طلاق ثلاثہ قانون سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے

طلاق ثلاثہ قانون سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے ، سپریم کورٹ نے اس قانون کو رد کرناچاہیے :شمشیر خان پٹھان

ہندستان میں حال ہی میں لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ پر پابندی لگانے کے لیے جو قانون پارلیمنٹ میں پاس کیا اس قانون پر ریٹائرڈ اےسی پی اور عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پانچ مہینے قبل اپنے فیصلے میں یہ صاف طور پر کہا تھا کہ طلاق ثلاثہ یہ قرآن کے مطابق نہیں ہے اور اس پر پابندی عائد کی جائے ۔ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ پر پانچ مہینے کی پابندی عائد کی تھی اور مرکزی حکومت کو کہا تھا کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون بنایا جائے ، مگر پارلیمنٹ میں جو قانون پاس کیا گیا یہ قانون سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے کیونکہ اس نئے قانون میں ایسا کہا گیا ہے کہ آج کے بعد طلاق ثلاثہ پر مکمل پابندی عائدکی جاتی ہے اورکوئی بھی شخص لکھ کر ، زبانی کہہ کر ، ایس ایم ایس کر کے یا وہاٹس ایپ کر کے تین طلاق ایک ساتھ نہیں دے سکتا ۔لیکن اس کے آگے یہ کہا ہے کہ جو بھی شخص ایک ہی نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو اس پر کیس درج کیا جائے گااور اسے تین سال کی سزا ملے گی اور ساتھ ہی میں مطلقہ کو گھر خرچ دیا جائے اور کورٹ سے بھی اس کے بچوں کی تحویل اسے دی جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ایک نشست میں تین طلاق دے گا اس سے طلاق واقع ہو جائے گا اور طلاق ہونے کی بنا ٔ پر اس پر کیس درج کیا جائے گا اور اس طرح سے حکومت سزا دے کر ایک نشست میں تین طلاق دینے کو جائز قرار دے رہی ہے جو سراسر سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ہے اور یہ توہین عدالت کا معاملہ ہے ۔ اگر ایک نشست میں تین طلاق دینا غلط ہے تو اگر کوئی شخص ایک نشست میں تین طلاق دے بھی دیتا ہے تو طلاق واقع نہیں ہونی چاہیئے اور جب طلاق واقع نہیں ہو گی تو سزا کا سوال ہی نہیں اٹھتا کیونکہ اگر کوئی گناہ نہیں ہوا تو اس کی سزا کیسے دی جا سکتی ہے ؟۔شمشیر خان پٹھان نے تمام ملک بھر کے دانشوروں اور مسلم پرسنل لا ٔ بورڈ سے گزارش کی ہے کہ اس معاملے میں ایک ساتھ آواز اٹھائیں اور سپریم کورٹ کو رجوع کر کے اس قانون کو رد کرنے کی اپیل کریں کیونکہ یہ قانون توہین عدالت کے مترادف ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com