا شعر:
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جب چیرا تو قطرۂ خوں نہ نکلا
اس ملک کے نظام کی مثال ہے-قول و فعل میں فرق بیان کرتا ہے۔مطلب، کبھی لوگ انقلاب کے لیے بیتاب ہو جاتے ہیں اور کبھی واقعہ ہی فرموش کر دیتے ہیں۔حکومت بھی پیچھے نہیں رہتی اور اعلان پر اعلان کرنے لگتی ہے، یہ سوچے بغیر ہی کہ اعلان پر عمل ممکن ہے یا نہیں۔اتنی سرگرمی دیکھ کر لگتا ہے کہ اب ایسی وارداتیں مستقبل میں نہیں ہوں گی، لیکن جلد ہی لوگ واقعہ ہی بھول جاتے ہیں اور پولیس بغلوں میں ڈنڈا دبائے پھر سے وہی “كھیني کھانے” والی حالت میں آ جاتی ہے۔اکثر یہ رویہ ہر واقعہ کے ساتھ رہتا ہے۔چاہے وہ دہشت گردانہ حملہ ہو یا پھر خواتین پر جنسی تشدد ۔

هری گووند وشوکرما

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com