صارفیت کاجال اور خواتین بد حال

1974سے پہلے کوکن کے کسی گاؤں یا خطے میں جانے کے لیے ایس ٹی سے زیادہ آسان سفر اسٹیمر کا ہوا کرتا تھا ۔ اسٹیمر سے سفر کا لطف ہی کچھ اور تھا ۔ سوتے جاگتے بڑئے آرام سے گاؤں پہنچ جایا کرتے ۔ صبح پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ہی ہاتھ چکی اور کنویں کے رہٹ کی آوازیں سماعت سے ٹکراتی تھیں ،ساتھ ہی جانوروں کی بولیاں سنائی دیتی تھیں۔ صبح خواتین ہنڈا کلسی اور ڈول اٹھائے کنویں سے پانی لیے قطار میں چلا کرتیں ۔
گاؤں میں کوئی ڈاکٹر یا دواخانہ نہیں تھا ، نہ ہی کوئی بیمار ہوتا تھا ۔ صبح اٹھتے ہی خواتین ہاتھ چکی سے اناج پیس کر آٹا بنایا کرتی تھیں ، چاول کی پالش کا کام بھی اوکھلی اور موسل سے کیا جاتا تھا ، پاپڑکا سخت آٹا بھی سیل پر رکھ کر موسل سے کوٹ کوٹ کر نرم کیا جاتا تھا اور پھر بیل کر پاپڑ سکھانے کا کام ، کپڑے ریٹھے کے پانی میں بھگو کر پتھر پر گھس کر دھوئے جاتے تھے ۔ مصالحے پتھر کی سیل پر پیسے جاتے تھے ۔ ایسے ہی پتھر کی سیل پر ناریل پیس کر اس کا دودھ بنایا جاتا تھا اور اسے بالوں کی جڑوں میں لگا کر ریٹھے سے سر دھویا جاتا تھا ، بیسن دہی میں ملا کر چہرے اور ہاتھوں پر مل کر دھو دیا کرتیں ، بے پناہ حسین اور صحت مند عورتیں نظر آتی تھیں ،  لمبے گھنے سیاہ بال ،  ہر وقت مصروف رہنا ۔ گھر کے تمام کام کاج خود کرنا اور اس کے علاوہ ، پاپڑ ، اچار ، سیویاں ، سرولے اور اسی قسم کی کئی اشیا بنانے میں خود کو مصروف رکھنا ، خوبصورت گودڑیاں بنانا ، ان خواتین کا محبوب مشغلہ ہوا کرتا تھا ۔
1980کے بعد ایسا ہوا کہ خلیجی ممالک کے دروازے کھل گئے اور ایشیائی ممالک کے لوگوں نے روزگار کے لیے خلیجی ممالک کا رخ کر لیا ۔ اہل کوکن کی بڑی تعداد خلیجی ممالک میں بر سر روزگار ہو گئی ۔ گھروں میں دولت کی ریل پیل ہو گئی ۔ رفتہ رفتہ شہر دیہات میںداخل ہونے لگا۔ ایک طرف سے دولت آرہی تھی ، تو دوسری جانب سے تہذیب الوداع کہہ رہی تھی ۔ سیل بٹے غائب ہو گئے ، ان کی جگہ مکسر آ گئے ، صراحی اور گڑھوں کا پانی پینے کے بجائے فریج سے بوتل نکال کر منہ سے لگائی جانے لگی ۔ صبح کے ناشتے اور شام کی چائے کے ساتھ گھر میں بنے ہوئے خاستہ (پکوان ) کی جگہ  بسکٹ ، بریڈ ، کیک اور ایسی ہی بازاری اشیا استعمال ہونے لگیں ۔ کوکم اور لیمو کے شربت غائب ہو گئے ان کی جگہ پاوڈر کے شربت آ گئے ، کوکن کی مخصوص گودڑیاں ختم ہونے لگیں ، کیونکہ خلیجی ممالک سے آنے والے کمبل کا استعمال بڑھ گیا ۔ نئی نسل تن آسان ہو گئی ، ریڈی میڈ مصالحے ، چکی کا پیسا ہوا آٹا ، بلکہ بریڈ ، بسکٹ ، پاؤ، تیار پاپڑ ، اچار اورایسی ہی دیگر اشیا کا استعمال اور بجلی کی آمد کے بعد  مکسر کا  اور واشنگ مشین کا استعمال ،ٹی وی سیریل کے اثرات نے خواتین کا حسن ختم کر دیا اور پھر رفتہ رفتہ بیماریاں بڑھنے لگیں ۔
محنت مشقت کم ہو گئی ، اصلی غذا کی کمی ، ٹی وی کے آنے سے بیٹھے رہنے کی عادت ہو گئی ۔ رفتہ رفتہ سب سے بڑا مرض موٹاپا حاوی ہونے لگا ، جس کی وجہ سے جوڑوں میں درد ،دل کے امراض ذیا بطیس او ر ایسے ہی کئی امراض نے خواتین کو گھیرنا شروع کر دیا ۔ پھر اسے ٹھیک کرنے کے لیے ڈاکٹروں کا سہارا لینا پڑا ۔یہاں تک کہ لوگوں میں یہ بات عام ہو گئی کہ کوکن کی خواتین کچھ زیادہ ہی بیمار رہتی ہیں ، یا ڈکٹروں کے یہاں قطار میں نظر آتی ہیں ۔ کچھ لوگوں نے مزید عقلمندی کی اپنے گھر کو جِم بنا لیا ۔ ایکسر سائز کرنے لگے ، ڈائیٹنگ کے تحت پرہیزی کھانا شروع کر دیا ، صبح واکنگ  اور جاگنگ شروع کر دی شروع کر دی ۔ پہلے الیکٹرانک اشیا اس لیے خریدی گئیں کہ آرام ہو ، یعنی مکسر ، واشنگ مشین ، آٹا گوندھنے کی مشین ، روٹی میکر ، پریشر کوکر ، ریفریجٹر  اور ویکیوم کلینر یہ سب ایسی اشیا ہیں ، جس سے محنت کم اور وقت کی بچت ہونے لگی ، مگر پکوان سے غذائی اجزا بھی کم ہونے لگے ، جس سے صحت جیسی نعمت سے لوگوں کو محروم ہونا پڑا ۔ پھر بجلی سے چلنے والی ورزش کی مشینیں خریدی گئیں ، پھر بھی صحت بد حال ہی رہی ۔
بیس سال قبل چپلون جاتے وقت پرشورام گھاٹ سے نیچے دیکھنے پر سرخ کھپریل کے خوبصورت مکانات نظر آتے تھے ، اب ان کی جگہ کئی منزلہ عمارتیں نظر آتی ہیں ۔ صبح پانی لینے کے لیے کنویں پر جانے والی خواتین کی قطار کے بجائے اب سڑکوں پر اسپورٹس شو ز پہنے برقع پوش خواتین واکنگ یا جاگنگ کرتی نظر آتی ہیں ، جِم بھی خوب چل رہے ہیں ۔ دراصل یہ صارفیت کا جال ہے ، جس میں خواتین کو پھانسا جا رہا ہے اور وہ پھنستی جا رہی ہیں ۔ اگر تن آسانی کے ذرائع نہیں خریدے ہوتے ، تو جِم کے سامان خریدنے کی نوبت نہیں آئی ہوتی ۔ گھر ہی کے کام کاج سے عورت کی صحت اور حسن برقرار رہ سکتا ہے ، تو پھر ان مشینوں کی کیا ضرورت ہے ۔
بات صرف خطۂ کوکن کی نہیں ہے ، اسی تناظر میں ہم پورے ملک کو دیکھ سکتے ہیں ۔ ہمیں اپنی تہذیب کی جانب لوٹنا ہوگا ، اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ہم بیل گاڑی سے سفر کرنا شروع کر دیں، بلکہ اپنی تہذیب کے حسن کو تلاش کریں کہ اسی میں زندگی کا لطف ہے۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com