طلاق کی وجوہات میں ایک اور وجہ کا اضافہ

نکاح یا شادی جسے کہتے ہیں ، یہ ہمارا سماجی رشتہ ہوتا ہے ۔ یہ رشتہ خون کا نہیں ہونے کے باوجود بہت ہی مضبوط اور اٹوٹ ہوتاہے ، اس کے باوجود کبھی کبھی کسی جوڑے کی زندگی میں ایسے رشتے کو توڑنے کے حالات پیدا ہو جاتےہیں ۔ ہمارے معاشرے میں طلاق دینے کا حق مرد کو ہے وہیں طلاق لینے کا حق عورت کو بھی دیا گیا ہے ، جسے خلع کہتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے قانون کے مطابق اگر مرد کی جانب سے بیوی کو ذہنی و جسمانی اذیت دی جا رہی ہو ، تو اسے حق ہے کہ عدالت سے طلاق کا مطالبہ کرے ۔ مگر اب ہندستان میں عورت کے طلاق کے مطالبے کے لیے ایک اور وجہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے ، وہ ہے گھر میں یا گھر کے قریب بیت الخلا کا نہیں ہونا ۔ اس کی تازہ مثال راجستھان کے ایک واقعے سے ملتی ہے ۔
خبروں کے مطابق ریاست راجستان میں ایک خاتون کو اس بات پر اپنے شوہر سے طلاق لینے کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اُس کا شوہر اُن کے گھر میں یا گھر کے قریب بیت الخلا نہیں  بنوا رہا تھا ۔
بیس سال کی عمرمیں اس خاتون کی شادی ہوئی تھی اور شادی کو تقریباً پانچ سال گزر چکےتھے اس پورے عرصے میں اس خاتون کو رفع حاجت کے لیے گاؤں کےقریبی کھیتوں میں جانا پڑتا تھا، جس سے وہ پریشانی محسوس کر رہی تھی۔ہندستانی قانون میں خواتین کو طلاق لینے کا حق صرف چند ہی صورتوں میں ہوتا ہے جیسے گھریلو تشدد یا بے انتہا ظلم۔
خبروں کے مطابق اس خاتون کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت کا کہنا تھا کہ کھلے آسمان تلے رفع حاجت پر کسی کو مجبور کرنا تشدد کی ایک قسم ہے۔عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کو اکثربیت الخلا نہیں ہونے کی وجہ سےشام ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ کھلے کھیتوں میں جا سکیں۔یہ بھی زیادتی ہے ۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’دیہاتوں میں خواتین کو رفعِ حاجت کے لیے شام کا انتظار کرنا پڑتا ہے،یہ نہ صرف جسمانی طور پر ظلم ہے بلکہ خواتین کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اس خاتون نے طلاق کے لیے ۲۰۱۵؍میں درخواست دی تھی۔
ملک کے دیہاتوں میں کھلے آسمان تلے رفعِ حاجت کے لیے جانا ایک عام بات ہے۔موجودہ حکومت کا ہدف ہے کہ ۲۰۱۹؍تک ہر گھر میں ایکبیت الخلا بنایا جائے تاہم اس کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔اگر ۲۰۱۹؍ تک حکومت اپنا یہ نشانہ پورا کر دے ، تو شاید مستقبل میں بیت الخلا کے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی طلاق نہ ہونے پائے ۔
دراصل بیت الخلا بھی انسانی زندگی کی ضروری سہولتوں میں سے ایک ہے ، مگر دیہاتوں میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی ہے ، جس کی وجہ کم علمی یا پھر کم مائیگی بھی ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو اس کی ضرورت کی اہمیت سے آگاہ کرے اور بیت الخلا کی تعمیر میں تعاون کرے ۔ اکثر بیت الخلا کی اہمیت کے تعلق سے ٹی وی پر اشتہارات آتے ہیں ، جنہیں وہ لوگ دیکھتے ہیں ، جن کے گھروں میں بیت الخلا ہیںیا جن کے گھروں کے قریب میں سرکاری شوچالئے ہیں ۔ ملک کے کچھ دیہات ایسے ہیں جہاں ٹی وی ، تو کیا بجلی کی بھی رسائی نہیں ہے اور وہاں کے عوام رفع حاجت کے لیے کھیتوں میں جاتے ہیں ، ان کے لیے یہ اشتہارات ایسے ہیں ، جیسے ’’ جنگل میں مور ناچا ، کس نے دیکھا ۔ ‘‘ اشتہارات پر خرچ کرنے کے بجائے اگر حکومت بیت الخلا کی تعمیرات پر خرچ کرے تو مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com