گوہر جان معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ

گوہر جان معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ

۲۶؍ جون ۱۸۷۳؍ میں اعظم گڑھ کے آرمینی نسل کے ایک ڈرائی آئس فیکٹری انجنیئر ولیم رابرٹ ییوارڈ کےگھر میں پیدا ہونے والی لڑکی کا نام انجیلنا پیوارڈ رکھا گیا تھا ۔ انجلینا نے اعظم گڑھ کے ایک میتھڈسٹ چرچ میں بپتسمہ لیا۔ اس کی ماں وکٹوریہ ہیمنگز بھی ایک کلاسیکی رقاصہ اور گلوکارہ تھی۔ آگے چل کر وکٹوریہ کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہوئی تو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بنارس کے ایک مسلم شخص خورشید کے ساتھ رہنے لگی۔ خورشید فنون لطیفہ کا دلدادہ تھا، اس دوران دونوں ماں بیٹی نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس طرح وکٹوریہ نے اپنا نام ملکہ جان رکھا، جبکہ اپنی بیٹی انجلینا کا نام گوہر جان رکھا۔ بنارس ان دنوں فنون لطیفہ کا ایک اہم مرکز تھا، ملکہ جان نے گائیکی اور رقص کا پیشہ اختیار کیا اور رقص و موسیقی میں تربیت کے آٹھ سال گزارنے کے بعد بائی جی کہلانے لگیں۔اسی دوران انہوں نے اپنی بیٹی گوہر جان کی بھی اسی انداز سے تربیت کی ۔ کہت ہیں اولیت اسے حاصل ہوتی ہے ، جو کسی کام کو سب سے پہلے کرے ۔ بیسویں صدی کے اوائل تک انگلستان، امریکا، فرانس اور جرمنی کی متعدد گراموفون کمپنیاں ایشیائی اور خاص طور پر ہندستان میں گراموفون ریکارڈ کی ممکنہ صنعت کی طرف متوجہ ہو رہی تھیں۔اس دوران ہندستان سے جو نام ابھر کر آیا ، وہ تھا گوہر جان ۔ رکارڈنگ کے آخر میں یہ آواز سنائی دیتی تھی ’’ مائی نیم از گوہر جان ۔‘‘یہ ہندستانی خاتون کی پہلی آواز تھی ۔
۱۸۹۸؍ میں جب گراموفون کمپنی لندن نے اپنی پہلی گراموفون ریکارڈنگ مہم کے آغاز پر ایک مقامی ایجنٹ کو مامور کیا لیکن اس نے چند اینگلو ہندستانی آوازوں کی ریکارڈنگ پر اکتفا کیا، کسی ہندستانی فن کار کی آواز کو اس ریکارڈنگ مہم کا حصہ نہیں بنایا۔ اس مہم کے آغاز سے تین ہفتے پہلے ہی گراموفون کمپنی لندن کے فریڈرک ولیم گیسبرگ کلکتے پہنچ چکے تھے۔ گیسبرگ گراموفون ریکارڈنگ کے باواآدم ایمیلے برلینر کے معاون تھے۔ گیسبرگ نے موسیقی کی مقامی محافل اور تھئیٹروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مقامی پولیس سپرنٹنڈنٹ کی مدد حاصل کی۔ بالآخر وہ ایک ایسی فنکارہ کو منتخب کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ہندستان میں پہلے سے ہی ہر خاص و عام کی پسند تھی۔ گوہر جان نے ۳۰۰۰؍روپے کے معاوضے پر راگ جوگیا میں گائے گئے ایک خیال سے اس ریکارڈنگ کا آغاز کیا۔۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ ؍ کو کلکتے کے ایک ہوٹل میں صبح ۹؍ بجے گوہر جان اپنے سازندوں کے ساتھ پہلی ریکارڈنگ کروانے پہنچ گئی تھیں۔ بھیروی میں گائے گئے تین منٹ دورانیے کے اس ریکارڈ کے آخر پر وہ انگریزی میں یہ کہتی ہوئی سنائی دیتی ہے؛ ’’مائی نیم از گوہر جان‘‘۔ اس زمانے میں ریکارڈ پر لیبل لگانے میں آسانی کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا ،جو گوہر جان کے متعدد ریکارڈز کے آخر پر سننے میں آتا ہے۔
گوہر جان نے ایک شاہانہ زندگی بسر کی، لیکن اس کی نجی تعلقات کے حوالے سے متعدد تلخیاں بھی اس کی زندگی کا حصہ رہیں۔ وہ گھڑ سواری کی رسیا تھی، اس کے دن کا زیادہ تر حصہ انجانی بائی مالپیکر کے ساتھ مہالکشمی ریس کورس میں گھڑ سواری میں گزرتا جبکہ شامیں اور راتیں عوامی اور خاص مواقع پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں۔ وہ چار گھوڑوں کی بگھی میں سفر کرتی تھیں ۔
گوہر جان معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ تھیں۔ وہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے ۷۸؍آر پی ایم ریکارڈ پر کے لیے گانا ریکارڈ کروانے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ ہیں۔ انہیںکلکتہ کی پہلی رقاصہ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے بنگالی،ہندی،گجراتی، تامل، مراٹھی، پشاوری، عربی، فارسی، پشتو، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں اور متعدد اصناف موسیقی میں اپنی گائیکی ریکارڈ کروائی۔ گوہر جان بادشاہ جارج پنجم، نواب واجد علی شاہ اور کرشنا راجا واڈیار چہارم والئ میسور سمیت متعدد امرا کے دربار کے ساتھ وابستہ رہیں۔اپنی رسمی تربیت مکمل ہونے کے بعد گوہر جان نے اپنے فن کا سب سے پہلا مظاہرہ ریاست دربھنگا میں پندرہ سال کی عمر میں کیا۔
۱۸۸۳؍ میں  گوہر جان اپنی ماں اور خورشید کے ہمراہ کلکتہ چلی آئی۔نوعمر گوہر جان کی فنی تربیت کے لیے یکتائے زمانہ اساتذۂ فن کو مامور کیا گیا۔ گوہر جان نے ہندستانی کلاسیکی گائیکی اور کچا گانا کی تربیت استاد کالے خاں آف پٹیالہ(کالو استاد)، استاد وزیر خاں آف رامپور اور استاد علی بخش (پٹیالہ گھرانہ کے بانی) سے حاصل کی، کتھک کی تربیت بریندادین مہاراج (برجو مہاراج کے چچا دادا) سے ،دھرپد دھمار کی تربیت سریجن بائی سے پائی اور بنگالی کیرتن، چرن داس سے سیکھا۔ ان کے علاوہ اس نے اپنے معاصر فنکاروں مثلا موج الدین خاں، بھیا گنپت راؤ اور پیارا صاحب سے بھی اکتساب فن کیا۔ گوہر جان ایک غزل گو شاعرہ بھی تھی اور شاعری میں ہمدم تخلص کرتی تھی۔ اس نے ٹیگور کے لکھے ہوئے متعدد گیت بھی گائے، جو بعد ازاں بنگالی گائیکی میں ‘رابندر کے اصطلاحی نام سے معروف ہوئے ہیں۔
گوہر جان نے راگداری سنگیت، ٹھمری، دادرا، بھجن، کجری، چیٹی اور ترانہ گائیکی میں کمال اور بے پناہ شہرہ پایا۔ اس نے پورے ہندستان کا سفر کیا اور ملک کی سب سے مؤقر موسیقی کانفرنسوں میں شرکت کی۔وہ شاہانہ زندگی گزارنے کی عادی اور شوقین تھیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com